كُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ لَا تَطْغَوْا فِيْهِ فَيَحِلَّ عَلَيْكُمْ غَضَبِيْ١ۚ وَ مَنْ يَّحْلِلْ عَلَيْهِ غَضَبِيْ فَقَدْ هَوٰى 20|81
تم سے کہا گیا کہ جو پاکیزہ روزی تمہیں دی گئی ہے اس سے کھاؤ اور اس کے بارے میں سرکشی نہ کرو (حد سے نہ گزرو) ورنہ تم پر میرا غضب نازل ہوگا اور جس پر میرا غضب نازل ہو جائے وہ ہلاک ہی ہوگیا۔
وَ اِنِّيْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى 20|82
اور جو کوئی توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل بجا لائے اور پھر راہِ راست پر قائم رہے تو میں اس کو بہت ہی بخشنے والا ہوں۔
وَ مَاۤ اَعْجَلَكَ عَنْ قَوْمِكَ يٰمُوْسٰى 20|83
اے موسیٰ! اپنی قوم سے پہلے کیا چیز تمہیں جلدی لے آئی؟
قَالَ هُمْ اُولَآءِ عَلٰۤى اَثَرِيْ وَ عَجِلْتُ اِلَيْكَ رَبِّ لِتَرْضٰى 20|84
موسیٰ نے کہا: وہ لوگ میرے نقش قدم پر آرہے ہیں۔ اور اے میرے پروردگار! میں اس لئے جلدی تیری بارگاہ میں حاضر ہوگیا ہوں کہ تو خوش ہو جائے۔
قَالَ فَاِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِنْۢ بَعْدِكَ وَ اَضَلَّهُمُ السَّامِرِيُّ 20|85
ارشاد ہوا۔ ہم نے تمہارے بعد تمہاری قوم کو آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ اور سامری نے انہیں گمراہ کر دیا ہے۔
فَرَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۚ۬ قَالَ يٰقَوْمِ اَلَمْ يَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا١ؕ۬ اَفَطَالَ عَلَيْكُمُ الْعَهْدُ اَمْ اَرَدْتُّمْ اَنْ يَّحِلَّ عَلَيْكُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَخْلَفْتُمْ مَّوْعِدِيْ 20|86
پس موسیٰ غصہ میں افسوس کرتے ہوئے اپنی قوم کی طرف لوٹے (اور) کہا اے میری قوم! کیا تمہارے پروردگار نے تم سے بڑا اچھا وعدہ نہیں کیا تھا؟ تو کیا تم پر (وعدہ سے) زیادہ مدت گزر گئی؟ یا تم نے چاہا کہ تمہارے رب کا غضب تم پر نازل ہو؟ اس لئے تم نے مجھ سے وعدہ خلافی کی؟
قَالُوْا مَاۤ اَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا وَ لٰكِنَّا حُمِّلْنَاۤ اَوْزَارًا مِّنْ زِيْنَةِ الْقَوْمِ فَقَذَفْنٰهَا فَكَذٰلِكَ اَلْقَى السَّامِرِيُّ 20|87
قوم نے کہا کہ ہم نے اپنے اختیار سے تو آپ سے وعدہ خلافی نہیں کی (البتہ بات یوں ہوئی) کہ ہمیں اس جماعت کے زیورات جمع کرکے لانے پر آمادہ کیا گیا اور سامری نے انہیں آگ میں ڈال دیا۔
فَاَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ فَقَالُوْا هٰذَاۤ اِلٰهُكُمْ وَ اِلٰهُ مُوْسٰى١۬ فَنَسِيَؕ 20|88
پھر ایک (سنہرا) بچھڑا نکال کر لایا۔ جس سے گائے کی سی آواز نکلتی تھی۔ تو لوگوں سے کہا یہی تمہارا خدا ہے اور موسیٰ کا بھی پس وہ بھول گئے ہیں۔
اَفَلَا يَرَوْنَ اَلَّا يَرْجِعُ اِلَيْهِمْ قَوْلًا١ۙ۬ وَّ لَا يَمْلِكُ لَهُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا 20|89
کیا وہ اتنا بھی نہیں دیکھتے کہ وہ (گؤ سالہ) ان کی کسی بات کا جواب نہیں دیتا اور نہ ہی وہ ان کو نقصان یا نفع پہنچانے کا کوئی اختیار رکھتا ہے۔
وَ لَقَدْ قَالَ لَهُمْ هٰرُوْنُ مِنْ قَبْلُ يٰقَوْمِ اِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِهٖ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمٰنُ فَاتَّبِعُوْنِيْ وَ اَطِيْعُوْۤا اَمْرِيْ 20|90
اور ہارون نے اس سے پہلے ہی ان سے کہہ دیا تھا کہ اے میری قوم! تم اس (گو سالہ) کی وجہ سے آزمائش میں پڑ گئے ہو۔ اور یقیناً تمہارا پروردگار خدائے رحمن ہے سو تم میری پیروی کرو۔ اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔