وَ مَا لِيَ (23)

سورۃ الصّافّات (37)

(11-20)

فَاسْتَفْتِهِمْ اَهُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمْ مَّنْ خَلَقْنَا١ؕ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّنْ طِيْنٍ لَّازِبٍ 37|11

پس آپ(ص) ان سے پوچھئے کہ آیا ان کی خلقت زیادہ سخت ہے یا ان کی جن کو ہم نے پیدا کیا؟ بے شک ہم نے انہیں ایک لیس دار مٹی سے پیدا کیا ہے۔

بَلْ عَجِبْتَ وَ يَسْخَرُوْنَ۪ 37|12

تم تو (ان کے انکار پر) تعجب کرتے ہو مگر وہ اس کا مذاق اڑا رہے ہیں۔

وَ اِذَا ذُكِّرُوْا لَا يَذْكُرُوْنَ 37|13

اور جب انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو وہ قبول نہیں کرتے۔

وَ اِذَا رَاَوْا اٰيَةً يَّسْتَسْخِرُوْنَ 37|14

اور جب کوئی نشانی (معجزہ) دیکھتے ہیں تو اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔

وَ قَالُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِيْنٌۚۖ 37|15

اور کہتے ہیں کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْن 37|16

بھلا جب ہم مر جائیں گے اور (مر کر) مٹی اور ہڈیاں ہو جائیں گے تو کیا ہم (زندہ کر کے) اٹھائے جائیں گے۔

اَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَؕ 37|17

یا کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی (اٹھائے جائیں گے؟)

قُلْ نَعَمْ وَ اَنْتُمْ دَاخِرُوْنَ 37|18

آپ کہیے کہ ہاں اور تم (اس وقت) ذلیل و خوار ہوگے۔

فَاِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ فَاِذَا هُمْ يَنْظُرُوْنَ 37|19

بس وہ قیامت تو صرف ایک جھڑک ہوگی (اس کے بعد) ایک دم (زندہ ہو کر ادھر اُدھر) دیکھ رہے ہوں گے۔

وَ قَالُوْا يٰوَيْلَنَا هٰذَا يَوْمُ الدِّيْنِ 37|20

اور کہیں گے ہائے ہماری بدبختی! یہ تو جزا (و سزا) کا دن ہے۔