سُبْحٰنَ الَّذِيْۤ (15)

سورۃ الاسراء (17)

(51-60)

اَوْ خَلْقًا مِّمَّا يَكْبُرُ فِيْ صُدُوْرِكُمْ١ۚ فَسَيَقُوْلُوْنَ مَنْ يُّعِيْدُنَا١ؕ قُلِ الَّذِيْ فَطَرَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ۚ فَسَيُنْغِضُوْنَ اِلَيْكَ رُءُوْسَهُمْ وَ يَقُوْلُوْنَ مَتٰى هُوَ١ؕ قُلْ عَسٰۤى اَنْ يَّكُوْنَ قَرِيْبًا 17|51

یا کوئی اور ایسی چیز (جس کا دوبارہ پیدا ہونا) تمہارے خیال میں بڑا (مشکل) ہو (بہرحال تمہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا) وہ (یہ سن کر) ضرور کہیں گے کہ کون ہمیں دوبارہ (زندہ کرکے) لائے گا؟ کہہ دیجیے! وہی جس نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا پس وہ اپنے سر جھکا کر کہیں گے کہ کب ایسا ہوگا؟ کہہ دیجئے! کہ شاید بالکل قریب ہو۔

يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَ تَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا 17|52

وہی دن کہ جب (خدا) تمہیں بلائے گا تو تم اس کی حمد کے ساتھ لبیک کہوگے اور خیال کروگے تم بہت تھوڑی مدت (عالمِ برزخ میں) رہے ہو۔

وَ قُلْ لِّعِبَادِيْ يَقُوْلُوا الَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ١ؕ اِنَّ الشَّيْطٰنَ يَنْزَغُ بَيْنَهُمْ١ؕ اِنَّ الشَّيْطٰنَ كَانَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوًّا مُّبِيْنًا 17|53

اے رسول) میرے بندوں سے کہہ دو کہ وہ (لوگوں سے) ایسی بات کریں جو بہترین ہو۔ بے شک شیطان ان کے درمیان فساد ڈالتا ہے۔ یقیناً شیطان انسان کا کھلا ہوا دشمن ہے۔

رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِكُمْ١ؕ اِنْ يَّشَاْ يَرْحَمْكُمْ اَوْ اِنْ يَّشَاْ يُعَذِّبْكُمْ١ؕ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَيْهِمْ وَكِيْلًا 17|54

تمہارا پروردگار تمہیں خوب جانتا ہے وہ اگر چاہے تو تم پر رحم کرے اور اگر چاہے تو تمہیں سزا دے۔ (اے رسول(ص)) ہم نے آپ کو ان پر داروغہ بنا کر نہیں بھیجا۔

وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِمَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ لَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِيّٖنَ عَلٰى بَعْضٍ وَّ اٰتَيْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا 17|55

آپ کا پروردگار خوب جانتا ہے ان کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور ہم نے بعض بندوں کو بعض پر فضیلت دی ہے اور ہم نے داؤد کو زبور عطا کی۔

قُلِ ادْعُوا الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ فَلَا يَمْلِكُوْنَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ وَ لَا تَحْوِيْلًا 17|56

اے رسول(ص)) ان لوگوں سے کہہ دو کہ جنہیں تم اللہ کے سوا (کارساز) سمجھتے ہو۔ ذرا انہیں پکار کر دیکھو۔ وہ نہ تو تم سے تکلیف دور کر سکتے ہیں اور نہ ہی (اسے) بدل سکتے ہیں۔

اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ يَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِيْلَةَ اَيُّهُمْ اَقْرَبُ وَ يَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَ يَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ١ؕ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا 17|57

جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ تو خود اپنے پروردگار کی بارگاہ میں وسیلہ تلاش کر رہے ہیں کہ کون زیادہ قرب رکھنے والا ہے؟ اور وہ اللہ کی رحمت کی امید رکھتے ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ بے شک تمہارے پروردگار کا عذاب ڈرنے کے قابل ہے۔

وَ اِنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِيْدًا١ؕ كَانَ ذٰلِكَ فِي الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا 17|58

کوئی بستی ایسی نہیں ہے جسے ہم قیامت سے پہلے ہلاک نہ کر دیں یا سخت عذاب میں مبتلا کر دیں یہ بات کتاب (نوشتۂ تقدیر) میں لکھی ہوئی ہے۔

وَ مَا مَنَعَنَاۤ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰيٰتِ اِلَّاۤ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ١ؕ وَ اٰتَيْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوْا بِهَا١ؕ وَ مَا نُرْسِلُ بِالْاٰيٰتِ اِلَّا تَخْوِيْفًا 17|59

اور (منکرین کی مطلوبہ) نشانیاں بھیجنے سے ہمیں کسی چیز نے نہیں روکا۔ مگر اس بات نے کہ پہلے لوگ انہیں جھٹلا چکے ہیں۔ اور ہم نے قومِ ثمود کو ایک (خاص) اونٹنی دی جوکہ روشن نشانی تھی۔ تو انہوں نے اس پر ظلم کیا اور ہم نشانیاں صرف ڈرانے کیلئے بھیجتے ہیں۔

وَ اِذْ قُلْنَا لَكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ١ؕ وَ مَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْۤ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَ الشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِي الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ نُخَوِّفُهُمْ١ۙ فَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا طُغْيَانًا كَبِيْرًا 17|60

اے رسول وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے آپ سے کہا تھا کہ آپ کے پروردگار نے لوگوں کو گھیرے میں لے لیا ہے اور جو منظر ہم نے آپ کو دکھایا تھا۔ اس کو اور اس درخت کو جس پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے، ہم نے لوگوں کیلئے آزمائش کا ذریعہ بنایا ہے اور ہم انہیں ڈراتے ہیں مگر یہ ڈرانا ان کی سرکشی میں اضافہ ہی کر رہا ہے۔