قَالَ الْمَلَاُ (9)

سورۃ الاعراف (7)

(141-150)

وَ اِذْ اَنْجَيْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ يَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ١ۚ يُقَتِّلُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ يَسْتَحْيُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِيْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِيْمٌ 7|141

اور یاد کرو وہ وقت جب ہم نے تمہیں فرعونیوں سے نجات عطا کی۔ جو تمہیں بدترین عذاب کا مزہ چکھاتے تھے تمہارے لڑکوں کو قتل کرتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ چھوڑتے تھے اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی آزمائش تھی۔

وَ وٰعَدْنَا مُوْسٰى ثَلٰثِيْنَ لَيْلَةً وَّ اَتْمَمْنٰهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِيْقَاتُ رَبِّهٖۤ اَرْبَعِيْنَ لَيْلَةً١ۚ وَ قَالَ مُوْسٰى لِاَخِيْهِ هٰرُوْنَ اخْلُفْنِيْ فِيْ قَوْمِيْ وَ اَصْلِحْ وَ لَا تَتَّبِعْ سَبِيْلَ الْمُفْسِدِيْنَ 7|142

اور ہم نے موسیٰ سے (توراۃ دینے کے لیے) تیس راتوں کا وعدہ کیا تھا اور اسے مزید دس (راتوں) سے مکمل کیا۔ اس طرح ان کے پروردگار کی مدت چالیس راتوں میں پوری ہوگئی اور جناب موسیٰ نے (کوہ طور پر جاتے وقت) اپنے بھائی ہارون سے کہا تم میری قوم میں میرے جانشین بن کر رہو۔ اور اصلاح کرتے رہو اور (خبردار) مفسدین کے راستہ پر نہ چلنا۔

وَ لَمَّا جَآءَ مُوْسٰى لِمِيْقَاتِنَا وَ كَلَّمَهٗ رَبُّهٗ١ۙ قَالَ رَبِّ اَرِنِيْۤ اَنْظُرْ اِلَيْكَ١ؕ قَالَ لَنْ تَرٰىنِيْ وَ لٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِيْ١ۚ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَهٗ دَكًّا وَّ خَرَّ مُوْسٰى صَعِقًا١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَكَ تُبْتُ اِلَيْكَ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِيْنَ 7|143

اور جب جنابِ موسیٰ ہمارے مقرر کردہ وقت پر آگئے اور ان کے پروردگار نے ان سے کلام کیا۔ تو انہوں نے کہا پروردگار! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیری طرف نگاہ کر سکوں۔ ارشاد ہوا تم مجھے کبھی نہیں دیکھ سکوگے۔ مگر ہاں اس پہاڑ کی طرف دیکھو۔ اگر یہ (تجلی حق کے وقت) اپنی جگہ پر برقرار رہا تو پھر امید کرنا کہ مجھے دیکھ سکوگے پس جب ان کے پروردگار نے پہاڑ پر اپنی تجلی ڈالی تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا اور موسیٰ غش کھا کر گر گئے۔ اور جب ہوش میں آئے تو بولے پاک ہے تیری ذات! میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلا ایمان لانے والا ہوں (کہ تو نظر نہیں آتا)

قَالَ يٰمُوْسٰۤى اِنِّي اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسٰلٰتِيْ وَ بِكَلَامِيۖ فَخُذْ مَاۤ اٰتَيْتُكَ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِيْنَ 7|144

ارشاد ہوا اے موسیٰ میں نے تمہیں اپنی پیغمبری اور ہمکلامی کے لیے تمام لوگوں سے منتخب کیا ہے پس جو چیز (توراۃ) میں نے تمہیں عطا کی ہے اسے لو اور شکر گزار بندوں میں سے ہو جاؤ۔

وَ كَتَبْنَا لَهٗ فِي الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَّوْعِظَةً وَّ تَفْصِيْلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ١ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّ اْمُرْ قَوْمَكَ يَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا١ؕ سَاُورِيْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِيْنَ 7|145

اور ہم نے موسیٰ کے لیے ان تختیوں میں ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی ہے۔ پس اسے مضبوطی سے پکڑ لو اور اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ اس کی بہترین باتوں کو لے لیں (اس کے احکام پر کاربند ہو جائیں) میں عنقریب تم لوگوں کو نافرمان لوگوں کا گھر دکھا دوں گا۔

سَاَصْرِفُ عَنْ اٰيٰتِيَ الَّذِيْنَ يَتَكَبَّرُوْنَ فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ١ؕ وَ اِنْ يَّرَوْا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤْمِنُوْا بِهَا١ۚ وَ اِنْ يَّرَوْا سَبِيْلَ الرُّشْدِ لَا يَتَّخِذُوْهُ سَبِيْلًا١ۚ وَ اِنْ يَّرَوْا سَبِيْلَ الْغَيِّ يَتَّخِذُوْهُ سَبِيْلًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِيْنَ 7|146

جو لوگ ناحق خدا کی زمین میں سرکشی کرتے ہیں میں اپنی نشانیوں سے ان کی نگاہیں پھرا دوں گا۔ وہ اگر ہر معجزہ بھی دیکھ لیں۔ تو پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ اور اگر وہ ہدایت کا راستہ دیکھ بھی لیں تو اسے اپنا راستہ نہیں بنائیں گے۔ اور اگر گمراہی کا راستہ دیکھ لیں تو (فوراً) اسے (اپنا) راستہ بنا لیں گے ان کی یہ حالت اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے ہماری آیتوں (نشانیوں) کو جھٹلایا اور ان سے غفلت برتتے رہے۔

وَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَ لِقَآءِ الْاٰخِرَةِ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ؕ هَلْ يُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 7|147

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو اور آخرت کی پیشی کو جھٹلایا ان کے سارے اعمال ضائع ہوگئے پس انہیں جزا یا سزا نہیں دی جائے گی مگر انہی اعمال کی جو وہ (دار دنیا میں) کرتے تھے۔

وَ اتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰى مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ حُلِيِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ١ؕ اَلَمْ يَرَوْا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمْ وَ لَا يَهْدِيْهِمْ سَبِيْلًا١ۘ اِتَّخَذُوْهُ وَ كَانُوْا ظٰلِمِيْنَ 7|148

اور موسیٰ کی قوم نے ان کے (کوہِ طور پر چلے جانے کے) بعد اپنے زیوروں سے (ان کو گلا کر) ایک بچھڑے کا پتلا بنا لیا جس سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی۔ کیا انہوں نے اتنا بھی نہ دیکھا (نہ سوچا) کہ وہ نہ ان سے بات کرتا ہے اور نہ ہی کسی طرح کی راہنمائی کر سکتا ہے پھر بھی انہوں نے اسے (معبود) بنا لیا اور وہ (اپنے اوپر) سخت ظلم کرنے والے تھے۔

وَ لَمَّا سُقِطَ فِيْۤ اَيْدِيْهِمْ وَ رَاَوْا اَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوْا١ۙ قَالُوْا لَىِٕنْ لَّمْ يَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَ يَغْفِرْ لَنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ 7|149

پھر جب وہ نادم ہوئے اور کفِ افسوس مَلنے لگے اور محسوس کیا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں۔ تو کہنے لگے کہ ہمارے پروردگار نے ہم پر رحم نہ کیا اور ہمیں نہ بخشا تو ہم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔

وَ لَمَّا رَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۙ قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِيْ مِنْۢ بَعْدِيْ١ۚ اَعَجِلْتُمْ اَمْرَ رَبِّكُمْ١ۚ وَ اَلْقَى الْاَلْوَاحَ وَ اَخَذَ بِرَاْسِ اَخِيْهِ يَجُرُّهٗۤ اِلَيْهِ١ؕ قَالَ ابْنَ اُمَّ اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِيْ وَ كَادُوْا يَقْتُلُوْنَنِيْ فَلَا تُشْمِتْ بِيَ الْاَعْدَآءَ وَ لَا تَجْعَلْنِيْ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ 7|150

اور جب موسیٰ خشمناک اور افسوس کرتے ہوئے اپنی قوم کے پاس واپس آئے۔ تو فرمایا: اے قوم! تم نے میرے بعد بہت ہی بری جانشینی کی۔ کیا تم نے اپنے پروردگار کا حکم آنے سے پہلے جلد بازی کر لی (وعدہ خداوندی چالیس راتوں کے پورا ہونے کی انتظار بھی نہ کی) اور پھر (للہی جوش میں آخر تورات کی) تختیاں (ہاتھ سے) پھینک دیں اور اپنے بھائی (ہارون) کا سر ہاتھ میں لے کر اپنی طرف کھینچنے لگے۔ انہوں نے کہا اے میرے ماں جائے! قوم نے مجھے کمزور اور بے بس کر دیا تھا اور قریب تھا کہ مجھے قتل کر ڈالیں پس تم مجھ پر دشمنوں کو ہنسنے کا موقع نہ دو۔ اور نہ ہی مجھے ظالم گروہ کے ساتھ شامل کرو۔