قَالَ اَلَمْ (16)

سورۃ مریم (19)

(1-10)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

كٓهٰيٰعٓصٓ 19|1

کاف۔ ہا۔ یا۔ عین۔ صاد۔

ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهٗ زَكَرِيَّا 19|2

اے رسول (ص)) آپ کے پروردگار نے اپنے (خاص) بندے زکریا(ع) پر جو (خاص) رحمت کی تھی یہ اس کا تذکرہ ہے۔

اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَآءً خَفِيًّا 19|3

جب انہوں نے اپنے پروردگار کو چپکے چپکے پکارا۔

قَالَ رَبِّ اِنِّيْ وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّيْ وَ اشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَيْبًا وَّ لَمْ اَكُنْۢ بِدُعَآىِٕكَ رَبِّ شَقِيًّا 19|4

کہا اے میرے پروردگار! میری ہڈیاں کمزور ہوگئی ہیں اور سر میں بڑھاپے کے شعلے بھڑک اٹھے ہیں۔ (بال سفید ہوگئے ہیں) اور میرے پروردگار میں کبھی تجھ سے دعا مانگ کر نامراد نہیں رہا ہوں۔

وَ اِنِّيْ خِفْتُ الْمَوَالِيَ مِنْ وَّرَآءِيْ وَ كَانَتِ امْرَاَتِيْ عَاقِرًا فَهَبْ لِيْ مِنْ لَّدُنْكَ وَلِيًّا 19|5

اور میں اپنے بعد بھائی بندوں سے ڈرتا ہوں۔ اور میری بیوی بانجھ ہے سو تو ہی مجھے (خاص) اپنے پاس سے ایک وارث عطا کر۔

يَّرِثُنِيْ وَ يَرِثُ مِنْ اٰلِ يَعْقُوْبَ١ۖۗ وَ اجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيًّا 19|6

جو میرا بھی وارث بنے اور آل یعقوب کا بھی اور اے میرے پروردگار! تو اسے پسندیدہ بنا۔

يٰزَكَرِيَّاۤ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمِ ا۟سْمُهٗ يَحْيٰى ١ۙ لَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا 19|7

(ارشاد ہوا) اے زکریا! ہم تمہیں ایک لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں۔ جس کا نام یحییٰ ہوگا جس کا اس سے پہلے ہم نے کوئی ہمنام نہیں بنایا۔

قَالَ رَبِّ اَنّٰى يَكُوْنُ لِيْ غُلٰمٌ وَّ كَانَتِ امْرَاَتِيْ عَاقِرًا وَّ قَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا 19|8

زکریا نے (از راہ تعجب) کہا اے میرے پروردگار! میرے ہاں لڑکا کیسے ہوگا؟ جبکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کی انتہا کو پہنچا ہوا ہوں۔

قَالَ كَذٰلِكَ١ۚ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ وَّ قَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ تَكُ شَيْـًٔا 19|9

ارشاد ہوا: ایسا ہی ہوگا۔ تمہارا پروردگار فرماتا ہے کہ وہ مجھ پر آسان ہے اور میں نے ہی اس سے پہلے تمہیں پیدا کیا جبکہ تم کچھ بھی نہ تھے۔

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّيْۤ اٰيَةً١ؕ قَالَ اٰيَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَيَالٍ سَوِيًّا 19|10

زکریا (ع) نے عرض کیا: اے میرے پروردگار! میرے لئے کوئی علامت قرار دے۔ ارشاد ہوا تمہارے لئے علامت یہ ہے کہ تم تندرست ہوتے ہوئے بھی برابر تین رات (دن) تک لوگوں سے بات نہیں کر سکوگے۔