لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ يَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ 13|11
انسان کے آگے اور پیچھے (خدا کے مقرر کردہ) نگہبان ہیں جو اللہ کے حکم سے باری باری اس کی حفاظت کرتے ہیں بے شک اللہ کسی قوم کی اس حالت کو نہیں بدلتا جو اس کی ہے جب تک قوم خود اپنی حالت کو نہ بدلے اور جب خدا کسی قوم کو (اس کے عمل کی پاداش میں) کوئی تکلیف پہنچانا چاہتا ہے تو وہ ٹل نہیں سکتی (پہنچ کر ہی رہتی ہے)۔ اور نہ ہی اللہ کے سوا ان کا کوئی حامی و مددگار ہے۔
هُوَ الَّذِيْ يُرِيْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ يُنْشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَ 13|12
وہ وہی (خدا) ہے جو ڈرانے اور امید دلانے کے لئے بجلی (کی چمک) دکھاتا ہے اور (دوش ہوا پر) بوجھل بادل پیدا کرتا ہے۔
وَ يُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهٖ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ مِنْ خِيْفَتِهٖ١ۚ وَ يُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَيُصِيْبُ بِهَا مَنْ يَّشَآءُ وَ هُمْ يُجَادِلُوْنَ فِي اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ شَدِيْدُ الْمِحَالِ 13|13
بادل کی گرج اور فرشتے بھی اس کے خوف سے اس کی حمد و ثنا کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں اور وہ آسمانی بجلیاں گراتا ہے اور جسے چاہتا ہے ان کی زد میں لاتا ہے درآنحالیکہ وہ لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑ رہے ہوتے ہیں جبکہ وہ بڑا زبردست قوت والا ہے۔
لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَجِيْبُوْنَ لَهُمْ بِشَيْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّيْهِ اِلَى الْمَآءِ لِيَبْلُغَ فَاهُ وَ مَا هُوَ بِبَالِغِهٖ١ؕ وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِيْنَ اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ 13|14
تکلیف کے وقت) اسی کو پکارنا برحق ہے اور اسے چھوڑ کر جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں وہ انہیں کچھ بھی جواب نہیں دے سکتے ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی (پیاسا) اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلائے کہ وہ (پانی) اس کے منہ تک پہنچ جائے حالانکہ وہ اس تک پہنچنے والا نہیں ہے اور کافروں کی دعا و پکار گمراہی میں بھٹکتی پھرتی ہے۔
وَ لِلّٰهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ ظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَال ۩13|15
اور جو آسمانوں اور زمینوں میں ہیں وہ سب خوشی یا ناخوشی سے اللہ کو ہی سجدہ کر رہے ہیں اور ان کے سائے بھی صبح و شام (اسی کو سجدہ کناں ہیں)۔
قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِيَآءَ لَا يَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا١ؕ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْاَعْمٰى وَ الْبَصِيْرُ١ۙ۬ اَمْ هَلْ تَسْتَوِي الظُّلُمٰتُ وَ النُّوْرُ١ۚ۬ اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِهٖ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَيْهِمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَّ هُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ 13|16
اے رسول) ان سے کہو (پوچھو) آسمانوں اور زمین کا پروردگار کون ہے؟ (خود ہی) بتائیے کہ اللہ (نیز) ان سے کہو۔ کیا تم نے اللہ کو چھوڑ کر کچھ کارساز بنا لئے ہیں؟ جو اپنے نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے کہہ دیجئے کہ کیا اندھا اور آنکھوں والا دونوں برابر ہیں اور کیا نور و ظلمت (اندھیرا اور اجالا) یکساں ہیں؟ کیا ان لوگوں نے اللہ کے کچھ ایسے شریک بنائے ہیں جنہوں نے اللہ کی طرح کچھ مخلوق خلق کی ہے؟ جس کی وجہ سے تخلیق کا یہ معاملہ ان پر مشتبہ ہوگیا ہے؟ کہہ دیجیئے کہ ہر چیز کا خالق اللہ ہی ہے وہ یگانہ ہے اور سب پر غالب ہے۔
اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتْ اَوْدِيَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّيْلُ زَبَدًا رَّابِيًا١ؕ وَ مِمَّا يُوْقِدُوْنَ عَلَيْهِ فِي النَّارِ ابْتِغَآءَ حِلْيَةٍ اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ يَضْرِبُ اللّٰهُ الْحَقَّ وَ الْبَاطِلَ١ؕ۬ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَآءً١ۚ وَ اَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْاَرْضِ١ؕ كَذٰلِكَ يَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ 13|17
اسی (اللہ) نے آسمان سے پانی برسایا جس سے ندی نالے اپنی مقدار کے مطابق بہنے لگے اور (میل کچیل سے جھاگ اٹھا تو) سیلاب کی رو نے اس ابھرے ہوئے جھاگ کو اٹھا لیا اور جن چیزوں (دھاتوں) کو لوگ زیور یا کوئی اور چیز (برتن وغیرہ) بنانے کے لیے آگ کے اندر تپاتے ہیں ان سے بھی ایسا ہی جھاگ اٹھتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ حق و باطل کی مثال بیان کرتا ہے پس جو جھاگ ہے وہ تو رائیگاں چلا جاتا ہے اور جو چیز (پانی اور دھات) لوگوں کو فائدہ پہنچاتی ہے وہ زمین میں باقی رہ جاتی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ سمجھانے کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے۔
لِلَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰى ١ؔؕ وَ الَّذِيْنَ لَمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْحِسَابِ١ۙ۬ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ 13|18
جن لوگوں نے اپنے پروردگار کی دعوت پر لبیک کہا (اسے قبول کیا) ان کے لئے بھلائی (ہی بھلائی) ہے اور جنہوں نے اسے قبول نہیں کیا۔ تو اگر ان کو روئے زمین کی سب دولت مل جائے اور اس کے ساتھ اتنی ہی اور ان کے اختیار میں آجائے تو یہ لوگ اسے اپنے بدلے (عذاب سے بچنے کے لیے) بطور فدیہ دے دیں۔ یہی لوگ ہیں جن کا سخت حساب ہوگا۔ اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور (وہ) کیا ہی برا ٹھکانا ہے۔
اَفَمَنْ يَّعْلَمُ اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى ١ؕ اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِۙ 13|19
اے (رسول(ص)) کیا جو شخص یہ جانتا ہے کہ جو کچھ آپ پر آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے وہ حق ہے وہ اس شخص کی مانند ہو سکتا ہے جو بالکل اندھا ہے؟ نصیحت تو بس وہی قبول کرتے ہیں جو دانشمند ہوتے ہیں (اور وہی اس بات کو سمجھ سکتے ہیں)۔
الَّذِيْنَ يُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ لَا يَنْقُضُوْنَ الْمِيْثَاقَ 13|20
وہ جو اللہ سے کئے ہوئے عہد وپیمان کو پورا کرتے ہیں اور عہد شکنی نہیں کرتے۔