وَ حَسِبُوْۤا اَلَّا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ فَعَمُوْا وَ صَمُّوْا ثُمَّ تَابَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ ثُمَّ عَمُوْا وَ صَمُّوْا كَثِيْرٌ مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِيْرٌۢ بِمَا يَعْمَلُوْنَ 5|71
اور خیال کرتے تھے کہ (انہیں) کوئی سزا نہیں ملے گی۔ اس لئے وہ اندھے اور بہرے ہوگئے پھر توبہ کی تو اللہ نے ان کی توبہ قبول کر لی (لیکن) اس کے بعد پھر ان میں سے بہت سے لوگ اندھے اور بہرے ہوگئے۔ وہ جو کچھ کر رہے ہیں۔ اللہ اسے خوب دیکھ رہا ہے۔
لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ١ؕ وَ قَالَ الْمَسِيْحُ يٰبَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيْ وَ رَبَّكُمْ١ؕ اِنَّهٗ مَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَ مَاْوٰىهُ النَّارُ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ 5|72
یقینا وہ لوگ کافر ہیں۔ جنہوں نے کہا کہ مسیح بن مریم ہی اللہ ہے حالانکہ خود عیسیٰ نے یہ کہا تھا کہ اے بنی اسرائیل اللہ کی عبادت کرو۔ جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار ہے۔ بے شک جو شخص کسی کو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرائے گا۔ تو اللہ اس پر جنت حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور ظالموں کا کوئی یار و مددگار نہیں ہے۔
لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ١ۘ وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّاۤ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ يَنْتَهُوْا عَمَّا يَقُوْلُوْنَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ 5|73
یقینا وہ لوگ (بھی) کافر ہو گئے جنہوں نے کہا کہ اللہ تین میں سے تیسرا ہے حالانکہ ایک خدا کے سوا کوئی خدا نہیں ہے۔ اور اگر یہ لوگ ان باتوں سے باز نہ آئے تو جو ان میں سے کفر پر برقرار رہیں گے تو انہیں ضرور دردناک عذاب پہنچے گا۔
اَفَلَا يَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَ يَسْتَغْفِرُوْنَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 5|74
یہ لوگ خدا کی بارگاہ میں توبہ کیوں نہیں کرتے اور اس سے (اپنے گناہوں کی) معافی کیوں نہیں مانگتے؟ درآنحالیکہ اللہ بڑا بخشنے والا بڑا رحم کرنے والا ہے۔
مَا الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ وَ اُمُّهٗ صِدِّيْقَةٌ١ؕ كَانَا يَاْكُلٰنِ الطَّعَامَ١ؕ اُنْظُرْ كَيْفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ الْاٰيٰتِ ثُمَّ انْظُرْ اَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ 5|75
مسیح گزر چکے ہیں ان کی ماں صدیقہ (راست باز خاتون) تھیں وہ دونوں کھانا کھاتے تھے۔ دیکھو ہم کس طرح ان کے سامنے واضح دلائل بیان کر رہے ہیں۔ پھر دیکھو یہ کدھر الٹے پھرے جا رہے ہیں۔
قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا١ؕ وَ اللّٰهُ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ 5|76
اے رسول(ص)) ان سے کہیئے! کیا تم اللہ کو کو چھوڑ کر اس کی عبادت کرتے ہو جو تمہیں نہ نفع پہنچا سکتا ہے نہ نقصان (نہ سود نہ زیاں؟) اور اللہ وہ ہے جو ہر بات کا سننے والا ہر چیز کا جاننے والا ہے۔
قُلْ يٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ غَيْرَ الْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعُوْۤا اَهْوَآءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَ اَضَلُّوْا كَثِيْرًا وَّ ضَلُّوْا عَنْ سَوَآءِ السَّبِيْلِ 5|77
کہیئے! اے اہل کتاب اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرو۔ اور ان لوگوں کی خواہشات اور ذاتی خیالات کی پیروی نہ کرو جو پہلے خود گمراہ ہو چکے ہیں۔ اور بہت سوں کو گمراہ کر چکے ہیں اور راہ راست سے بھٹک گئے ہیں۔
لُعِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا يَعْتَدُوْنَ 5|78
بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ان پر داؤد اور عیسیٰ بن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی یہ اس لیے کہ انہوں نے برابر نافرمانی کی اور حد سے بڑھ جاتے تھے۔
كَانُوْا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ 5|79
جو برائی وہ کرتے تھے۔ اس سے ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے تھے۔ کیسا برا تھا۔ وہ کام جو وہ کرتے تھے۔
تَرٰى كَثِيْرًا مِّنْهُمْ يَتَوَلَّوْنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا١ؕ لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ اَنْفُسُهُمْ اَنْ سَخِطَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ وَ فِي الْعَذَابِ هُمْ خٰلِدُوْنَ 5|80
آپ ان میں سے بہتوں کو دیکھیں گے کہ وہ اہلِ اسلام کے بالمقابل کافروں سے دوستی رکھتے ہیں بہت ہی برا ہے وہ (سامان) جو ان کے نفسوں نے ان کے لئے آگے بھیجا ہے۔ (جس سے) اللہ ان پر غضبناک ہوگیا اور وہ ہمیشہ ہمیشہ عذاب میں رہیں گے۔
وَ لَوْ كَانُوْا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ النَّبِيِّ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مَا اتَّخَذُوْهُمْ اَوْلِيَآءَ وَ لٰكِنَّ كَثِيْرًا مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ 5|81
اور اگر وہ خدا پر، رسول(ص) پر اور جو کچھ اس (رسول(ص)) پر نازل کیا گیا ہے۔ اس پر ایمان لاتے، تو ان کافروں کو اپنا دوست نہ بناتے۔ لیکن (بات دراصل یہ ہے کہ) ان میں سے زیادہ تر لوگ فاسق و فاجر (نافرمان) ہیں۔
لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا الْيَهُوْدَ وَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا١ۚ وَ لَتَجِدَنَّ اَقْرَبَهُمْ مَّوَدَّةً لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا الَّذِيْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيْسِيْنَ وَ رُهْبَانًا وَّ اَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ 5|82
اے پیغمبر(ص)! آپ اہل ایمان سے دشمنی کرنے میں سب لوگوں سے زیادہ سخت ترین دشمن یہودیوں اور مشرکوں کو پائیں گے اور اہل ایمان سے دوستی کرنے میں آپ سب سے زیادہ قریب ان لوگوں کو پائیں گے جو کہتے ہیں کہ ہم نصرانی ہیں یہ اس لئے ہے کہ ان میں پادری اور تارک الدنیا عابد پائے جاتے ہیں اور اس لیے کہ وہ تکبر نہیں کرتے۔