يَعْتَذِرُوْنَ (11)

سورۃ یونس (10)

(11-20)

وَ لَوْ يُعَجِّلُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُمْ بِالْخَيْرِ لَقُضِيَ اِلَيْهِمْ اَجَلُهُمْ١ؕ فَنَذَرُ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ 10|11

اگر خدا لوگوں کو نقصان پہنچانے میں اس طرح جلدی کرتا جس طرح یہ لوگ اپنی بھلائی کے لئے جلدی کرتے ہیں یعنی اگر ہر برائی کا برا نتیجہ فوراً سامنے آجاتا تو ان کی مدت (عمر) کبھی کی پوری ہو چکی ہوتی مگر ہمارے قانون (سزا میں ڈھیل ہے) اس لئے ہم تو ان لوگوں کو بھی اپنی سرکشیوں میں بھٹکنے کے لئے چھوڑ دیتے ہیں جو مرنے کے بعد ہماری بارگاہ میں حضوری کی امید نہیں رکھتے۔

وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْۢبِهٖۤ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَآىِٕمًا١ۚ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنْ لَّمْ يَدْعُنَاۤ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٗ١ؕ كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلْمُسْرِفِيْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 10|12

جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ کروٹ کے بل لیٹے یا بیٹھے یا کھڑے ہوئے (ہر حال میں) ہمیں پکارتا ہے اور جب ہم اس کی تکلیف دور کر دیتے ہیں تو وہ اس طرح (منہ موڑ کے) چل دیتا ہے جیسے اس نے کسی تکلیف میں جو اسے پہنچی تھی کبھی ہمیں پکارا ہی نہ تھا اسی طرح حد سے گزرنے والوں کے لیے ان کے وہ عمل خوشنما بنا دیئے گئے ہیں جو وہ کرتے رہے ہیں۔

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا١ۙ وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ وَ مَا كَانُوْا لِيُؤْمِنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِي الْقَوْمَ الْمُجْرِمِيْنَ 10|13

اور بالیقین ہم تم سے پہلے (بہت سی) نسلوں کو ہلاک کر چکے ہیں جب انہوں نے ظلم کی راہ و روش اختیار کی۔ اور ان کے رسول ان کے پاس کھلی نشانیاں (معجزے) لے آئے مگر وہ ایسے تھے ہی نہیں کہ ایمان لاتے ہم اسی طرح مجرم لوگوں کو سزا دیتے ہیں۔

ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰٓىِٕفَ فِي الْاَرْضِ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ 10|14

پھر ہم نے ان (نسلوں) کے بعد تمہیں روئے زمین پر ان کا جانشین بنایا تاکہ ہم دیکھیں کہ تم کیسے کام کرتے ہو؟

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيَاتُنَا بَيِّنٰتٍ١ۙ قَالَ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَيْرِ هٰذَاۤ اَوْ بَدِّلْهُ١ؕ قُلْ مَا يَكُوْنُ لِيْۤ اَنْ اُبَدِّلَهٗ مِنْ تِلْقَآئِ نَفْسِيْ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا يُوْحٰۤى اِلَيَّ١ۚ اِنِّيْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَيْتُ رَبِّيْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ 10|15

اور جب انہیں ہماری آیاتِ بینات (واضح آیتیں) پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جو لوگ مرنے کے بعد ہماری بارگاہ میں حاضری کی توقع نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ کوئی اور قرآن لاؤ یا اس میں رد و بدل کر دو۔ آپ کہہ دیجیے! کہ مجھے یہ حق نہیں ہے کہ میں اپنی طرف سے اس میں کچھ رد و بدل کر دوں! میں تو بس اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی جاتی ہے اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو میں ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔

قُلْ لَّوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا تَلَوْتُهٗ عَلَيْكُمْ وَ لَاۤ اَدْرٰىكُمْ بِهٖ١ۖ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ 10|16

اے رسول(ص)) کہہ دیجیے! اگر خدا چاہتا تو میں تمہیں قرآن پڑھ کر نہ سناتا اور نہ ہی وہ تمہیں اس پر مطلع فرماتا۔ آخر میں تو اس سے پہلے تمہارے درمیان ایک عمر گزار چکا ہوں کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰيٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ 10|17

پھر اس سے بڑھ کر کون ظالم ہو سکتا ہے جو خدا پر جھوٹا افترا باندھے؟ یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے یقینا مجرم کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔

وَ يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَضُرُّهُمْ وَ لَا يَنْفَعُهُمْ وَ يَقُوْلُوْنَ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ اَتُنَبِّـُٔوْنَ اللّٰهَ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِي الْاَرْضِ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ 10|18

یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ انہیں نقصان پہنچا سکتی ہیں اور نہ فائدہ اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں (اے رسول(ص)) تم کہو۔ کیا تم اللہ کو اس چیز کی اطلاع دیتے ہو جو خود اسے نہ آسمانوں میں معلوم ہے اور نہ زمین میں۔ پاک ہے اس کی ذات اور بلند و بالا ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔

وَ مَا كَانَ النَّاسُ اِلَّاۤ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَاخْتَلَفُوْا١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ فِيْمَا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ 10|19

اور (ابتداء میں) سب انسان ایک ہی امت تھے (دینِ فطرت پر تھے) پھر آپس میں اختلاف کیا اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک طئے شدہ بات نہ ہوتی (کہ اعمال کی جزا و سزا آخرت میں ہوگی) تو جن باتوں میں یہ لوگ باہم اختلاف کر رہے ہیں اس کا فیصلہ کر دیا گیا ہوتا۔

وَ يَقُوْلُوْنَ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَيْهِ اٰيَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ۚ فَقُلْ اِنَّمَا الْغَيْبُ لِلّٰهِ فَانْتَظِرُوْا١ۚ اِنِّيْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِيْنَ 10|20

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ ان (پیغمبر(ص)) پر ان کے پروردگار کی طرف سے (ان کی مطلوبہ) کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوتی؟ کہہ دیجیئے کہ غیب کا علم اللہ سے مخصوص ہے سو تم انتظار کرو۔ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔