وَ لَوْ اَنَّنَا (8)

سورۃ الانعام (6)

(131-140)

ذٰلِكَ اَنْ لَّمْ يَكُنْ رَّبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا غٰفِلُوْنَ 6|131

یہ (رسولوں کا بھیجنا) اس لئے ہے کہ تمہارا پروردگار بستیوں کو ظلم و جور سے ہلاک نہیں کرتا۔ جبکہ ان کے رہنے والے بے خبر ہوں۔

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُوْنَ 6|132

اور ہر ایک کے لیے اس کے عمل کے مطابق درجے ہیں۔ اور جو کچھ لوگ کرتے رہتے ہیں آپ کا پروردگار اس سے غافل نہیں ہے۔

وَ رَبُّكَ الْغَنِيُّ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ وَ يَسْتَخْلِفْ مِنْۢ بَعْدِكُمْ مَّا يَشَآءُ كَمَاۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ ذُرِّيَّةِ قَوْمٍ اٰخَرِيْنَ 6|133

آپ کا پروردگار بے نیاز ہے، رحمت والا ہے، وہ اگر چاہے تو تم لوگوں کو لے جائے اور تمہاری جگہ تمہارے بعد جن کو چاہے لے آئے جس طرح اس نے تمہیں پیدا کیا اور لوگوں کی نسل سے۔

اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ لَاٰتٍ١ۙ وَّ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ 6|134

بے شک جو کچھ تم سے وعدہ وعید کیا گیا ہے وہ بے شک آکر رہے گا۔ اور تم (خدا کو) عاجز نہیں کر سکتے۔

قُلْ يٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّيْ عَامِلٌ١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ 6|135

اے رسول(ص)) کہہ دیجئے! اے میری قوم تم اپنے مرتبہ و مقام کے مطابق عمل کرتے رہو میں بھی اپنے مرتبہ کے مطابق عمل کر رہا ہوں عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ انجامِ کار کس کے حق میں بہتر ہے جو ظالم ہیں وہ فلاح نہیں پائیں گے۔

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَ الْاَنْعَامِ نَصِيْبًا فَقَالُوْا هٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَ هٰذَا لِشُرَكَآىِٕنَا۠١ۚ فَمَا كَانَ لِشُرَكَآىِٕهِمْ فَلَا يَصِلُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ مَا كَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ يَصِلُ اِلٰى شُرَكَآىِٕهِمْ١ؕ سَآءَ مَا يَحْكُمُوْنَ 6|136

ان لوگوں نے اللہ کے لیے اسی کی پیدا کی ہوئی کھیتی اور مویشیوں میں ایک حصہ مقرر کر رکھا ہے اور اپنے خیال کے مطابق کہتے ہیں کہ یہ حصہ اللہ کا ہے اور یہ ہمارے شریکوں (دیوتاؤں) کا ہے۔ جو حصہ ان کے شریکوں کا ہوتا ہے وہ تو اللہ کو نہیں پہنچتا اور جو حصہ اللہ کا ہے وہ ان کے شریکوں تک پہنچ جاتا ہے یہ لوگ کیا ہی برا فیصلہ کرتے ہیں۔

وَ كَذٰلِكَ زَيَّنَ لِكَثِيْرٍ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ قَتْلَ اَوْلَادِهِمْ شُرَكَآؤُهُمْ لِيُرْدُوْهُمْ وَ لِيَلْبِسُوْا عَلَيْهِمْ دِيْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا يَفْتَرُوْنَ 6|137

اور اسی طرح بہت سے مشرکوں کے لیے ان کے شریکوں نے ان کی اولاد کے قتل کرنے کو خوشنما بنا رکھا ہے تاکہ (انجامِ کار) انہیں تباہ کریں اور ان کے دین و مذہب کو ان پر مشتبہ کریں اگر اللہ (اپنی قدرتِ قاہرہ سے) چاہتا تو یہ ایسا نہ کرتے لہٰذا انہیں چھوڑیے اور ان کی افترا پردازیوں کو۔ (تاکہ وہ ان میں لگے رہیں)

وَ قَالُوْا هٰذِهٖۤ اَنْعَامٌ وَّ حَرْثٌ حِجْرٌ١ۖۗ لَّا يَطْعَمُهَاۤ اِلَّا مَنْ نَّشَآءُ بِزَعْمِهِمْ وَ اَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُوْرُهَا وَ اَنْعَامٌ لَّا يَذْكُرُوْنَ اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهَا افْتِرَآءً عَلَيْهِ١ؕ سَيَجْزِيْهِمْ بِمَا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ 6|138

اور وہ اپنی خام خیالی سے کہتے ہیں کہ یہ چوپائے اور کھیت ممنوع ہیں انہیں کوئی نہیں کھا سکتا مگر وہ جسے ہم چاہیں اور جو کچھ چوپائے ہیں جن کی پشت پر سواری اور باربرداری کو حرام قرار دے دیا گیا ہے اور کچھ چوپائے ایسے ہیں جن پر وہ اللہ کا نام نہیں لیتے اور یہ سب کچھ انہوں نے اللہ پر افترا پردازی کرتے ہوئے کیا ہے عنقریب اللہ انہیں ان کی افترا پردازی کا بدلہ دے گا۔

وَ قَالُوْا مَا فِيْ بُطُوْنِ هٰذِهِ الْاَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُوْرِنَا وَ مُحَرَّمٌ عَلٰۤى اَزْوَاجِنَا١ۚ وَ اِنْ يَّكُنْ مَّيْتَةً فَهُمْ فِيْهِ شُرَكَآءُ١ؕ سَيَجْزِيْهِمْ وَصْفَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِيْمٌ عَلِيْمٌ 6|139

اور وہ کہتے ہیں کہ جو ان چوپاؤں کے پیٹ میں ہے وہ ہمارے مردوں کے لیے مخصوص ہے اور ہماری عورتوں پر حرام ہے اور اگر وہ مردار ہوں تو وہ سب اس میں شریک ہیں عنقریب اللہ ان کو اس بات بنانے کا بدلہ دے گا کیونکہ وہ علیم و حکیم ہے۔

قَدْ خَسِرَ الَّذِيْنَ قَتَلُوْۤا اَوْلَادَهُمْ سَفَهًۢا بِغَيْرِ عِلْمٍ وَّ حَرَّمُوْا مَا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ افْتِرَآءً عَلَى اللّٰهِ١ؕ قَدْ ضَلُّوْا وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِيْنَ 6|140

یقینا وہ لوگ بڑے گھاٹے میں ہیں جنہوں نے علم کے بغیر محض جہالت اور حماقت کی وجہ سے اپنی اولاد کو قتل کیا۔ اور اللہ پر افترا پردازی کرکے اللہ کے دیے ہوئے رزق کو حرام قرار دیا بے شک وہ گمراہ ہوئے اور ہدایت یافتہ اور راہ یاب نہیں ہیں۔