وَّ اُخْرٰى لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَيْهَا قَدْ اَحَاطَ اللّٰهُ بِهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرًا 48|21
اور غنیمتیں بھی ہیں جن پر تم ابھی قادر نہیں ہوئے اور اللہ نے ان کو گھیر رکھا ہے (اس کے قبضہ میں ہیں) اور اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
وَ لَوْ قٰتَلَكُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوَلَّوُا الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا يَجِدُوْنَ وَلِيًّا وَّ لَا نَصِيْرًا 48|22
اور اگر (یہ) کافر لوگ تم سے جنگ کرتے تو ضرور پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے اور پھر وہ (اپنے لئے) کوئی حامی و مددگار نہ پاتے۔
سُنَّةَ اللّٰهِ الَّتِيْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ١ۖۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِيْلًا 48|23
یہی اللہ کا دستور ہے جوپہلے سے چلا آرہا ہے اور تم اللہ کے دستور میں ہرگز کوئی تبدیلی نہیں پاؤ گے۔
وَ هُوَ الَّذِيْ كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَ اَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرًا 48|24
اور وہ (اللہ) وہی ہے جس نے مکہ کی وادی میں روک دئیے تھے ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے بعد اس کے کہ تمہیں ان پر غلبہ عطا کر دیا تھا اور تم جو کچھ کر رہے ہو اللہ اسے خوب دیکھ رہا ہے۔
هُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ الْهَدْيَ مَعْكُوْفًا اَنْ يَّبْلُغَ مَحِلَّهٗ١ؕ وَ لَوْ لَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ وَ نِسَآءٌ مُّؤْمِنٰتٌ لَّمْ تَعْلَمُوْهُمْ اَنْ تَطَـُٔوْهُمْ فَتُصِيْبَكُمْ مِّنْهُمْ مَّعَرَّةٌۢ بِغَيْرِ عِلْمٍ١ۚ لِيُدْخِلَ اللّٰهُ فِيْ رَحْمَتِهٖ مَنْ يَّشَآءُ١ۚ لَوْ تَزَيَّلُوْا لَعَذَّبْنَا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِيْمًا 48|25
یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تمہیں مسجد الحرام سے روکا اور قربانی کے جانوروں کو بھی روکے رکھا کہ وہ اپنی قربانی کی جگہ نہ پہنچ سکے اور اگر (مکہ میں) ایسے مؤمن مرد اور مؤمن عورتیں نہ ہوتیں جن کو تم نہیں جانتے (اور یہ خوف نہ ہوتا کہ) تم انہیں لاعلمی میں روند ڈالوگے اور پھر ان کی وجہ سے تم پر الزام آتا (تو جنگ نہ روکی جاتی) مگر روکی اس لئے گئی تاکہ اللہ جسے چاہے اپنی رحمت میں داخل کرے اگر وہ (اہلِ ایمان) الگ ہو جاتے تو ہم ان (اہلِ مکہ) میں سے کافروں کو دردناک سزا دیتے۔
اِذْ جَعَلَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فِيْ قُلُوْبِهِمُ الْحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِيْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ وَ اَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوٰى وَ كَانُوْۤا اَحَقَّ بِهَا وَ اَهْلَهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمًا 48|26
وہ وقت یاد کرو) جب کافروں نے اپنے دلوں میں عصبیت پیدا کی اور عصبیت بھی جاہلیت والی اللہ نے اپنا سکون و اطمینان اپنے رسول(ص) اور اہلِ ایمان پر نازل فرمایا اور انہیں پرہیزگاری کی بات کا پابند رکھا کہ وہی اس کے زیادہ حقدار تھے اور اس کے اہل بھی اور اللہ ہر چیز کا بڑا جاننے والا ہے۔
لَقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوْلَهُ الرُّءْيَا بِالْحَقِّ١ۚ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ١ۙ مُحَلِّقِيْنَ رُءُوْسَكُمْ وَ مُقَصِّرِيْنَ١ۙ لَا تَخَافُوْنَ١ؕ فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا فَجَعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِكَ فَتْحًا قَرِيْبًا 48|27
بے شک اللہ نے اپننے رسول کو واقعہ کے مطابق بالکل سچا خواب دکھایا تھا کہ تم لوگ ضرور مسجد الحرام میں اطمینان کے ساتھ داخل ہو گے انشاء اللہ اپنے سروں کو منڈواتے ہوئے اور کچھ بال یا ناخن کٹواتے ہوئے تمہیں کوئی خوف نہ ہو گا (اللہ) اس بات کو جانتا تھا جو تم نہیں جانتے تھے تو اس نے اس (تعبیرِ خواب) سے پہلے تمہیں ایک قریبی فتح عطا کر دی۔
هُوَ الَّذِيْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهٖ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًاؕ 48|28
وہ (اللہ) وہی ہے جس نے اپنے رسول(ص) کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اس کو تمام دینوں پر غالب کر دے اور (اس بات کی) گواہی کیلئے اللہ کافی ہے۔
مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِيْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا سِيْمَاهُمْ فِيْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ١ؕ ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ١ۛۖۚ وَ مَثَلُهُمْ فِي الْاِنْجِيْلِ١ۛ۫ۚ كَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْـَٔهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰى عَلٰى سُوْقِهٖ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ١ؕ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِيْمًا 48|29
محمد (ص) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں مہربان ہیں تم انہیں دیکھو گے کہ وہ (کبھی) رکوع (اور کبھی) سجود کر رہے ہیں (اور) اللہ کے فضل و کرم اور اس کی خوشنودی کے طلبگار ہیں ان کی علامت ان کے چہروں پر سجدہ کے نشان سے نمایاں ہے ان کی توراۃ میں اور انجیل میں توصیف یوں ہے جیسے ایک کھیتی جس نے اپنی کونپل نکالی پھر اس کو تقویت دی اور وہ مضبوط و موٹی ہوئی پھر اپنے تنے پر کھڑی ہوگئی وہ کسانوں کو خوش کرتی ہے تاکہ ان کے ذریعہ سے کفار کے دل جلائے اللہ نے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے، مغفرت اور بڑے اجرو ثواب کا وعدہ کر رکھا ہے۔