قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ اَلَّا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَيْـًٔا وَّ بِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا١ۚ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَ اِيَّاهُمْ١ۚ وَ لَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ١ۚ وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ 6|151
اے رسول) ان سے کہو۔ آؤ میں تمہیں سناؤں وہ چیزیں جو تمہارے پروردگار نے تم پر حرام کی ہیں: (۱) یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ (۲) اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ (۳) اور اپنی اولاد کو فقر و فاقہ کے ڈر سے قتل نہ کرو۔ ہم تمہیں بھی روزی دیتے ہیں اور انہیں بھی (دیں گے)۔ (۴) اور بے شرمی و بے حیائی کے کاموں (جیسے جنسی غلط کاری) کے قریب بھی نہ جاؤ۔ خواہ وہ علانیہ ہوں اور خواہ پوشیدہ۔ (۵) اور نہ قتل کرو کسی ایسی جان کو جس کے قتل کو خدا نے حرام قرار دیا ہے مگر (شرعی) حق (جیسے قصاص وغیرہ) کے ساتھ۔ یہ وہ ہے جس کی اللہ نے تمہیں وصیت کی ہے۔ تاکہ تم عقل سے کام لو۔
وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ حَتّٰى يَبْلُغَ اَشُدَّهٗ١ۚ وَ اَوْفُوا الْكَيْلَ وَ الْمِيْزَانَ بِالْقِسْطِ١ۚ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا١ۚ وَ اِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى ١ۚ وَ بِعَهْدِ اللّٰهِ اَوْفُوْا١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ 6|152
۶) اور یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر ایسے طریقہ سے جو بہترین ہو یہاں تک کہ وہ اپنے سنِ رشد و کمال تک پہنچ جائے۔ (۷) اور ناپ تول انصاف کے ساتھ پوری کرو۔ ہم کسی شخص کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔ (۸) اور جب کوئی بات کہو تو عدل و انصاف کے ساتھ۔ اگرچہ وہ (شخص) تمہارا قرابتدار ہی کیوں نہ ہو۔ (۹) اور اللہ کے عہد و پیمان کو پورا کرو۔ یہ وہ ہے جس کی اس (اللہ) نے تمہیں وصیت کی ہے شاید کہ تم عبرت حاصل کرو۔
وَ اَنَّ هٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِيْمًا فَاتَّبِعُوْهُ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِهٖ١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ 6|153
۱۰) اور (یہ بھی کہو) یہ ہے میرا سیدھا راستہ اسی کی پیروی کرو۔ اور دوسرے راستوں کی پیروی نہ کرو ورنہ وہ تمہیں اس (اللہ) کے راستہ سے جدا کر دیں گے یہ ہے جس کی اللہ نے تمہیں وصیت کی ہے شاید کہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔
ثُمَّ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ تَمَامًا عَلَى الَّذِيْۤ اَحْسَنَ وَ تَفْصِيْلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ بِلِقَآءِ رَبِّهِمْ يُؤْمِنُوْنَ 6|154
پھر ہم نے موسیٰ کو وہ کتاب عطا کی جو نیک عمل کرنے والے پر نعمت کی تکمیل ہے۔ اور اس میں ہر چیز کی تفصیل ہے اور (لوگوں کے لیے) سراسر ہدایت و رحمت ہے تاکہ وہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضری و حضوری پر ایمان لائیں۔
وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَ اتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۙ 6|155
اور یہ (قرآن) بڑی بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے پس تم اس کی پیروی کرو اور تقویٰ اختیار کرو۔ شاید کہ تم پر رحم کیا جائے۔
اَنْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰى طَآىِٕفَتَيْنِ مِنْ قَبْلِنَا١۪ وَ اِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِيْنَ 6|156
اور اس لیے بھی نازل کی ہے کہ) تم یہ (نہ) کہو کہ ہم سے پہلے دو گروہوں (یہود و نصاریٰ) پر تو کتاب (تورات و انجیل) نازل کی گئی۔ اور ہم تو (عرب ہونے کی وجہ سے) ان کے پڑھنے پڑھانے سے غافل و بے خبر تھے۔
اَوْ تَقُوْلُوْا لَوْ اَنَّاۤ اُنْزِلَ عَلَيْنَا الْكِتٰبُ لَكُنَّاۤ اَهْدٰى مِنْهُمْ١ۚ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَيِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَّبَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَ صَدَفَ عَنْهَا١ؕ سَنَجْزِي الَّذِيْنَ يَصْدِفُوْنَ عَنْ اٰيٰتِنَا سُوْٓءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا يَصْدِفُوْنَ 6|157
یا یہ (نہ) کہو کہ اگر ہم پر کتاب نازل کی گئی ہوتی تو ہم ان لوگوں سے زیادہ راہِ راست پر ہوتے۔ تو اب (تمہارے تمام عذر بہانے قطع کرنے کے لیے) تمہارے پروردگار کی طرف سے کھلی ہوئی دلیل اور ہدایت و رحمت (قرآن کی صورت میں) آگئی ہے سو اب اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو آیاتِ الٰہی کو جھٹلائے اور ان سے روگردانی کرے۔ ہم عنقریب ان لوگوں کو جو ہماری آیات سے روگردانی کرتے ہیں۔ بڑے عذاب کی سزا دیں گے۔
هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِيَهُمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ اَوْ يَاْتِيَ رَبُّكَ اَوْ يَاْتِيَ بَعْضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ١ؕ يَوْمَ يَاْتِيْ بَعْضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا اِيْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ كَسَبَتْ فِيْۤ اِيْمَانِهَا خَيْرًا١ؕ قُلِ انْتَظِرُوْۤا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ 6|158
کیا یہ لوگ اب صرف اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں؟ یا تمہارا پروردگار بذات خود آجائے یا تمہارے پروردگار کی بعض خاص نشانیاں آجائیں۔ یہ تب (ایمان لائیں گے)۔ تو پھر (یاد رکھو) جس دن تمہارے پروردگار کی بعض مخصوص نشانیاں آجائیں گی تو اس دن ایسے شخص کو ایمان لانا کوئی فائدہ نہیں دے گا جو پہلے ایمان نہیں لایا ہوگا اور اپنے ایمان میں کوئی بھلائی نہ کمائی ہوگی۔ ان سے کہو کہ تم بھی انتظار کرو۔ ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔
اِنَّ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِيْ شَيْءٍ١ؕ اِنَّمَاۤ اَمْرُهُمْ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ 6|159
بے شک جن لوگوں نے اپنے دین میں تفرقہ ڈالا اور گروہ گروہ بن گئے آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے ان کا معاملہ بس اللہ کے حوالہ ہے۔ پھر وہ انہیں بتلائے گا کہ وہ کیا کیا کرتے تھے؟
مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَا١ۚ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا وَ هُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ 6|160
جو شخص ایک نیکی لے کر (اللہ کی بارگاہ میں) آئے گا اس کو دس گنا (اجر) ملے گا۔ اور جو ایک بدی لے کر آئے گا تو اسے اسی ایک کے برابر بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا