وَ مَا لِيَ (23)

سورۃ الزمر (39)

(21-31)

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَلَكَهٗ يَنَابِيْعَ فِي الْاَرْضِ ثُمَّ يُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ ثُمَّ يَهِيْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَجْعَلُهٗ حُطَامًا١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِاُولِي الْاَلْبَابِ 39|21

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ آسمان سے پانی اتارتا ہے اور پھر زیرِ زمین اس کے چشمے جاری کر دیتا ہے پھر اس سے مختلف قسم کی رنگ برنگی کھیتیاں برآمد کرتا ہے پھر وہ (پک کر) خشک ہونے لگتی ہیں تم انہیں زرد دیکھتے ہو پھر انہیں ریزہ ریزہ کر دیتا ہے۔ بے شک اس میں صاحبانِ عقل کیلئے نصیحت ہے۔

اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰى نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ فَوَيْلٌ لِّلْقٰسِيَةِ قُلُوْبُهُمْ مِّنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ 39|22

کیا وہ شخص جس کے سینہ کو اللہ نے (قبولِ) اسلام کیلئے کھول دیا ہے اور وہ اپنے پروردگار کی طرف سے نور (ہدایت) پر ہے (قسی القلب لوگوں کی طرح ہو سکتا ہے) بربادی ہے ان کیلئے جن کے دل ذکرِ خدا سے سخت ہوگئے ہیں یہ لوگ کھلی ہوئی گمراہی میں ہیں۔

اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ١ۖۗ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ١ۚ ثُمَّ تَلِيْنُ جُلُوْدُهُمْ وَ قُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ يَهْدِيْ بِهٖ مَنْ يَّشَآءُ١ؕ وَ مَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ 39|23

اللہ ہی نے بہترین کلام نازل کیا ہے یعنی ایسی کتاب جس کی آیتیں آپس میں ملتی جلتی ہیں (اور) بار بار دہرائی جاتی ہیں اس (کے پڑھنے) سے ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں پھر ان کے جسم اور ان کے دل اللہ کے ذکر کی طرف نرم (مائل) ہو جاتے ہیں یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کے ذریعہ سے وہ جس کی چاہتا ہے راہنمائی کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اس کیلئے کوئی راہنما نہیں۔

اَفَمَنْ يَّتَّقِيْ بِوَجْهِهٖ سُوْٓءَ الْعَذَابِ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ١ؕ وَ قِيْلَ لِلظّٰلِمِيْنَ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ 39|24

بھلا وہ (احمق) شخص جو قیامت کے دن اپنے چہرہ سے اپنے آپ کو سخت عذاب سے بچاتا ہے؟ (اس عذاب سے محفوظ شخص کی مانند ہو سکتا ہے؟) اور ظالموں سے کہا جائے گا کہ (آج) مزہ چکھو اس کمائی کا جو تم کیا کرتے تھے۔

كَذَّبَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُوْنَ 39|25

جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے (حق کو) جھٹلایا آخر ان پر وہاں سے عذاب آیا جدھر سے ان کو خیال نہ تھا۔

فَاَذَاقَهُمُ اللّٰهُ الْخِزْيَ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا١ۚ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ 39|26

تو خدا نے ان کو اس دنیاوی زندگی میں ذلت و رسوائی کا مزہ چکھایا اور آخرت کا عذاب اس سے بھی بڑا ہے کاش وہ لوگ جانتے۔

وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ 39|27

اور بے شک ہم نے اس قرآن میں ہر قسم کی مثالیں پیش کی ہیں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔

قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِيْ عِوَجٍ لَّعَلَّهُمْ يَتَّقُوْنَ 39|28

یہ ایسا قرآن جو عربی زبان میں ہے جس میں کوئی کَجی نہیں ہے تاکہ وہ (ڈریں) پرہیزگاری اختیار کریں۔

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلًا فِيْهِ شُرَكَآءُ مُتَشٰكِسُوْنَ وَ رَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ١ؕ هَلْ يَسْتَوِيٰنِ مَثَلًا١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ١ۚ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ 39|29

اللہ نے ایک مثال بیان کی ہے کہ ایک غلام ہے جس کے کئی بد اخلاق مالک ہیں اور ایک دوسرا شخص ہے جو پورا ایک مالک کا ہے (ان دونوں) کا حال یکساں ہے؟ الحمد ﷲ! مگر اکثر لوگ (یہ حقیقت) جانتے نہیں ہیں۔

اِنَّكَ مَيِّتٌ وَّ اِنَّهُمْ مَّيِّتُوْنَ 39|30

اے پیغمبر(ص)) بے شک آپ نے بھی مرنا ہے اور وہ لوگ بھی مرنے والے ہیں۔

ثُمَّ اِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُوْنَ 39|31

پھر تم سب قیامت کے دن اپنے پروردگار کی بارگاہ میں جھگڑوگے (اور وہ حق و باطل کا فیصلہ کرے گا)۔