يَعْتَذِرُوْنَ (11)

سورۃ یونس (10)

(81-90)

فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰى مَا جِئْتُمْ بِهِ١ۙ السِّحْرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَيُبْطِلُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِيْنَ 10|81

جب وہ (رسیاں وغیرہ) پھینک چکے۔ تو موسیٰ نے کہا جو کچھ تم لائے ہو یہ جادو ہے (نہ وہ جو میں لایا ہوں) یقینا اللہ اسے بھی ملیامیٹ کر دے گا کیونکہ قانونِ قدرت ہے کہ اللہ مفسدین کے کام کو بننے نہیں دیتا۔

وَ يُحِقُّ اللّٰهُ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ 10|82

اور اللہ حق کو اپنے کلمات کے ذریعہ سے ضرور حق ثابت کر دکھاتا ہے اگرچہ مجرموں کو ناپسند ہی ہو۔

فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوْسٰۤى اِلَّا ذُرِّيَّةٌ مِّنْ قَوْمِهٖ عَلٰى خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡىِٕهِمْ اَنْ يَّفْتِنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِي الْاَرْضِ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الْمُسْرِفِيْنَ 10|83

پس موسیٰ پر ان کی قوم کے چند نوجوانوں کے ایک گروہ کے سوا اور کوئی ایمان نہیں لایا اور وہ (ایمان لانے والے) بھی فرعون اور اپنی قوم کے سرداروں سے ڈرتے ہوئے ایمان لائے۔ کہ کہیں وہ انہیں آزمائش (اور مصیبت) میں نہ ڈال دے اور بے شک فرعون زمین میں بڑا سرکش (بادشاہ) تھا اور حد سے بڑھ جانے والوں میں سے تھا۔

وَ قَالَ مُوْسٰى يٰقَوْمِ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّسْلِمِيْنَ 10|84

اور موسیٰ نے کہا اے میری قوم! اگر تم واقعی اللہ پر ایمان لائے ہو تو پھر اسی پر بھروسہ کرو۔ اگر تم فی الحقیقت مسلمان ہو۔

فَقَالُوْا عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ 10|85

انہوں نے (جواب میں) کہا ہم اللہ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں (اور دعا کرتے ہیں) اے ہمارے پروردگار ہمیں ظالم لوگوں کیلئے آزمائش کا موجب نہ بنا (ان کے ظلم کا تختہ مشق نہ بنا)۔

وَ نَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ 10|86

اور ہمیں اپنی رحمت سے ظالموں (کے پنجۂ ظلم) سے نجات عطا فرما۔

وَ اَوْحَيْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰى وَ اَخِيْهِ اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُيُوْتًا وَّ اجْعَلُوْا بُيُوْتَكُمْ قِبْلَةً وَّ اَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِيْنَ 10|87

اور ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی (ہارون) کی طرف وحی کی کہ مصر میں اپنی قوم کے لئے چند گھر مہیا کرو (بناؤ) اور اپنے گھروں کو قبلہ رخ بنائیں (یا اپنے گھروں کو ہی قبلہ بنائیں) اور نماز قائم کریں اور (اے موسیٰ اہلِ ایمان کو) کامیابی کی بشات دیں۔

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاَهٗ زِيْنَةً وَّ اَمْوَالًا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا١ۙ رَبَّنَا لِيُضِلُّوْا عَنْ سَبِيْلِكَ١ۚ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰۤى اَمْوَالِهِمْ وَ اشْدُدْ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوْا حَتّٰى يَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِيْمَ 10|88

اور موسیٰ نے (دعا مانگتے ہوئے) کہا اے ہمارے پروردگار تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیاوی زندگی میں زیب و زینت (کی چیزوں) اور بہت سے مال و دولت سے نوازا ہے۔ اے پروردگار! اس کا نتیجہ اور انجام یہ ہے کہ وہ (تیرے بندوں کو) تیرے راستہ سے بہکاتے ہیں۔ اے ہمارے مالک، ان کے مالوں کو نابود کر دے اور ان کے دلوں کو سخت کر دے تاکہ جب تک دردناک عذاب نہ دیکھ لیں ایمان نہ لائیں (اور اس وقت ایمان کا لانا سودمند نہ ہوگا)۔

قَالَ قَدْ اُجِيْبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيْمَا وَ لَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِيْلَ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ 10|89

اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم دونوں کی دعا قبول کر لی گئی ہے سو تم ثابت قدم رہو۔ اور ان لوگوں کی پیروی نہ کرو۔ جو (حق و حقیقت کا) علم نہیں رکھتے۔

وَ جٰوَزْنَا بِبَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ الْبَحْرَ فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَ جُنُوْدُهٗ بَغْيًا وَّ عَدْوًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَدْرَكَهُ الْغَرَقُ١ۙ قَالَ اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِيْۤ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْۤا اِسْرَآءِيْلَ وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ 10|90

اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار اتار دیا پھر فرعون اور اس کے لشکر نے سرکشی اور ظلم و تعدی سے ان کا پیچھا کیا یہاں تک کہ جب وہ (فرعون) (دریا میں) غرق ہونے لگا تو کہنے لگا کہ میں ایمان لاتا ہوں (مانتا ہوں) کہ اس ہستی کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں مسلمانوں (فرمانبرداروں) میں سے ہوں۔