وَ اعْلَمُوْۤا (10)

سورۃ التوبہ (9)

(81-93)

فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰهِ وَ كَرِهُوْۤا اَنْ يُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ قَالُوْا لَا تَنْفِرُوْا فِي الْحَرِّ١ؕ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا١ؕ لَوْ كَانُوْا يَفْقَهُوْنَ 9|81

جو (منافق جنگ تبوک میں) پیچھے چھوڑ دیے گئے وہ رسولِ خدا(ص) کے پیچھے (ان کی خواہش کے خلاف) اپنے گھروں میں بیٹھے رہنے پر خوش ہوئے اور خدا کی راہ میں اپنے مال و جان سے جہاد کرنے کو ناپسند کیا۔ اور (دوسروں سے بھی) کہا کہ گرمی میں سفر نہ کرو۔ کہہ دیجیے! کہ دوزخ کی آگ (اس سے) زیادہ گرم ہے کاش وہ یہ بات سمجھتے۔

فَلْيَضْحَكُوْا قَلِيْلًا وَّ لْيَبْكُوْا كَثِيْرًا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ 9|82

ان (برے) کاموں کے بدلہ میں جو یہ لوگ کرتے ہیں انہیں چاہیے کہ اب وہ ہنسیں کم اور روئیں زیادہ۔

فَاِنْ رَّجَعَكَ اللّٰهُ اِلٰى طَآىِٕفَةٍ مِّنْهُمْ فَاسْتَاْذَنُوْكَ لِلْخُرُوْجِ فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِيَ اَبَدًا وَّ لَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِيَ عَدُوًّا١ؕ اِنَّكُمْ رَضِيْتُمْ بِالْقُعُوْدِ اَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقْعُدُوْا مَعَ الْخٰلِفِيْنَ 9|83

اے نبی(ص)) اگر اللہ آپ کو واپس لائے ان کے کسی گروہ کی طرف۔ اور وہ آپ سے جہاد کے لیے نکلنے کی اجازت مانگے تو کہہ دیجیے کہ اب تم میرے ساتھ کبھی نہیں نکل سکتے۔ اور میرے ہمراہ ہو کر کبھی دشمن سے جنگ نہیں کر سکتے تم نے پہلی بار (گھر میں) بیٹھ رہنا پسند کیا۔ تو اب بھی بیٹھے رہو پیچھے رہ جانے والوں (بچوں اور عورتوں) کے ساتھ۔

وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمْ عَلٰى قَبْرِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ فٰسِقُوْنَ 9|84

اور ان میں سے جو کوئی مر جائے تو اس کی نمازِ جنازہ نہ پڑھیں اور نہ ہی اس کی قبر پر کھڑے ہوں۔ بلاشبہ انہوں نے خدا و رسول کے ساتھ کفر کیا اور وہ فسق و نافرمانی کی حالت میں مرے ہیں۔

وَ لَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الدُّنْيَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ 9|85

اور ان کے مال و اولاد آپ کو حیرت و تعجب میں نہ ڈالیں خدا چاہتا ہے کہ انہی چیزوں کے ذریعہ سے انہیں سزا دے اور ان کی جانیں اس حال میں نکلیں کہ وہ کافر ہوں۔

وَ اِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ اَنْ اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ جَاهِدُوْا مَعَ رَسُوْلِهِ اسْتَاْذَنَكَ اُولُوا الطَّوْلِ مِنْهُمْ وَ قَالُوْا ذَرْنَا نَكُنْ مَّعَ الْقٰعِدِيْنَ 9|86

اور جب کوئی اس قسم کی سورت نازل ہوتی ہے کہ اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول کے ہمراہ ہو کر جہاد کرو۔ تو ان میں سے جو مقدور والے ہیں وہ آپ سے رخصت مانگتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں چھوڑ دیں تاکہ ہم گھر میں بیٹھ رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہیں۔

رَضُوْا بِاَنْ يَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ وَ طُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا يَفْقَهُوْنَ 9|87

ان لوگوں نے یہ بات پسند کی کہ گھر میں پیچھے رہ جانے والی عورتوں کے ساتھ رہیں اور (ان کے نفاق و کفر کی وجہ سے) ان کے دلوں پر مہر لگ گئی ہے۔ بس یہ کچھ سمجھتے ہی نہیں ہیں۔

لٰكِنِ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمُ الْخَيْرٰتُ١ وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ 9|88

لیکن اللہ کے رسول اور جو ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں انہوں نے اپنے مال اور اپنی جان کے ساتھ جہاد کیا اور یہی وہ ہیں جن کے لئے ساری بھلائیاں ہیں۔ اور یہی کامیاب ہونے والے ہیں۔

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ 9|89

اللہ نے ان کے لئے ایسے بہشت (باغات) تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔

وَ جَآءَ الْمُعَذِّرُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ لِيُؤْذَنَ لَهُمْ وَ قَعَدَ الَّذِيْنَ كَذَبُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ سَيُصِيْبُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ 9|90

اور صحرائی بَدوؤں میں عذر کرنے والے (آپ کے پاس) آئے کہ انہیں پیچھے رہ جانے کی اجازت دے دی جائے۔ اور جنہوں نے (اسلام کا اظہار کرکے) خدا و رسول سے جھوٹ بولا تھا وہ (بلا اجازت) گھروں میں بیٹھے رہے۔ ان میں سے جنہوں نے کفر اختیار کیا ہے انہیں عنقریب دردناک عذاب پہنچے گا۔

لَيْسَ عَلَى الضُّعَفَآءِ وَ لَا عَلَى الْمَرْضٰى وَ لَا عَلَى الَّذِيْنَ لَا يَجِدُوْنَ مَا يُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ مَا عَلَى الْمُحْسِنِيْنَ مِنْ سَبِيْلٍ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 9|91

کمزوروں، بیماروں پر اور ان ناداروں پر خرچ کرنے کے لیے کچھ نہیں رکھتے کوئی گناہ نہیں ہے (اگر جہاد میں شریک نہ ہوں) بشرطیکہ وہ خلوصِ دل سے اللہ اور رسول کے وفادار ہوں۔ نیکوکاروں پر کوئی الزام نہیں ہے اور اللہ بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔

وَّ لَا عَلَى الَّذِيْنَ اِذَا مَاۤ اَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ١۪ تَوَلَّوْا وَّ اَعْيُنُهُمْ تَفِيْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا يَجِدُوْا مَا يُنْفِقُوْنَ 9|92

اور نہ ہی ان لوگوں پر کوئی گناہ ہے جو آپ کے پاس آتے ہیں کہ آپ ان کے لئے سواری کا کوئی انتظام کریں۔ اور آپ نے کہا کہ میرے پاس سواری کے لئے کچھ نہیں ہے۔ تو وہ اس حال میں مجبوراً واپس گئے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اس رنج میں کہ ان کے پاس (راہِ خدا میں) خرچ کرنے کے لیے کچھ میسر نہیں ہے۔

اِنَّمَا السَّبِيْلُ عَلَى الَّذِيْنَ يَسْتَاْذِنُوْنَكَ وَ هُمْ اَغْنِيَآءُ١ۚ رَضُوْا بِاَنْ يَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ١ۙ وَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ 9|93

ہاں البتہ الزام (اور اعتراض) ان لوگوں پر ہے کہ باوجود دولت مند ہونے کے آپ سے (بیٹھے رہنے کی) اجازت مانگتے ہیں انہوں نے اس بات کو پسند کیا کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ رہیں اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے اس لئے وہ کچھ جانتے بوجھتے نہیں ہیں۔