سَيَقُولُ(2)

سورۃ البقرہ (2)

(151-160)

كَمَاۤ اَرْسَلْنَا فِيْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ يَتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِنَا وَ يُزَكِّيْكُمْ وَ يُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ يُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ (2|151)

اے مسلمانو!) یہ تحویل قبلہ تم پر ایسا احسان ہے جس طرح ہم نے تمہارے درمیان تم ہی میں سے ایک پیغمبر بھیجا ہے۔ جو تمہیں ہماری آیات پڑھ کر سناتا ہے اور تمہیں (بدعقیدتی، بدعملی اور بداخلاقی کی نجاست و کثافت) سے پاک کرتا ہے اور تمہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ اور تمہیں وہ باتیں سکھاتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے ۔

فَاذْكُرُوْنِيْۤ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِيْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ (2|152)

پس تم مجھے یاد رکھو۔ میں تمہیں یاد رکھوں گا۔ اور میرا شکر ادا کرو۔ اور میری ناشکری نہ کرو۔

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ (2|153)

اے ایمان والو! (مصیبت کے وقت) صبر اور نماز (کے ذریعے خدا) سے مدد لیا کرو۔ بے شک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ يُّقْتَلُ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ١ؕ بَلْ اَحْيَآءٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ (2|154)

اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل کیے جاتے ہیں، انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں۔ مگر تمہیں (ان کی زندگی کی حقیقت کا) شعور (سمجھ) نہیں ہے۔

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ١ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِيْنَ (2|155)

اور ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے خوف و خطر، اور کچھ بھوک (و پیاس) اور کچھ مالوں، جانوں اور پھلوں کے نقصان کے ساتھ (یعنی ان میں سے کسی نہ کسی چیز کے ساتھ)۔ (اے رسول(ص)) خوشخبری دے دو ان صبر کرنے والوں کو۔

الَّذِيْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِيْبَةٌ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ (2|156)

کہ جب بھی ان پر کوئی مصیبت آپڑے تو وہ کہتے ہیں بے شک ہم صرف اللہ ہی کے لیے ہیں۔ اور اسی کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں۔

اُولٰٓىِٕكَ عَلَيْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ١۫ وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ (2|157)

یہی وہ (خوش نصیب) ہیں، جن پر ان کے پروردگار کی طرف سے درود (خاص عنایتیں اور نوازشیں) ہیں اور رحمت و مہربانی ہے۔ اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔

اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآىِٕرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ اَنْ يَّطَّوَّفَ بِهِمَا١ؕ وَ مَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ شَاكِرٌ عَلِيْمٌ (2|158)

بیشک صفا و مروہ نامی دو پہاڑیاں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ لہٰذا جو شخص خانہ کعبہ کا حج یا عمرہ بجا لائے، اس پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ ان دونوں کے درمیان چکر لگائے اور جو شخص برضا و رغبت کچھ (مزید) نیکی کرے تو اللہ تعالیٰ (نیکی کا) قدر دان ہے اور خوب جاننے والا ہے۔

اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنٰتِ وَ الْهُدٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا بَيَّنّٰهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتٰبِ١ۙ اُولٰٓىِٕكَ يَلْعَنُهُمُ اللّٰهُ وَ يَلْعَنُهُمُ اللّٰعِنُوْنَ (2|159)

بالتحقیق جو لوگ چھپاتے ہیں ہماری نازل کردہ روشن تعلیمات و ہدایت کو جبکہ ہم تمام لوگوں کے لئے انہیں کتاب میں واضح طور پر بیان کر چکے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ لعنت کرتا ہے اور تمام لعنت کرنے والے بھی لعنت کرتے ہیں۔

اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ بَيَّنُوْا فَاُولٰٓىِٕكَ اَتُوْبُ عَلَيْهِمْ١ۚ وَ اَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ (2|160)

مگر وہ جنہوں نے (حق پر پردہ ڈالنے سے) توبہ کی اور اپنی اصلاح کر لی۔ اور (حق بات کو) ظاہر کر دیا یہ وہ ہیں جن کی میں توبہ قبول کروں گا (انہیں معاف کر دوں گا) اور میں بڑا توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا (مہربان) ہوں۔