سُبْحٰنَ الَّذِيْۤ (15)

سورۃ الکھف (18)

(51-60)

مَاۤ اَشْهَدْتُّهُمْ خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَا خَلْقَ اَنْفُسِهِمْ١۪ وَ مَا كُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّيْنَ عَضُدًا 18|51

اور میں نے انہیں آسمان و زمین کی پیدائش کے وقت حاضر نہیں کیا اور نہ ہی ان کی اپنی خلقت کے وقت اور میں ایسا نہیں ہوں کہ گمراہ کرنے والوں کو اپنا دست و بازو بناؤں۔

وَ يَوْمَ يَقُوْلُ نَادُوْا شُرَكَآءِيَ الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَهُمْ وَ جَعَلْنَا بَيْنَهُمْ مَّوْبِقًا 18|52

اور وہ دن (یاد رکھو) جب وہ (اللہ مشرکین سے) فرمائے گا کہ بلاؤ میرے ان شریکوں کو جن کو تم میرا شریک خیال کرتے تھے۔ چنانچہ وہ انہیں پکاریں گے لیکن وہ انہیں کوئی جواب نہیں دیں گے اور ہم ان کے درمیان ایک آڑ مقرر کر دیں گے کہ وہ ایک دوسرے کی بات نہیں سن سکتے۔

وَ رَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَ لَمْ يَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا 18|53

اور جب مجرم لوگ (دوزخ کی) آگ دیکھیں گے تو وہ خیال کریں گے کہ وہ اس میں گرنے والے ہیں اور وہ اس سے بچنے کی کوئی راہ نہیں پائیں گے۔

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِلنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ اَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا 18|54

اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں (کی ہدایت) کے لئے ہر قسم کی مثالیں الٹ پلٹ کر بیان کر دی ہیں۔ (مگر) انسان ہر چیز سے بڑھ کر جھگڑالو ہے۔

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ يُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰى وَ يَسْتَغْفِرُوْا رَبَّهُمْ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِيَهُمْ سُنَّةُ الْاَوَّلِيْنَ اَوْ يَاْتِيَهُمُ الْعَذَابُ قُبُلًا 18|55

اور جب لوگوں کے پاس ہدایت آگئی ہے تو ان کو ایمان لانے اور مغفرت طلب کرنے سے منع نہیں کیا۔ مگر اس چیز نے کہ اگلی قوموں کا معاملہ انہیں بھی پیش آئے یا عذاب ان کے سامنے آئے۔

وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّا مُبَشِّرِيْنَ وَ مُنْذِرِيْنَ١ۚ وَ يُجَادِلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِالْبَاطِلِ لِيُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ وَ اتَّخَذُوْۤا اٰيٰتِيْ وَ مَاۤ اُنْذِرُوْا هُزُوًا 18|56

اور ہم رسولوں کو نہیں بھیجتے۔ مگر خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر۔ اور جو کافر ہیں وہ باطل کے (ہتھیار سے) جھگڑتے ہیں تاکہ اس کے ذریعہ سے حق کو باطل کر دیں اور انہوں نے میری آیتوں کو اور جس چیز (عذاب) سے انہیں ڈرایا گیا تھا اس کو مذاق بنا رکھا ہے۔

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰيٰتِ رَبِّهٖ فَاَعْرَضَ عَنْهَا وَ نَسِيَ مَا قَدَّمَتْ يَدٰهُ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ يَّفْقَهُوْهُ وَ فِيْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ تَدْعُهُمْ اِلَى الْهُدٰى فَلَنْ يَّهْتَدُوْۤا اِذًا اَبَدًا 18|57

اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہے جسے اس کے پروردگار کی نشانیوں کے ذریعہ سے نصیحت کی جائے مگر وہ ان سے روگردانی کرے اور اپنے ان (گناہوں) کو بھول جائے۔ جو وہ اپنے ہاتھوں پہلے بھیج چکا ہے ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں کہ اس کو سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی ڈال دی ہے۔ کہ اس کو سنیں (یہ حق سے اعراض کرنے کی سزا ہے) اور اگر انہیں ہدایت کی طرف بلائیں تو وہ اس حالت میں کبھی راہِ راست پر نہیں آئیں گے۔

وَ رَبُّكَ الْغَفُوْرُ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ لَوْ يُؤَاخِذُهُمْ بِمَا كَسَبُوْا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ١ؕ بَلْ لَّهُمْ مَّوْعِدٌ لَّنْ يَّجِدُوْا مِنْ دُوْنِهٖ مَوْىِٕلًا 18|58

اور آپ کا پروردگار بڑا بخشنے والا، رحمت والا ہے اگر وہ لوگوں سے ان کے کئے (گناہوں) کا مواخذہ کرتا تو جلدی ہی میں ان پر عذاب نازل کر دیتا مگر ان کے لئے ایک میعاد ٹھہرا دی گئی ہے اس سے ادھر (پہلے) کوئی جائے پناہ نہیں پائیں گے۔

وَ تِلْكَ الْقُرٰۤى اَهْلَكْنٰهُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا وَ جَعَلْنَا لِمَهْلِكِهِمْ مَّوْعِدًا 18|59

اور یہ بستیاں ہیں جب (ان کے باشندوں نے) ظلم و زیادتی کی تو ہم نے انہیں ہلاک کر ڈالا اور ہم نے ان کی ہلاکت کے لئے ایک میعاد مقرر کر دی تھی۔

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِفَتٰىهُ لَاۤ اَبْرَحُ حَتّٰۤى اَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَيْنِ اَوْ اَمْضِيَ حُقُبًا 18|60

اور (وہ وقت یاد کرو) جب موسیٰ (ع) نے اپنے جوان سے کہا کہ میں برابر سفر جاری رکھوں گا یہاں تک کہ اس جگہ پہنچوں جہاں دو دریا اکٹھے ہوتے ہیں یا پھر (یونہی چلتے چلتے) سالہا سال گزار دوں گا۔