حٰمٓ (26)

سورۃ الذاریات (51)

(21-30)

وَ فِيْۤ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ 51|21

اور خود تمہارے وجود کے اندر بھی۔ کیا تم دیکھتے نہیں ہو؟

وَ فِي السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَ مَا تُوْعَدُوْنَ 51|22

اور آسمان میں تمہاری روزی بھی ہے اور وہ چیز بھی جس کا تم سے وعدہ وعید کیا جاتا ہے۔

فَوَرَبِّ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِنَّهٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَاۤ اَنَّكُمْ تَنْطِقُوْنَ 51|23

پس قَسم ہے آسمان و زمین کے پروردگار کی کہ یہ بات حق ہے جیسے کہ تم بو لتے ہو۔

هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ ضَيْفِ اِبْرٰهِيْمَ الْمُكْرَمِيْنَۘ 51|24

اے حبیب(ص)!) کیا آپ تک ابراہیم (‌ع) کے معزز مہمانوں کی بات پہنچی ہے؟

اِذْ دَخَلُوْا عَلَيْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ١ۚ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَۚ 51|25

کہ جب وہ آپ(ع) کے پاس آئے تو سلام کیا آپ(ع) نے بھی (جواب میں) سلام کیا۔ (پھر دل میں کہا) کچھ اجنبی لوگ ہیں۔

فَرَاغَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ فَجَآءَ بِعِجْلٍ سَمِيْنٍۙ 51|26

پس چپکے سے اپنے گھر والوں کے پاس گئے اور (تھوڑی دیر میں) ایک موٹا تازہ (بھنا ہوا) بچھڑالے آئے۔

فَقَرَّبَهٗۤ اِلَيْهِمْ قَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَ 51|27

جسے مہمانوں کے سامنے پیش کیا (مگر جب انہوں نے ہاتھ نہ بڑھائے تو) کہا آپ کھاتے کیوں نہیں؟

فَاَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ؕ وَ بَشَّرُوْهُ بِغُلٰمٍ عَلِيْمٍ 51|28

مگر جب انہوں نے پھر بھی کچھ نہ کھایا) تو آپ(ع) نے ان لوگوں سے اپنے اندر کچھ خوف محسوس کیا ان (مہمانوں نے) کہا ڈرئیے نہیں! اور پھر انہیں ایک صاحبِ علم بیٹے کی ولادت کی خوشخبری دی۔

فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُهٗ فِيْ صَرَّةٍ فَصَكَّتْ وَجْهَهَا وَ قَالَتْ عَجُوْزٌ عَقِيْمٌ 51|29

پس آپ(ع) کی بیوی (سارہ) چیختی ہوئی آئی اور اس نے اپنا منہ پیٹ لیا اور کہا بوڑھی، بانجھ؟ (بچہ کس طرح ہوگا؟)

قَالُوْا كَذٰلِكِ١ۙ قَالَ رَبُّكِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْحَكِيْمُ الْعَلِيْمُ 51|30

انہوں نے کہا! تمہارے پروردگار نے ایسا ہی کہا ہے بےشک وہ بڑا علیم و حکیم ہے۔