وَ مَاۤ اُبَرِّئُ (13)

سورۃ یوسف (12)

(91-100)

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَيْنَا وَ اِنْ كُنَّا لَخٰطِـِٕيْنَ 12|91

انہوں (بھائیوں) نے (شرمسار ہوکر) کہا بے شک اللہ نے تمہیں ہم پر برتری عطا فرمائی ہے اور بے شک ہم خطاکار ہیں۔

قَالَ لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ١ؕ يَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ١ وَ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ 12|92

آپ (ع) نے کہا آج تم پر کوئی الزام (اور لعنت ملامت) نہیں ہے اللہ تمہیں معاف کرے اور وہ بڑا رحم کرنے والا (مہربان) ہے۔

اِذْهَبُوْا بِقَمِيْصِيْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰى وَجْهِ اَبِيْ يَاْتِ بَصِيْرًا١ۚ وَ اْتُوْنِيْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِيْنَ 12|93

بعد ازاں) کہا میری قمیص لے جاؤ اور اسے میرے والد کے چہرے پر ڈال دو ان کی بینائی پلٹ آئے گی (وہ بینا ہو جائیں گے) اور پھر اپنے سب اہل و عیال کو (یہاں) میرے پاس لے آؤ۔

وَ لَمَّا فَصَلَتِ الْعِيْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّيْ لَاَجِدُ رِيْحَ يُوْسُفَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ 12|94

اور جب (مصر سے) قافلہ روانہ ہوا تو ان کے باپ نے (کنعان میں) کہا اگر تم مجھے مخبوط الحواس نہ سمجھو تو میں یوسف (ع) کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں۔

قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِيْ ضَلٰلِكَ الْقَدِيْمِ 12|95

ان (گھر والوں) نے کہا خدا کی قسم آپ اپنی پرانی غلطی میں مبتلا ہیں۔

فَلَمَّاۤ اَنْ جَآءَ الْبَشِيْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰى وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِيْرًا١ۚ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ١ۙۚ اِنِّيْۤ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ 12|96

پھر جب خوشخبری دینے والا آیا (اور) وہ قمیص ان کے چہرہ پر ڈالی تو وہ فوراً بینا ہوگئے اور کہا کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔

قَالُوْا يٰۤاَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَاۤ اِنَّا كُنَّا خٰطِـِٕيْنَ 12|97

انہوں (بیٹوں) نے کہا اے ہمارے باپ (خدا سے) ہمارے گناہوں کی مغفرت طلب کریں یقینا ہم خطاکار تھے۔

قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ 12|98

آپ (ع) نے کہا میں عنقریب تمہارے لئے اپنے پروردگار سے مغفرت طلب کروں گا بے شک وہ بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى يُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَيْهِ اَبَوَيْهِ وَ قَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ 12|99

جب وہ سب لوگ کنعان سے روانہ ہو کر یوسف (ع)کے پاس (مصر میں) پہنچے تو انہوں نے اپنے ماں باپ کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا (اب) مصر میں داخل ہو خدا نے چاہا تو یہاں امن و اطمینان سے رہوگے۔

وَ رَفَعَ اَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَ خَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا١ۚ وَ قَالَ يٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ مِنْ قَبْلُ١ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّيْ حَقًّا١ؕ وَ قَدْ اَحْسَنَ بِيْۤ اِذْ اَخْرَجَنِيْ مِنَ السِّجْنِ وَ جَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّيْطٰنُ بَيْنِيْ وَ بَيْنَ اِخْوَتِيْ١ؕ اِنَّ رَبِّيْ لَطِيْفٌ لِّمَا يَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ 12|100

اور (دربار میں پہنچ کر) اپنے ماں باپ کو تختِ شاہی پر (اونچا) بٹھایا اور سب اس کے سامنے سجدہ (شکر) میں جھک گئے (اس وقت) یوسف (ع) نے کہا اے بابا یہ میرے اس خواب کی تعبیر ہے جو (بہت عرصہ) پہلے میں نے دیکھا تھا جسے میرے پروردگار نے سچ کر دکھایا ہے اور اس نے مجھ پر بڑا احسان کیا کہ مجھے قید خانہ سے نکالا اور آپ لوگوں کو صحراء (گاؤں) سے یہاں (شہر میں) لایا۔ بعد اس کے کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان اختلاف و فساد ڈال دیا تھا بے شک میرا پروردگار جو کام کرنا چاہتا ہے اس کی بہترین تدبیر کرنے والا ہے بلاشبہ وہ بڑا جاننے والا، بڑا حکمت والا ہے۔