وَ مَا لِيَ (23)

سورۃ ص (38)

(41-50)

وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَيُّوْبَ١ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّيْ مَسَّنِيَ الشَّيْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍؕ 38|41

اور ہمارے بندۂ (خاص) ایوب(ع) کو یاد کرو جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ شیطان نے مجھے سختی اور اذیت پہنچائی ہے۔

اُرْكُضْ بِرِجْلِكَ١ۚ هٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ 38|42

ہم نے حکم دیا کہ) اپنا پاؤں (زمین پر) مارو۔ یہ ٹھنڈا پانی ہے نہانے کیلئے اور پینے کیلئے۔

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَ ذِكْرٰى لِاُولِي الْاَلْبَابِ 38|43

اور ہم نے اپنی خاص رحمت اور صاحبانِ عقل و فکر کیلئے بطورِ نصیحت انہیں نہ صرف ان کے اہل و عیال واپس دیئے (بلکہ) اتنے ہی اور بڑھا دیئے۔

وَ خُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْ١ؕ اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ 38|44

اور (ہم نے کہا) اپنے ہاتھ میں (شاخوں کا) ایک مُٹھا لو اور اس سے مارو اور قَسم نہ توڑو۔ بے شک ہم نے انہیں صبر کرنے والا پایا بڑا اچھا بندہ (اور ہماری طرف) بڑا رجوع کرنے والا۔

وَ اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِيْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ يَعْقُوْبَ اُولِي الْاَيْدِيْ وَ الْاَبْصَارِ 38|45

اور ہمارے (خاص) بندوں ابراہیم(ع)، اسحاق(ع) اور یعقوب(ع) کو یاد کرو جو قوت و بصیرت والے تھے۔

اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِۚ 38|46

اور ہم نے ان کو ایک خاص صفت کے ساتھ مخصوص کیا تھا اور وہ آخرت کی یاد تھی۔

وَ اِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَيْنَ الْاَخْيَارِؕ 38|47

اور وہ یقیناً ہمارے نزدیک برگزیدہ (اور) نیکوکار لوگوں میں سے تھے۔

وَ اذْكُرْ اِسْمٰعِيْلَ وَ الْيَسَعَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ وَ كُلٌّ مِّنَ الْاَخْيَارِ 38|48

اور اسماعیل(ع)، الیسع(ع) اور ذوالکفل(ع) کو یاد کرو یہ سب نیک لوگوں میں سے تھے۔

هٰذَا ذِكْرٌ١ؕ وَ اِنَّ لِلْمُتَّقِيْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍۙ 38|49

یہ ایک نصیحت ہے اور بے شک پرہیزگاروں کیلئے اچھا ٹھکانہ ہے۔

جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُۚ 38|50

یعنی) ہمیشہ رہنے والے (سدابہار) باغات جن کے سب دروازے ان کیلئے کھلے ہوں گے۔