يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْـَٔلُوْا عَنْ اَشْيَآءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَسْـَٔلُوْا عَنْهَا حِيْنَ يُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْ١ؕ عَفَا اللّٰهُ عَنْهَا١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِيْمٌ 5|101
اے ایمان والو! ایسی چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو۔ کہ جو اگر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں بری لگیں۔ اور اگر ان کے متعلق ایسے وقت میں سوال کروگے جبکہ قرآن اتر رہا ہے تو وہ تم پر ظاہر کر دی جائیں گی اللہ نے انہیں نظر انداز کر دیا ہے (یا اللہ نے تمہیں معاف کر دیا ہے) اور اللہ بڑا بخشنے والا، بڑا بردبار ہے۔
قَدْ سَاَلَهَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ ثُمَّ اَصْبَحُوْا بِهَا كٰفِرِيْنَ 5|102
تم سے پہلے بھی کچھ لوگوں نے اس قسم کے سوال (اپنے نبیوں سے) کئے تھے۔ پھر انہیں کی وجہ سے کافر (منکر) ہوگئے۔
مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنْۢ بَحِيْرَةٍ وَّ لَا سَآىِٕبَةٍ وَّ لَا وَصِيْلَةٍ وَّ لَا حَامٍ١ۙ وَّ لٰكِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ وَ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ 5|103
اللہ تعالیٰ نے کوئی بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام مقرر نہیں کیا مگر کافر اللہ پر جھوٹا بہتان باندھتے ہیں۔ اور ان میں سے اکثر عقل و شعور نہیں رکھتے۔
وَ اِذَا قِيْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ شَيْـًٔا وَّ لَا يَهْتَدُوْنَ 5|104
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اس (قرآن) کی طرف جو اللہ نے اتارا ہے اور آؤ پیغمبر(ص) کی طرف تو وہ کہتے ہیں کہ ہمارے لئے تو وہی (طریقہ) کافی ہے جس پر ہم نے اپنے آباء و اجداد کو پایا ہے اگرچہ ان کے باپ دادا نہ علم رکھتے ہوں اور نہ ہدایت یافتہ ہوں (تو بھی وہ انہی کے طریقہ کو کافی جانیں گے؟)
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ١ۚ لَا يَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَيْتُمْ١ؕ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 5|105
اے ایمان والو! تم پر لازم ہے کہ اپنی جانوں کی فکر کرو۔ جو گمراہ ہے وہ تمہارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا جب کہ تم ہدایت یافتہ ہو (راہِ راست پر ہو) تم سب کی بازگشت اللہ ہی کی طرف ہے پھر وہ تمہیں بتائے گا کہ تم دنیا میں کیا کرتے تھے؟ ۔
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِيْنَ الْوَصِيَّةِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَيْرِكُمْ اِنْ اَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِي الْاَرْضِ فَاَصَابَتْكُمْ مُّصِيْبَةُ الْمَوْتِ١ؕ تَحْبِسُوْنَهُمَا مِنْۢ بَعْدِ الصَّلٰوةِ فَيُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ اِنِ ارْتَبْتُمْ لَا نَشْتَرِيْ بِهٖ ثَمَنًا وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى ١ۙ وَ لَا نَكْتُمُ شَهَادَةَ١ اللّٰهِ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الْاٰثِمِيْنَ 5|106
اے ایمان والو! جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجائے جبکہ وہ وصیت کر رہا ہو تو تمہارے درمیان گواہی کا ضابطہ یہ ہے کہ تم مسلمانوں میں سے دو عادل گواہ ہونے چاہئیں۔ ہاں البتہ اگر تم سفر میں ہو اور تم پر موت کی مصیبت آپڑے (اور مسلمان گواہ نہ مل سکیں) تو پھر دو گواہ غیروں میں سے ہی لے لئے جائیں۔ اور اگر تمہیں شک پڑ جائے تو ان دونوں کو نماز کے بعد روک رکھو اور وہ دونوں ان الفاظ کے ساتھ اللہ کی قَسم کھائیں کہ ہم اس قَسم کے عوض کوئی قیمت (فائدہ) حاصل نہیں کر رہے ہیں۔ اگرچہ ہمارا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو اور ہم اللہ واسطے کی گواہی نہیں چھپائیں گے ورنہ یقینا ہم گنہگاروں میں سے ہوں گے۔
فَاِنْ عُثِرَ عَلٰۤى اَنَّهُمَا اسْتَحَقَّاۤ اِثْمًا فَاٰخَرٰنِ يَقُوْمٰنِ مَقَامَهُمَا مِنَ الَّذِيْنَ اسْتَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْاَوْلَيٰنِ فَيُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ لَشَهَادَتُنَاۤ اَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَ مَا اعْتَدَيْنَاۤ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِيْنَ 5|107
اور اگر بعد میں پتہ چلے کہ وہ (جھوٹی گواہی دے کر) گناہ کے مستوجب ہوئے ہیں تو پھر ان کی جگہ دو اور گواہ کھڑے ہوں (جو مرنے والے کے زیادہ) قریبی رشتہ دار ہوں جن کی حق تلفی ہوئی ہے اور اللہ کی قَسم کھائیں کہ ہماری گواہی ان (پہلے) دونوں کی گواہی سے زیادہ برحق ہے اور ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی ورنہ ہم ظالموں میں سے ہوں گے۔
ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ يَّاْتُوْا بِالشَّهَادَةِ عَلٰى وَجْهِهَاۤ اَوْ يَخَافُوْۤا اَنْ تُرَدَّ اَيْمَانٌۢ بَعْدَ اَيْمَانِهِمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اسْمَعُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ 5|108
یہ طریقہ کار زیادہ قریب ہے اس کے کہ گواہ ٹھیک طریقہ پر گواہی دیں گے یا کم از کم وہ اس بات کا خوف تو کریں گے کہ ان کی قَسموں کے بعد کہیں اور قَسموں سے ان کی تردید نہ ہو جائے (یا انہیں یہ اندیشہ تو ہوگا کہ ان کی قَسموں کے بعد دوسرے گواہوں سے بھی قَسمیں لی جا سکتی ہیں) اللہ (کی نافرمانی) سے ڈرو۔ اور سنو۔ اور اللہ نافرمان لوگوں کو منزل تک نہیں پہنچاتا۔
يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَا ذَاۤ اُجِبْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ 5|109
اس وقت کو یاد کرو) جب اللہ تمام رسولوں کو جمع کرکے پوچھے گا کہ تمہیں (اپنی امتوں کی طرف سے) کیا جواب ملا تھا تو وہ عرض کریں گے کہ ہمیں تو کچھ علم نہیں ہے۔ تو ہی غیب کی تمام باتوں کا بڑا جاننے والا ہے۔
اِذْ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِيْ عَلَيْكَ وَ عَلٰى وَ الِدَتِكَ١ۘ اِذْ اَيَّدْتُّكَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١۫ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَ كَهْلًا١ۚ وَ اِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِيْلَ١ۚ وَ اِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّيْنِ كَهَيْـَٔةِ الطَّيْرِ بِاِذْنِيْ فَتَنْفُخُ فِيْهَا فَتَكُوْنُ طَيْرًۢا بِاِذْنِيْ وَ تُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ بِاِذْنِيْ١ۚ وَ اِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتٰى بِاِذْنِيْ١ۚ وَ اِذْ كَفَفْتُ بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ عَنْكَ اِذْ جِئْتَهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِيْنٌ 5|110
اور وہ وقت یاد کرو) جب خدا فرمائے گا اے مریم کے فرزند عیسیٰ میرا وہ انعام یاد کرو۔ جو میں نے تم پر اور تمہاری والدہ پر کیا تھا۔ جب میں نے روح القدس سے تمہاری تائید کی (جس کی وجہ سے) تم گہوارے میں اور ادھیڑ عمر میں لوگوں سے (یکساں) باتیں کرتے تھے اور جب میں نے تمہیں کتاب (لکھنے) حکمت (دانائی)، توراۃ اور انجیل کی تعلیم دی تم میرے حکم سے مٹی سے پرندہ کی شکل (پتلا) بناتے تھے اور پھر اس میں پھونک مارتے تھے اور وہ میرے حکم سے (سچ مچ) پرندہ بن جاتا تھا۔ اور تم میرے حکم سے پیدائشی اندھے اور کوڑھی کو اچھا کر دیتے تھے اور تم میرے حکم سے مردوں کو (زندہ کرکے قبروں سے) نکالا کرتے تھے۔ اور جب میں نے بنی اسرائیل کو تم سے روکا تھا۔ جب تم ان کے پاس بینات و معجزات لائے تھے تو ان میں سے جو کافر (منکر حق) تھے انہوں نے کہا تھا کہ یہ نہیں ہے، مگر کھلا ہوا جادو۔