وَ مَا لِيَ (23)

سورۃ یٰس (36)

(51-60)

وَ نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَاِذَا هُمْ مِّنَ الْاَجْدَاثِ اِلٰى رَبِّهِمْ يَنْسِلُوْنَ 36|51

اور جب (دوبارہ) صور پھونکا جائے گا تو وہ ایک دم اپنی قبروں سے (نکل کر) اپنے پروردگار کی طرف تیز تیز چلنے لگیں گے۔

قَالُوْا يٰوَيْلَنَا مَنْۢ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا١ؐٚۘ هٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَ صَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ 36|52

اس وقت گھبرا کر) کہیں گے ہائے افسوس! کس نے ہمیں ہماری خوابگاہ سے اٹھایا؟ (جواب دیا جائے گا) یہ وہی (قیامت) ہے جس کا خدائے رحمن نے وعدہ (وعید) کیا تھا اور پیغمبروں(ع) نے بھی سچ کہا تھا۔

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَيْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ جَمِيْعٌ لَّدَيْنَا مُحْضَرُوْنَ 36|53

بس وہ ایک مہیب آواز (چنگھاڑ) ہوگی پھر سب کے سب ہمارے حضور حاضر کر دیئے جائیں گے۔

فَالْيَوْمَ لَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْـًٔا وَّ لَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 36|54

پس آج کے دن کسی پر کچھ بھی ظلم نہیں کیا جائے گا اور تمہیں بدلہ نہیں دیا جائے گا مگر انہی اعمال کا جو تم کیا کرتے تھے۔

اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ الْيَوْمَ فِيْ شُغُلٍ فٰكِهُوْنَۚ 36|55

بے شک آج بہشتی لوگ اپنے مشغلہ میں خوش ہوں گے۔

هُمْ وَ اَزْوَاجُهُمْ فِيْ ظِلٰلٍ عَلَى الْاَرَآىِٕكِ مُتَّكِـُٔوْنَ 36|56

وہ اور ان کی بیویاں (گھنے) سایوں میں مسندوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے۔

لَهُمْ فِيْهَا فَاكِهَةٌ وَّ لَهُمْ مَّا يَدَّعُوْنَۚۖ 36|57

وہاں ان کے (کھانے پینے) کیلئے (ہر قسم کے) پھل ہوں گے اور وہ سب کچھ ہوگا جو وہ طلب کریں گے۔

سَلٰمٌ١۫ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ 36|58

انہیں) مہربان (پروردگار) کی طرف سے سلام کہا جائے گا۔

وَ امْتَازُوا الْيَوْمَ اَيُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ 36|59

ارشادِ قدرت ہوگا) اے مجرمو! الگ ہو جاؤ۔

اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَيْكُمْ يٰبَنِيْۤ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطٰنَ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌۙ 36|60

اے اولادِ آدم! کیا میں نے تمہیں حکم نہیں دیا تھا کہ شیطان کی پرستش نہ کرنا؟ کہ وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔