فَمَنْ اَظْلَمُ (24)

سورۃ غافر (40)

(21-30)

اَوَ لَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ كَانُوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْا هُمْ اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِي الْاَرْضِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ 40|21

کیا یہ لوگ زمین پر چلتے پھرتے نہیں ہیں کہ دیکھیں کہ ان لوگوں کا انجام کیا ہوا جو ان سے پہلے تھے؟ قوت کے لحاظ سے اور زمین میں چھوڑے ہوئے آثار کے اعتبار سے ان سے زیادہ طاقتور تھے تو اللہ نے ان کے گناہوں کی پاداش میں ان کو پکڑا تو ان کو اللہ (کی گرفت) سے بچانے والا کوئی نہ تھا۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانَتْ تَّاْتِيْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ فَكَفَرُوْا فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ قَوِيٌّ شَدِيْدُ الْعِقَابِ 40|22

(ان کا یہ انجام) اس لئے ہوا کہ ان کے رسول(ع) ان کے پاس کھلی نشانیاں (معجزے) لے کر آتے تھے تو وہ کفر کرتے تھے۔ آخرکار اللہ نے انہیں پکڑ لیا بیشک وہ بڑا طاقتور (اور) سخت سزا دینے والا ہے۔

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰيٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍۙ 40|23

بیشک ہم نے موسیٰ(ع) کو فرعون، ہامان اور قارون کی طرف اپنی نشانیوں (معجزوں) اور کھلی ہوئی دلیلوں کے ساتھ بھیجا۔

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ قَارُوْنَ فَقَالُوْا سٰحِرٌ كَذَّابٌ 40|24

تو انہوں نے کہا کہ یہ ایک جادوگر (اور) بڑا جھوٹا ہے۔

فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا اقْتُلُوْۤا اَبْنَآءَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ وَ اسْتَحْيُوْا نِسَآءَهُمْ١ؕ وَ مَا كَيْدُ الْكٰفِرِيْنَ اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ 40|25

سو جب وہ ہماری طرف سے حق لے کر ان کے پاس آئے تو انہوں نے کہا کہ جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کر دو اور ان کی عورتوں (لڑکیوں) کو زندہ چھوڑ دو۔ اور کافروں کی( ہر) تدبیر گمراہی میں (رائیگاں) ہے۔

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُوْنِيْۤ اَقْتُلْ مُوْسٰى وَ لْيَدْعُ رَبَّهٗ١ۚ اِنِّيْۤ اَخَافُ اَنْ يُّبَدِّلَ دِيْنَكُمْ اَوْ اَنْ يُّظْهِرَ فِي الْاَرْضِ الْفَسَادَ 40|26

اور فرعون نے کہا کہ مجھے چھوڑ دو۔ میں موسیٰ(ع) کو قتل کر دوں اور وہ (اپنی مدد کیلئے) اپنے پرورگار کو پکارے مجھے اندیشہ ہے کہ وہ کہیں تمہارا دین (شرک) نہ بدل دے۔ یا زمین میں فساد برپا نہ کر دے۔

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنِّيْ عُذْتُ بِرَبِّيْ وَ رَبِّكُمْ مِّنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا يُؤْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسَابِ 40|27

اور موسیٰ(ع) نے کہا کہ میں اپنے اور تمہارے پروردگار سے پناہ مانگتا ہوں جو مجھے ہر اس متکبر (کے شر) سے بچائے جو روزِ حساب (قیامت) پر ایمان نہیں رکھتا۔

وَ قَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ١ۖۗ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ اِيْمَانَهٗۤ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ يَّقُوْلَ رَبِّيَ اللّٰهُ وَ قَدْ جَآءَكُمْ بِالْبَيِّنٰتِ مِنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ اِنْ يَّكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهٗ١ۚ وَ اِنْ يَّكُ صَادِقًا يُّصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِيْ يَعِدُكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِيْ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ 40|28

اور فرعون کے خاندان میں سے ایک مردِ مؤمن نے کہا جو اپنے ایمان کو چھپائے رکھتا تھا۔ کیا تم ایک شخص کو صرف اس بات پر قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ ہے؟ حالانکہ وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس بیّنات (معجزات) لے کر آیا ہے اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا وبال اسی پر پڑے گا اور اگر وہ سچا ہے تو جس (عذاب) کی وہ تمہیں دھمکی دیتا ہے تو اس کا کچھ حصہ تو تمہیں پہنچ کر رہے گا۔ بیشک اللہ اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے بڑھنے والا اور بڑا جھوٹا ہو۔

يٰقَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ظٰهِرِيْنَ فِي الْاَرْضِ١ فَمَنْ يَّنْصُرُنَا مِنْۢ بَاْسِ اللّٰهِ اِنْ جَآءَنَا١ؕ قَالَ فِرْعَوْنُ مَاۤ اُرِيْكُمْ اِلَّا مَاۤ اَرٰى وَ مَاۤ اَهْدِيْكُمْ اِلَّا سَبِيْلَ الرَّشَادِ 40|29

اے میری قوم! (بے شک) آج تمہاری حکومت ہے (اور) اس سر زمین میں تمہیں غلبہ بھی حاصل ہے لیکن اگر اللہ کا عذاب ہم پر آگیا تو کون ہماری مدد کرے گا؟ (اور اس سے ہمیں کون بچائے گا؟) (مؤمن کی یہ بات سن کر) فرعون نے کہا میں تمہیں وہی رائے دیتا ہوں۔ جو میں (درست) سمجھتا ہوں اور میں تمہاری راہنمائی صرف اسی راستہ کی طرف کرتا ہوں جو سیدھا ہے۔

وَ قَالَ الَّذِيْۤ اٰمَنَ يٰقَوْمِ اِنِّيْۤ اَخَافُ عَلَيْكُمْ مِّثْلَ يَوْمِ الْاَحْزَابِۙ 40|30

اور جو شخص ایمان لایا تھا وہ کہنے لگا۔ اے میری قوم! مجھے تمہاری نسبت ڈر ہے کہ تم پر (تباہ شدہ) گروہوں جیسا دن نہ آجائے۔