وَ اعْلَمُوْۤا (10)

سورۃ التوبہ (9)

(41-50)

اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا وَّ جَاهِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ 9|41

اے مسلمانو!) ہلکے پھلکے اور بھاری بوجھل نکل پڑو۔ اور اللہ کی راہ میں اپنے مال و جان کے ساتھ جہاد کرو۔ یہ بات تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِيْبًا وَّ سَفَرًا قَاصِدًا لَّاتَّبَعُوْكَ وَ لٰكِنْۢ بَعُدَتْ عَلَيْهِمُ الشُّقَّةُ١ؕ وَ سَيَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَكُمْ١ۚ يُهْلِكُوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ 9|42

اے رسول(ص)) اگر فائدہ قریب اور سفر آسان ہوتا تو یہ (منافق) ضرور تمہارے پیچھے چلتے لیکن انہیں راہ دور کی دکھائی دی (اس لئے قطعِ مسافت دشوار ہوگئی) وہ عنقریب اللہ کے نام کی قَسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ اگر ہم مقدور رکھتے تو ضرور آپ کے ساتھ نکلتے۔ یہ لوگ (جھوٹی قَسمیں کھا کر) اپنے کو ہلاکت میں ڈال رہے ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ وہ قطعاً جھوٹے ہیں۔

عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ١ۚ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَكَ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا وَ تَعْلَمَ الْكٰذِبِيْنَ 9|43

اے رسول(ص)) اللہ آپ کو معاف کرے آپ نے انہیں کیوں (پیچھے رہ جانے کی) اجازت دے دی۔ جب تک آپ پر واضح نہ ہو جاتا کہ سچے کون ہیں اور معلوم نہ ہو جاتا کہ جھوٹے کون؟

لَا يَسْتَاْذِنُكَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ يُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِالْمُتَّقِيْنَ 9|44

جو لوگ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں وہ کبھی آپ سے اجازت طلب نہیں کریں گے کہ وہ اپنے مال و جان سے (اللہ کی راہ میں) جہاد کریں۔ اور اللہ پرہیز گاروں کو خوب جانتا ہے۔

اِنَّمَا يَسْتَاْذِنُكَ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَ ارْتَابَتْ قُلُوْبُهُمْ فَهُمْ فِيْ رَيْبِهِمْ يَتَرَدَّدُوْنَ 9|45

اس قسم کی اجازت وہی لوگ طلب کرتے ہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے۔ اور ان کے دل شک میں پڑ گئے ہیں اور وہ اپنے شک میں بھٹک رہے ہیں۔

وَ لَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَهٗ عُدَّةً وَّ لٰكِنْ كَرِهَ اللّٰهُ انْۢبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَ قِيْلَ اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِيْنَ 9|46

اگر ان لوگوں نے نکلنے کا ارادہ کیا ہوتا تو اس کے لئے کچھ نہ کچھ سروسامان کی تیاری ضرور کرتے لیکن (حقیقت الامر تو یہ ہے کہ) اللہ کو ان کا اٹھنا اور نکالنا ناپسند تھا۔ اس لئے اس نے ان کو کاہل (اور سست) کر دیا۔ اور (گویا ان سے) کہہ دیا گیا کہ بیٹھے رہو بیٹھنے والوں کے ساتھ۔

لَوْ خَرَجُوْا فِيْكُمْ مَّا زَادُوْكُمْ اِلَّا خَبَالًا وَّ لَاۡاَوْضَعُوْا خِلٰلَكُمْ يَبْغُوْنَكُمُ الْفِتْنَةَ١ۚ وَ فِيْكُمْ سَمّٰعُوْنَ لَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِالظّٰلِمِيْنَ 9|47

اگر وہ تمہارے ساتھ نکلتے تو تمہاری خرابی میں اضافہ ہی کرتے اور فتنہ پردازی کے لئے دوڑ دھوپ کرتے اور تمہارے اندر (ہنوز) ایسے لوگ (جاسوس) موجود ہیں جو ان کی باتوں پر کان دھرنے والے ہیں (جاسوسی کرتے ہیں)۔ اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔

لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ وَ قَلَّبُوْا لَكَ الْاُمُوْرَ حَتّٰى جَآءَ الْحَقُّ وَ ظَهَرَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ 9|48

وہ لوگ اس سے پہلے بھی فتنہ پردازی میں کوشاں رہے ہیں اور آپ کے معاملات کو درہم برہم اور الٹ پلٹ کرتے رہے ہیں یہاں تک کہ حق (سامنے) آگیا (نمایاں ہوگیا) اور اللہ کا حکم غالب ہوا۔ جبکہ وہ ناپسند کرتے تھے۔

وَ مِنْهُمْ مَّنْ يَّقُوْلُ ائْذَنْ لِّيْ وَ لَا تَفْتِنِّيْ١ؕ اَلَا فِي الْفِتْنَةِ سَقَطُوْا١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِيْنَ 9|49

اور ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ مجھے (گھر میں بیٹھے رہنے کی) اجازت دے دیں۔ اور مجھے فتنہ میں نہ ڈالیں خبردار! وہ فتنہ میں تو خود پڑ ہی چکے ہیں اور بلاشبہ جہنم کافروں کو گھیرے ہوئے ہے۔

اِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْكَ مُصِيْبَةٌ يَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَاۤ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَ يَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ فَرِحُوْنَ 9|50

اگر آپ کو کوئی بھلائی پہنچے تو ان کو بری لگتی ہے اور اگر آپ پر کوئی مصیبت آجائے تو کہتے ہیں کہ ہم نے تو پہلے ہی اپنا معاملہ ٹھیک کر لیا تھا۔ اور وہ (یہ کہہ کر) خوش خوش واپس لوٹ جاتے ہیں۔