وَالْمُحْصَنٰتُ (5)

سورۃ النساء (4)

(51-60)

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ اُوْتُوْا نَصِيْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ يُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَ الطَّاغُوْتِ وَ يَقُوْلُوْنَ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا هٰۤؤُلَآءِ اَهْدٰى مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا سَبِيْلًا (4|51)

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب (الٰہی) سے کچھ حصہ دیا گیا ہے وہ جبت (بت) اور طاغوت (شیطان) پر ایمان رکھتے ہیں (انہیں مانتے ہیں) اور کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ ایمان لانے والوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں۔

اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ يَّلْعَنِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ نَصِيْرًا (4|52)

یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور جس پر اللہ لعنت کر دے تم اس کا ہرگز کوئی یار و مددگار نہیں پاؤگے۔

اَمْ لَهُمْ نَصِيْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا يُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِيْرًا (4|53)

کیا ان کا سلطنت میں کوئی حصہ ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو یہ لوگوں کو تل بھر بھی نہ دیتے۔

اَمْ يَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ فَقَدْ اٰتَيْنَاۤ اٰلَ اِبْرٰهِيْمَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ اٰتَيْنٰهُمْ مُّلْكًا عَظِيْمًا (4|54)

یا پھر وہ لوگوں پر اس لئے حسد کرتے ہیں کہ اللہ نے ان کو اپنے فضل و کرم سے نوازا ہے۔ (اگر یہ بات ہے) تو ہم نے آلِ ابراہیم (ع) کو کتاب و حکمت عطا کی ہے اور ان کو بہت بڑی سلطنت عطا کی۔

فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ صَدَّ عَنْهُ١ؕ وَ كَفٰى بِجَهَنَّمَ سَعِيْرًا (4|55)

پھر ان میں کچھ تو اس پر ایمان لائے اور کچھ روگردان ہوگئے اور (ایسوں کے لئے) دوزخ کی بھڑکتی ہوئی آگ کافی ہے۔

اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِيْهِمْ نَارًا١ؕ كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُهُمْ بَدَّلْنٰهُمْ جُلُوْدًا غَيْرَهَا لِيَذُوْقُوا الْعَذَابَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِيْزًا حَكِيْمًا (4|56)

بے شک جن لوگوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا ہم عنقریب انہیں (دوزخ) کی آگ میں جھونکیں گے۔ جب ان کی (پہلی) کھا لیں پک (جل) جائیں گی تو ہم ان کی کھالیں اور کھالوں سے بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب کا مزہ چکھتے رہیں بے شک اللہ زبردست ہے اور بڑی حکمت والا ہے ۔

وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَاۤ اَبَدًا١ؕ لَهُمْ فِيْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ١ وَّ نُدْخِلُهُمْ ظِلًّا ظَلِيْلًا (4|57)

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے ہم عنقریب ان کو ان بہشتوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ ان کے لئے وہاں پاک و پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور ہم انہیں (اپنی رحمت) کے گنجان سایہ (گھنی چھاؤں) میں اتاریں گے۔

اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَا١ۙ وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِيْعًۢا بَصِيْرًا (4|58)

اے مسلمانو) اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کو ادا کرو۔ اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو۔ بے شک اللہ تمہیں بہت ہی اچھی بات کی نصیحت کرتا ہے۔ بے شک اللہ بڑا سننے والا، بڑا دیکھنے والا ہے۔

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ١ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِيْلًا (4|59)

اے ایمان والو اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحبانِ امر ہیں (فرمان روائی کے حقدار ہیں)۔ پھر اگر تمہارے درمیان کسی بات میں نزاع (یا جھگڑا) ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پلٹاؤ اگر تم اللہ اور آخرت کے روز پر ایمان رکھتے ہو تو یہ طریقہ کار تمہارے لئے اچھا ہے اور انجام کے اعتبار سے عمدہ ہے۔

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ يَزْعُمُوْنَ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ يُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّتَحَاكَمُوْۤا اِلَى الطَّاغُوْتِ وَ قَدْ اُمِرُوْۤا اَنْ يَّكْفُرُوْا بِهٖ١ؕ وَ يُرِيْدُ الشَّيْطٰنُ اَنْ يُّضِلَّهُمْ ضَلٰلًۢا بَعِيْدًا (4|60)

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کا دعویٰ ہے کہ وہ اس پر ایمان لائے جو آپ پر نازل کیا گیا ہے اور اس پر جو آپ سے پہلے نازل کیا گیا۔ (اس کے باوجود) وہ چاہتے ہیں کہ طاغوت کی طرف رجوع کریں۔ (غیر شرعی عدالت میں مقدمہ لے جائیں) حالانکہ انہیں اس کا انکار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ شیطان چاہتا ہے کہ انہیں بھٹکا کر گمراہی میں بہت دور لے جائے۔