وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ (12)

سورۃ یوسف (12)

(11-20)

قَالُوْا يٰۤاَبَانَا مَا لَكَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰى يُوْسُفَ وَ اِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوْنَ 12|11

اس قرارداد کے بعد) انہوں نے کہا اے ہمارے والد! کیا بات ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہمارا اعتبار نہیں کرتے حالانکہ ہم تو اس کے بڑے خیرخواہ ہیں۔

اَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا يَّرْتَعْ وَ يَلْعَبْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ 12|12

کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجیے تاکہ وہ کچھ کھائے پیئے اور کھیلے کودے ہم اس کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں۔

قَالَ اِنِّيْ لَيَحْزُنُنِيْۤ اَنْ تَذْهَبُوْا بِهٖ وَ اَخَافُ اَنْ يَّاْكُلَهُ الذِّئْبُ وَ اَنْتُمْ عَنْهُ غٰفِلُوْنَ 12|13

آپ (ع) نے کہا تمہارا اسے اپنے ہمراہ لے جانا مجھے غمگین کرتا ہے اور مجھے یہ اندیشہ بھی ہے کہ تم غفلت کرو اور اسے کوئی بھیڑیا کھا جائے۔

قَالُوْا لَىِٕنْ اَكَلَهُ الذِّئْبُ وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ اِنَّاۤ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ 12|14

انہوں نے کہا کہ اگر اسے بھیڑیا کھا جائے جبکہ ہماری پوری جماعت (حفاظت کے لئے) موجود ہے تو پھر تو ہم گھاٹا اٹھانے والے (اور بالکل گئے گزرے) ہوں گے۔

فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَ اَجْمَعُوْۤا اَنْ يَّجْعَلُوْهُ فِيْ غَيٰبَتِ الْجُبِّ١ۚ وَ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ هٰذَا وَ هُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ 12|15

پھر جب وہ (اصرار کرکے) اسے لے گئے اور سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اسے اندھے کنویں میں ڈال دیں (چنانچہ ایسا ہی کیا)۔ اور ہم نے (اس وقت) اس (یوسف) کی طرف وحی کی کہ (ایک وقت آئے گا کہ) تم ان لوگوں کو ان کی یہ حرکت جتاؤگے جبکہ انہیں اس کا شعور نہیں ہوگا۔

وَ جَآءُوْۤ اَبَاهُمْ عِشَآءً يَّبْكُوْنَ 12|16

اور وہ شام کے وقت اپنے والد کے پاس روتے ہوئے آئے۔

قَالُوْا يٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَ تَرَكْنَا يُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئْبُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَ لَوْ كُنَّا صٰدِقِيْنَ 12|17

اور کہا اے ہمارے والد! ہم تو آپس میں دوڑ میں لگ گئے اور یوسف کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ گئے بس ایک بھیڑیا آیا اور اسے کھا گیا۔ اور اگرچہ ہم سچے ہی ہوں مگر آپ تو ہماری بات کا یقین نہیں کرتے۔

وَ جَآءُوْ عَلٰى قَمِيْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ١ؕ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ١ؕ وَ اللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ 12|18

اور وہ اس (یوسف (ع)) کے کُرتے پر جھوٹا خون لگا کر لائے۔ آپ (ع) نے کہا (یہ جھوٹ ہے) بلکہ تمہارے نفسوں نے (اپنے بچاؤ کیلئے) یہ بات گھڑ کر تمہیں خوشنما دکھا دی ہے (بہرحال اس سانحہ پر) صبر کرنا ہی بہتر ہے اور جو کچھ تم بیان کر رہے ہو اس سلسلہ میں اللہ ہی سے مدد مانگی جا سکتی ہے۔

وَ جَآءَتْ سَيَّارَةٌ فَاَرْسَلُوْا وَارِدَهُمْ فَاَدْلٰى دَلْوَهٗ١ؕ قَالَ يٰبُشْرٰى هٰذَا غُلٰمٌ١ؕ وَ اَسَرُّوْهُ بِضَاعَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِمَا يَعْمَلُوْنَ 12|19

اور ایک قافلہ آیا (اور وہاں اترا) تو انہوں نے (پانی لانے کیلئے) اپنا سقا بھیجا۔ پس اس نے جونہی اپنا ڈول ڈالا۔ (تو یوسف اس میں بیٹھ گئے جب ڈول کھینچا) تو پکار اٹھا۔ مبارک باد یہ تو ایک لڑکا ہے اور ان لوگوں نے اسے سرمایۂ تجارت سمجھ کر چھپا رکھا اور وہ لوگ جو کچھ کر رہے تھے اللہ اس سے خوب واقف تھا۔

وَ شَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍ١ۚ وَ كَانُوْا فِيْهِ مِنَ الزَّاهِدِيْنَ 12|20

اور (ادھر برادرانِ یوسف بھی آپہنچے اور یوسف کو اپنا غلام ظاہر کرکے) بالکل کم قیمت پر یعنی گنتی کے چند درہموں کے عوض بیج ڈالا۔ اور ان (بھائیوں) کو اس میں کوئی دلچسپی نہ تھی (بلکہ اس سے بیزار تھے)۔