لَنْ تَنَالُوا (4)

سورۃ النساء (4)

(11-23)

يُوْصِيْكُمُ اللّٰهُ فِيْۤ اَوْلَادِكُمْ١ۗ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ١ۚ فَاِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ١ۚ وَ اِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ١ؕ وَ لِاَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّهٗ وَلَدٌ وَّ وَرِثَهٗۤ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَهٗۤ اِخْوَةٌ فَلِاُمِّهِ السُّدُسُ مِنْۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُّوْصِيْ بِهَاۤ اَوْ دَيْنٍ١ؕ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ لَا تَدْرُوْنَ اَيُّهُمْ اَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا١ؕ فَرِيْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا (4|11)

اللہ تمہاری اولاد کے بارے میں تمہیں ہدایت کرتا ہے کہ لڑکے کا حصہ برابر ہے دو لڑکیوں کے اب اگر لڑکیاں ہی وارث ہوں اور ہوں بھی دو سے اوپر تو ان کو دو تہائی ترکہ دیا جائے گا اور ایک لڑکی (وارث) ہو تو اسے آدھا ترکہ دیا جائے گا۔ اور اگر میت صاحب اولاد ہو تو اس کے والدین میں سے ہر ایک کے لئے ترکہ کا چھٹا حصہ ہوگا (اور باقی اولاد کا) اور اگر بے اولاد ہو۔ اور اس کے والدین ہی اس کے وارث ہوں تو اس کی ماں کو تیسرا حصہ ملے گا (باقی ۳/۲ باپ کو ملے گا) اور اگر اس (مرنے والے) کے بھائی (بہن) ہوں تو پھر اس کی ماں کو چھٹا حصہ ملے گا (باقی ۶/۵ بہن بھائیوں کو ملے گا) مگر یہ تقسیم اس وقت ہوگی، جب میت کی وصیت پوری کر دی جائے۔ جو وہ کر گیا ہو اور اس کا قرضہ ادا کر دیا جائے گا جو اس پر ہو۔ تم نہیں جانتے کہ تمہارے ماں باپ یا تمہاری اولاد میں سے نفع رسانی کے لحاظ سے کون تمہارے زیادہ قریب ہے۔ یہ حصے اللہ کی طرف سے مقرر ہیں، یقینا اللہ بڑا جاننے والا اور بڑا حکمت والا ہے۔

وَ لَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ اِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّهُنَّ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُّوْصِيْنَ بِهَاۤ اَوْ دَيْنٍ١ؕ وَ لَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوْصُوْنَ بِهَاۤ اَوْ دَيْنٍ١ؕ وَ اِنْ كَانَ رَجُلٌ يُّوْرَثُ كَلٰلَةً اَوِ امْرَاَةٌ وَّ لَهٗۤ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ١ۚ فَاِنْ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَهُمْ شُرَكَآءُ فِي الثُّلُثِ مِنْۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُّوْصٰى بِهَاۤ اَوْ دَيْنٍ١ۙ غَيْرَ مُضَآرٍّ١ۚ وَصِيَّةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌ حَلِيْمٌ (4|12)

اور جو ترکہ تمہاری بیویاں چھوڑ جائیں اس میں سے آدھا تمہارے لئے ہوگا اگر ان کی اولاد نہ ہو اور اگر ان کے اولاد ہو تو پھر تمہیں ان کے ترکہ کا چوتھا حصہ ملے گا۔ یہ تقسیم اس وصیت کو پورا کرنے کے بعد ہوگی، جو انہوں نے کی ہو اور اس قرضہ کی ادائیگی کے بعد جو ان کے ذمہ ہو۔ اور وہ (بیویاں) تمہارے ترکہ میں سے چوتھے حصہ کی حقدار ہوں گی۔ اگر تمہاری اولاد نہ ہو۔ اور اگر تمہارے اولاد ہو تو پھر ان کا آٹھواں حصہ ہوگا اور (یہ تقسیم) اس وصیت کو پورا کرنے کے بعد ہوگی جو تم نے کی ہو اور اس قرض کو ادا کرنے کے بعد جو تم نے چھوڑا ہو۔ اور اگر میت (جس کی وراثت تقسیم کی جانے والی ہے) کلالہ ہو یعنی مرد ہو یا عورت بے اولاد ہو اور اس کے ماں باپ نہ ہوں۔ مگر بھائی بہن ہوں تو اگر اس کا صرف ایک بھائی یا ایک بہن موجود ہو تو بھائی یا بہن کو چھٹا حصہ ملے گا۔ اور اگر بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو پھر وہ کل ترکہ کی ایک تہائی میں برابر کے شریک ہوں گے۔ مگر (یہ تقسیم) اس وصیت کو پورا کرنے اور قرضہ کے ادا کرنے کے بعد ہوگی جو کی گئی (جبکہ وصیت کرنے والا وارثوں کو) ضرر پہنچانے کے درپے نہ ہو۔ یہ اللہ کی طرف سے لازمی ہدایت ہے، اور اللہ بڑے علم و حلم والا ہے۔

تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ يُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ (4|13)

یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں جو خدا اور رسول کی اطاعت کرے گا اللہ اسے ان بہشتوں میں داخل کرے گا۔ جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی۔ جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔

وَ مَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ يَتَعَدَّ حُدُوْدَهٗ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيْهَا١۪ وَ لَهٗ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ (4|14)

اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی مقرر کردہ حدوں سے تجاوز کرے گا۔ تو اللہ اسے آتش دوزخ میں داخل کرے گا۔ جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اور اس کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔

وَ الّٰتِيْ يَاْتِيْنَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِّسَآىِٕكُمْ فَاسْتَشْهِدُوْا عَلَيْهِنَّ اَرْبَعَةً مِّنْكُمْ١ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَاَمْسِكُوْهُنَّ فِي الْبُيُوْتِ حَتّٰى يَتَوَفّٰهُنَّ الْمَوْتُ اَوْ يَجْعَلَ اللّٰهُ لَهُنَّ سَبِيْلًا (4|15)

اور جو تمہاری عورتوں میں سے بدکاری کریں تو ان کی بدکاری پر اپنے میں سے چار آدمیوں کی گواہی لو۔ اور اگر وہ گواہی دے دیں تو انہیں گھروں میں بند کر دو یہاں تک کہ انہیں موت آجائے یا اللہ ان کے لیے کوئی اور راستہ مقرر کرے۔

وَ الَّذٰنِ يَاْتِيٰنِهَا مِنْكُمْ فَاٰذُوْهُمَا١ۚ فَاِنْ تَابَا وَ اَصْلَحَا فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ تَوَّابًا رَّحِيْمًا (4|16)

اور تم میں سے جو دو شخص (مرد و عورت) بدکاری کا ارتکاب کریں تو ان کو اذیت پہنچاؤ۔ پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور اپنی اصلاح کرلیں۔ تو انہیں چھوڑ دو بے شک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا اور بہت رحم کرنے والا ہے۔

اِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللّٰهِ لِلَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ يَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِيْبٍ فَاُولٰٓىِٕكَ يَتُوْبُ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِيْمًا حَكِيْمًا (4|17)

توبہ قبول کرنے کا حق اللہ کے ذمہ صرف انہی لوگوں کا ہے جو جہالت (نادانی) کی وجہ سے کوئی برائی کرتے ہیں پھر جلدی توبہ کر لیتے ہیں یہ ہیں وہ لوگ جن کی توبہ خدا قبول کرتا ہے۔ اور اللہ بڑا جاننے والا اور بڑی حکمت والا ہے۔

وَ لَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ السَّيِّاٰتِ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا حَضَرَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّيْ تُبْتُ الْـٰٔنَ وَ لَا الَّذِيْنَ يَمُوْتُوْنَ وَ هُمْ كُفَّارٌ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِيْمًا (4|18)

ان لوگوں کی توبہ (قبول) نہیں ہے۔ جو (زندگی بھر) برائیاں کرتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت کا وقت آجاتا ہے، تو وہ کہتا ہے، اس وقت میں توبہ کرتا ہوں۔ اور نہ ہی ان کے لیے توبہ ہے۔ جو کفر کی حالت میں مرتے ہیں۔ یہ وہ ہیں جن کے لیے ہم نے دردناک عذاب مہیا کر رکھا ہے۔

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا يَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ كَرْهًا١ؕ وَ لَا تَعْضُلُوْهُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَاۤ اٰتَيْتُمُوْهُنَّ اِلَّاۤ اَنْ يَّاْتِيْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ١ۚ وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ فَاِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَيْـًٔا وَّ يَجْعَلَ اللّٰهُ فِيْهِ خَيْرًا كَثِيْرًا (4|19)

اے ایمان والو! تمہارے لئے حلال نہیں ہے۔ کہ تم زبردستی عورتوں کے وارث بن جاؤ۔ اور نہ یہ جائز ہے۔ کہ ان پر سختی کرو اور روکے رکھو تاکہ جو کچھ تم نے (جہیز وغیرہ) انہیں دیا ہے اس میں سے کچھ حصہ لے اڑو مگر یہ کہ وہ صریح بدکاری کا ارتکاب کریں (کہ اس صورت میں سختی جائز ہے) اور عورتوں کے ساتھ عمدہ طریقہ سے زندگی گزارو۔ اور اگر تم انہیں ناپسند کرتے ہو تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو۔ مگر اللہ نے اس میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو۔

وَ اِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ١ۙ وَّ اٰتَيْتُمْ اِحْدٰىهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْهُ شَيْـًٔا١ؕ اَتَاْخُذُوْنَهٗ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِيْنًا (4|20)

اور اگر تم ایک بیوی کو بدل کر اس کی جگہ دوسری لانا چاہو اور تم ان میں سے ایک کو (جسے فارغ کرنا چاہتے ہو) بہت سا مال دے چکے ہو۔ تو اس میں سے کچھ بھی واپس نہ لو کیا تم جھوٹا الزام لگا کر اور صریح گناہ کرکے (واپس) لینا چاہتے ہو۔

وَ كَيْفَ تَاْخُذُوْنَهٗ وَ قَدْ اَفْضٰى بَعْضُكُمْ اِلٰى بَعْضٍ وَّ اَخَذْنَ مِنْكُمْ مِّيْثَاقًا غَلِيْظًا (4|21)

اور بھلا تم وہ (مال) کیسے واپس لے سکتے ہو۔ جبکہ تم (مقاربت کرکے) ایک دوسرے سے لطف اندوز ہو چکے ہو؟ اور وہ تم سے پختہ عہد و پیمان لی چکی ہیں۔

وَ لَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ اٰبَآؤُكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَّ مَقْتًا١ؕ وَ سَآءَ سَبِيْلًا (4|22)

جن عورتوں سے تمہارے باپ دادا نکاح کر چکے ہوں۔ ان سے شادی (نکاح) نہ کرو۔ سوا اس کے جو پہلے ہو چکا۔ بے شک یہ کھلی بے حیائی اور (خدا کی) ناراضی کی بات ہے اور بہت برا طریقہ ہے۔

حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ وَ بَنٰتُكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ وَ عَمّٰتُكُمْ وَ خٰلٰتُكُمْ وَ بَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ وَ اُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِيْۤ اَرْضَعْنَكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَ اُمَّهٰتُ نِسَآىِٕكُمْ وَ رَبَآىِٕبُكُمُ الّٰتِيْ فِيْ حُجُوْرِكُمْ مِّنْ نِّسَآىِٕكُمُ الّٰتِيْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ١ فَاِنْ لَّمْ تَكُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ١ وَ حَلَآىِٕلُ اَبْنَآىِٕكُمُ الَّذِيْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْ١ۙ وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَيْنَ الْاُخْتَيْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًاۙ (4|23)

تم پر حرام کر دی گئی ہیں تمہاری مائیں، تمہاری بیٹیاں، تمہاری بہنیں، تمہاری پھوپھیاں، تمہاری خالائیں، بھتیجیاں، بھانجیاں اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے۔ اور تمہاری رضاعی (دودھ شریک) بہنیں اور تمہاری بیویوں کی مائیں (خوشدامنیں) اور تمہاری ان بیویوں کی جن سے تم نے مباشرت کی ہے وہ لڑکیاں جو تمہاری گودوں میں پرورش پا رہی ہیں اور اگر صرف نکاح ہوا ہے مگر مباشرت نہیں ہوئی ہے۔ تو پھر (ان کی لڑکیوں سے نکاح کرنے میں) کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ اور تمہارے صلبی بیٹوں کی بیویاں (بہوؤیں) اور یہ بھی حرام قرار دیا گیا کہ دو بہنوں کو ایک نکاح میں اکھٹا کرو۔ مگر جو پہلے ہو چکا ہے۔ بے شک اللہ بڑا بخشنے والا اور بڑا رحم کرنے والا ہے۔