وَ يَقُوْلُوْنَ طَاعَةٌ فَاِذَا بَرَزُوْا مِنْ عِنْدِكَ بَيَّتَ طَآىِٕفَةٌ مِّنْهُمْ غَيْرَ الَّذِيْ تَقُوْلُ١ؕ وَ اللّٰهُ يَكْتُبُ مَا يُبَيِّتُوْنَ١ۚ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِيْلًا (4|81)
اور وہ زبان سے اطاعت و فرمانبرداری کی لفظ کہتے ہیں اور جب آپ کے پاس سے باہر نکلتے ہیں۔ تو ان میں سے ایک گروہ آپ کے فرمان (یا اپنے قول و قرار کے) برعکس رات بھر تدبیریں کرتا ہے جو کچھ وہ رات کے وقت کرتے ہیں۔ اللہ وہ سب کچھ (ان کے صحیفۂ اعمال میں) لکھ رہا ہے۔ آپ ان کی طرف توجہ نہ کریں۔ اور اللہ پر توکل و بھروسہ کریں، کارسازی کے لیے اللہ کافی ہے۔
اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ؕ وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيْرًا (4|82)
آخر یہ لوگ قرآن میں غور و فکر کیوں نہیں کرتے۔ اگر یہ اللہ کے علاوہ کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت کچھ اختلاف پاتے۔
وَ اِذَا جَآءَهُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِهٖ١ؕ وَ لَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَ اِلٰۤى اُولِي الْاَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِيْنَ يَسْتَنْۢبِطُوْنَهٗ مِنْهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّيْطٰنَ اِلَّا قَلِيْلًا (4|83)
اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی بات پہنچتی ہے تو اسے پھیلا دیتے ہیں حالانکہ اگر وہ اسے رسول اور اولی الامر کی طرف لوٹاتے تو (حقیقت کو) وہ لوگ جان لیتے جو استنباط کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی، تو چند آدمیوں کے سوا باقی شیطان کی پیروی کرنے لگ جاتے۔
فَقَاتِلْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ١ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَفْسَكَ وَ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِيْنَ١ۚ عَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّكُفَّ بَاْسَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ اَشَدُّ بَاْسًا وَّ اَشَدُّ تَنْكِيْلًا (4|84)
تو آپ(ص) اللہ کی راہ میں جہاد کریں۔ آپ پر ذمہ داری نہیں ڈالی جاتی۔ سوائے اپنی ذات کے اور اہل ایمان کو (جہاد پر) آمادہ کریں۔ امید ہے کہ اللہ کافروں کا زور روک دے اور اللہ کا زور زبردست اور اس کی سزا بہت سخت ہے۔
مَنْ يَّشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَّكُنْ لَّهٗ نَصِيْبٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ يَّشْفَعْ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَّكُنْ لَّهٗ كِفْلٌ مِّنْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ مُّقِيْتًا (4|85)
اور جو اچھی سفارش کرے گا۔ اسے اس میں سے حصہ ملے گا اور جو کوئی بری سفارش کرے گا۔ اسے بھی اس کا حصہ (وزر و بال) ملے گا۔ اور اللہ ہر شی پر قدرت رکھنے والا ہے۔
وَ اِذَا حُيِّيْتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْهَاۤ اَوْ رُدُّوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ حَسِيْبًا (4|86)
اور جب تمہیں سلام کیا جائے (یا کوئی تحفہ پیش کیا جائے) تو اس سے بہتر طریقہ پر جواب دو۔ یا (کم از کم) اسی کو لوٹادو۔ بے شک اللہ ہر چیز کا محاسبہ کرنے والا ہے۔
اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَيَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَا رَيْبَ فِيْهِ١ؕ وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِيْثًا (4|87)
اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ وہ ضرور تمہیں قیامت کے دن اکٹھا کرے گا۔ جس میں کوئی شک نہیں ہے اور اللہ سے بڑھ کر کون بات میں سچا ہے۔
فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنٰفِقِيْنَ فِئَتَيْنِ وَ اللّٰهُ اَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوْا١ؕ اَتُرِيْدُوْنَ اَنْ تَهْدُوْا مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِيْلًا (4|88)
تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم منافقین کے بارے میں دو گروہ ہوگئے ہو۔ حالانکہ اللہ نے انہیں ان کے کرتوتوں کی وجہ سے (ان کے کفر کی طرف) الٹا پھیر دیا ہے۔ کیا تم چاہتے ہو کہ اسے ہدایت دو جس سے اس کی بدعملی کی وجہ سے خدا نے توفیق ہدایت سلب کر لی ہے۔ اور جس سے اللہ توفیق ہدایت سلب کرے، تم اس کے لیے (ہدایت کا) راستہ نہیں پاؤگے۔
وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ كَمَا كَفَرُوْا فَتَكُوْنُوْنَ سَوَآءً فَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ اَوْلِيَآءَ حَتّٰى يُهَاجِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَيْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ١۪ وَ لَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ وَلِيًّا وَّ لَا نَصِيْرًا (4|89)
وہ چاہتے ہیں کہ تم بھی اسی طرح کفر اختیار کرو جیسے انہوں نے کفر اختیار کیا ہے۔ تاکہ پھر تم سب برابر ہو جاؤ۔ لہٰذا تم انہیں اپنا حامی و سرپرست نہ بناؤ جب تک اللہ کی راہ میں ہجرت نہ کریں اور اگر وہ اس ہجرت کرنے سے روگردانی کریں تو انہیں پکڑو۔ اور جہاں کہیں انہیں پاؤ انہیں قتل کر ڈالو اور ان میں کسی کو اپنا سرپرست اور مددگار نہ بناؤ۔
اِلَّا الَّذِيْنَ يَصِلُوْنَ اِلٰى قَوْمٍۭ بَيْنَكُمْ وَ بَيْنَهُمْ مِّيْثَاقٌ اَوْ جَآءُوْكُمْ حَصِرَتْ صُدُوْرُهُمْ اَنْ يُّقَاتِلُوْكُمْ اَوْ يُقَاتِلُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَيْكُمْ فَلَقٰتَلُوْكُمْ١ۚ فَاِنِ اعْتَزَلُوْكُمْ فَلَمْ يُقَاتِلُوْكُمْ وَ اَلْقَوْا اِلَيْكُمُ السَّلَمَ١ۙ فَمَا جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ عَلَيْهِمْ سَبِيْلًا (4|90)
سوا ان کے جو ان لوگوں سے جا ملیں جن کے اور تمہارے درمیان (جنگ نہ کرنے کا) معاہدہ ہے یا اس حالت میں تمہارے پاس آئیں کہ ان کے سینے (دل) میں تمہارے ساتھ یا اپنی قوم کے ساتھ جنگ کرنے سے تنگ آچکے ہوں (ایسے منافق قتل کے اس حکم سے مستثنیٰ ہیں) اگر خدا چاہتا تو ان کو تم پر مسلط کر دیتا اور وہ ضرور تم سے لڑتے تو پھر اگر وہ تم سے کنارہ کشی کر لیں اور تمہارے ساتھ جنگ نہ کریں اور صلح کا پیغام بھیجیں تو اللہ نے تمہارے لئے ان کے خلاف کوئی قدم اٹھانے کی کوئی راہ نہیں رکھی ہے۔