لَا يُحِبُّ اللّٰهُ (6)

سورۃ المائدہ (5)

(21-30)

يٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِيْ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَرْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِيْنَ 5|21

اے میری قوم! اس مقدس زمین میں داخل ہو جاؤ جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دی ہے اور (مقابلہ کے وقت) پیٹھ دکھا کر نہ بھاگنا۔ ورنہ نقصان اٹھا کر لوٹو گے۔

قَالُوْا يٰمُوْسٰۤى اِنَّ فِيْهَا قَوْمًا جَبَّارِيْنَ١ۖۗ وَ اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَا حَتّٰى يَخْرُجُوْا مِنْهَا١ۚ فَاِنْ يَّخْرُجُوْا مِنْهَا فَاِنَّا دٰخِلُوْنَ 5|22

انہوں نے (جواب میں) کہا: اے موسیٰ اس زمین میں تو بڑے زبردست (جابر) لوگ رہتے ہیں اور ہم وہاں ہرگز داخل نہیں ہوں گے جب تک وہ وہاں سے نکل نہ جائیں۔ ہاں البتہ اگر وہ وہاں سے نکل جائیں تو پھر ہم ضرور داخل ہو جائیں گے۔

قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِيْنَ يَخَافُوْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمَا ادْخُلُوْا عَلَيْهِمُ الْبَابَ١ۚ فَاِذَا دَخَلْتُمُوْهُ فَاِنَّكُمْ غٰلِبُوْنَ١ۚ۬ وَ عَلَى اللّٰهِ فَتَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ 5|23

اس وقت دو شخصوں نے جو (اللہ سے) ڈرنے والوں میں سے تھے۔ جنہیں اللہ نے (خصوصی) نعمت سے نوازا تھا۔ کہا۔ کہ تم ان (جباروں) پر چڑھائی کرکے دروازہ کے اندر گھس جاؤ اور جب تم اس کے اندر داخل ہوگے (تو وہ بھاگ کھڑے ہوں گے اور) تم غالب آجاؤگے اور اللہ پر بھروسہ کرو اگر تم ایمان دار ہو۔

قَالُوْا يٰمُوْسٰۤى اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِيْهَا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ 5|24

انہوں نے کہا موسیٰ! ہم ہرگز اس میں داخل نہیں ہوں گے۔ جب تک وہ اس میں ہیں۔ لہٰذا آپ اور آپ کا خدا دونوں چلے جائیں اور جا کر لڑیں ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔

قَالَ رَبِّ اِنِّيْ لَاۤ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِيْ وَ اَخِيْ فَافْرُقْ بَيْنَنَا وَ بَيْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِيْنَ 5|25

موسیٰ نے کہا پروردگار! میں اپنے اور اپنے بھائی کے سوا اور کسی پر کوئی قابو (اختیار) نہیں رکھتا۔ پس تو ہمارے اور اس نافرمان قوم کے درمیان فیصلہ کر دے۔

قَالَ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ اَرْبَعِيْنَ سَنَةً١ۚ يَتِيْهُوْنَ فِي الْاَرْضِ١ؕ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْفٰسِقِيْنَ 5|26

ﷲ نے فرمایا! پھر اب وہ (زمین) چالیس سال تک حرام ہے وہ لق و دق صحراء میں سرگردان پھرتے رہیں گے پس آپ اس نافرمان قوم پر افسوس نہ کریں۔

وَ اتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ ابْنَيْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ١ۘ اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِهِمَا وَ لَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِ١ؕ قَالَ لَاَقْتُلَنَّكَ١ؕ قَالَ اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ 5|27

(اے رسول(ص)) آپ انہیں آدم کے دونوں بیٹوں کا سچا قصہ پڑھ کر سنائیے۔ جب کہ ان دونوں نے قربانی پیش کی تو ایک کی تو قبول ہوگئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی۔ اس (دوسرے) نے کہا میں تمہیں ضرور قتل کروں گا۔ پہلے نے کہا اللہ تو صرف متقیوں (پرہیزگاروں) کا عمل قبول کرتا ہے۔

لَىِٕنْۢ بَسَطْتَّ اِلَيَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِيْ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ يَّدِيَ اِلَيْكَ لِاَقْتُلَكَ١ۚ اِنِّيْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ 5|28

اگر تو مجھے قتل کرنے کے لئے ہاتھ بڑھائے گا۔ تو میں تمہیں قتل کرنے کے لئے ہاتھ نہیں بڑھاؤں گا۔ (کیونکہ) میں تو ڈرتا ہوں اس اللہ سے، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔

اِنِّيْۤ اُرِيْدُ اَنْ تَبُوْٓءَاۡ بِاِثْمِيْ وَ اِثْمِكَ فَتَكُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ١ۚ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِيْنَ 5|29

میں تو یہ چاہتا ہوں کہ تو میرا گناہ اور اپنا گناہ سمیٹ لے جائے اور پھر دوزخیوں میں سے ہو جائے کہ ظالموں کی یہی سزا ہے۔

فَطَوَّعَتْ لَهٗ نَفْسُهٗ قَتْلَ اَخِيْهِ فَقَتَلَهٗ فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ 5|30

تو (بالآخر) اس کے نفس نے اپنے بھائی کے قتل کو اس کے لئے آسان بنا دیا۔ چنانچہ اس نے اسے قتل کر دیا اور وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگیا۔