وَ قَالَ الَّذِيْنَ (19)

سورۃ الشعراء (26)

(11-20)

قَوْمَ فِرْعَوْنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوْنَ 26|11

یعنی فرعون کی قوم کے پاس۔ کیا وہ نہیں ڈرتے؟

قَالَ رَبِّ اِنِّيْۤ اَخَافُ اَنْ يُّكَذِّبُوْنِ 26|12

موسیٰ نے کہا اے میرے پروردگار! میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے جھٹلائیں گے۔

وَ يَضِيْقُ صَدْرِيْ وَ لَا يَنْطَلِقُ لِسَانِيْ فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ 26|13

اور میرا سینہ تنگ ہوتا ہے اور میری زبان نہیں چلتی سو ہارون کے پاس (وحی) بھیج (کہ وہ میرا ساتھ دے)۔

وَ لَهُمْ عَلَيَّ ذَنْۢبٌ فَاَخَافُ اَنْ يَّقْتُلُوْنِۚ 26|14

اور ان لوگوں کا میرے ذمہ ایک جرم بھی ہے اس لئے مجھے اندیشہ ہے کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔

قَالَ كَلَّا١ۚ فَاذْهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ اِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُوْنَ 26|15

ارشاد ہوا ہرگز نہیں! تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ ہم تمہارے ساتھ (سب کچھ) سن رہے ہیں۔

فَاْتِيَا فِرْعَوْنَ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَۙ 26|16

پس تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ۔ اور اس سے کہو کہ ہم تمام جہانوں کے پروردگار کے رسول ہیں۔

اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ 26|17

کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔

قَالَ اَلَمْ نُرَبِّكَ فِيْنَا وَلِيْدًا وَّ لَبِثْتَ فِيْنَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِيْنَ 26|18

فرعون نے کہا (اے موسیٰ) کیا تمہارے بچپن میں ہم نے تمہاری پرورش نہیں کی ہے؟ اور تو نے اپنی عمر کے کئی سال ہم میں گزارے ہیں۔

وَ فَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِيْ فَعَلْتَ وَ اَنْتَ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ 26|19

اور تو نے اپنی وہ حرکت بھی کی تھی جو کی تھی اور تو ناشکروں میں سے ہے۔

قَالَ فَعَلْتُهَاۤ اِذًا وَّ اَنَا مِنَ الضَّآلِّيْنَؕ 26|20

موسیٰ نے کہا: ہاں میں نے وہ کام اس وقت کیا تھا جب میں راستہ سے بھٹکا ہوا تھا۔