سَيَقُولُ(2)

سورۃ البقرہ (2)

(171-180)

وَ مَثَلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِيْ يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ اِلَّا دُعَآءً وَّ نِدَآءً١ؕ صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ (2|171)

اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ان کی مثال دعوت حق دینے میں اس شخص (چرواہے) کی سی ہے جو ایسے (جانور) کو پکارنے میں اپنا گلہ پھاڑے (چیخ و پکار مچائے) جو چیخ و پکار کی آواز کے سوا کچھ سنتا ہی نہیں ہے۔ (یہ کافر) ایسے بہرے، گونگے اور اندھے ہیں کہ عقل سے کچھ کام ہی نہیں لیتے۔

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِلّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِيَّاهُ تَعْبُدُوْنَ (2|172)

اے ایمان والو! جو پاک و پاکیزہ چیزیں ہم نے تمہیں دی ہیں ان میں سے کھاؤ۔ اور اللہ کا شکر کرو۔ اگر تم اس کی عبادت و پرستش کرتے ہو۔

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِيْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ بِهٖ لِغَيْرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَيْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ (2|173)

اس نے (چوپایوں میں سے) صرف تمہارے او پر مردار، خون، سور کا گوشت اور وہ (ذبیحہ) جسے اللہ کے سوا کسی اور کا نام لے کر ذبح کیا گیا ہو۔ حرام قرار دیا ہے۔ پس جو شخص (شدت گرسنگی سے) مجبور ہو جائے درآنحالیکہ وہ بغاوت یا سرکشی کرنے والا نہ ہو۔ تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے بے شک خدا بڑا بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ يَشْتَرُوْنَ بِهٖ ثَمَنًا قَلِيْلًا١ۙ اُولٰٓىِٕكَ مَا يَاْكُلُوْنَ فِيْ بُطُوْنِهِمْ اِلَّا النَّارَ وَ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَ لَا يُزَكِّيْهِمْ١ۖۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ (2|174)

بالتحقیق جو لوگ کتابِ خدا میں سے ان باتوں کو چھپاتے ہیں جو خدا نے نازل کی ہیں اور ان کے عوض تھوڑی سی قیمت وصول کرتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں آگ کے سوا کچھ بھی نہیں بھر رہے ہیں قیامت کے دن وہ توجہ ربانی سے اس قدر محروم ہوں گے کہ خدائے تعالیٰ ان سے بات تک نہیں کرے گا۔ اور نہ ہی انہیں (گناہوں کی کثافت سے) پاک کرے گا۔ اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔

اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى وَ الْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ١ۚ فَمَاۤ اَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ (2|175)

یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے عوض گمراہی اور بخشش کے عوض عذاب کو خرید لیا۔ یہ کس قدر صبر کرنے والے ہیں دوزخ پر۔

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ نَزَّلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِي الْكِتٰبِ لَفِيْ شِقَاقٍۭ بَعِيْدٍ (2|176)

یہ (سب کچھ) اس لئے ہے کہ خدا نے حق اور سچائی کے ساتھ کتاب اتاری تھی مگر وہ لوگ جنہوں نے اس میں اختلاف کیا (طرح طرح کی باتیں کیں) بے شک وہ بڑی تفرقہ اندازی اور فتنہ پروری میں پڑ گئے ہیں (اور ضد میں بہت دور جا چکے ہیں)۔

لَيْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةِ وَ الْكِتٰبِ وَ النَّبِيّٖنَ١ۚ وَ اٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِي الْقُرْبٰى وَ الْيَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِيْنَ وَ ابْنَ السَّبِيْلِ١ۙ وَ السَّآىِٕلِيْنَ وَ فِي الرِّقَابِ١ۚ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ١ۚ وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا١ۚ وَ الصّٰبِرِيْنَ فِي الْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِيْنَ الْبَاْسِ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا١ؕ وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ (2|177)

نیکی صرف یہی تو نہیں ہے کہ تم (نماز میں) اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لو۔ بلکہ (حقیقی) نیکی تو یہ ہے کہ آدمی خدا پر، روزِ آخرت پر، فرشتوں پر، (اللہ کی) کتابوں پر اور سب پیغمبروں پر ایمان لائے۔ اور اس (خدا) کی محبت میں اپنا مال (باوجودِ مال کی محبت کے) رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں، مانگنے والوں اور (غلاموں، کنیزوں اور مقروضوں کی) گردنیں چھڑانے میں صرف کرے، نماز قائم کرے، زکوٰۃ ادا کرے (دراصل) نیک لوگ تو وہ ہوتے ہیں کہ جب کوئی عہد کر لیں تو اپنا عہد و پیمان پورا کرتے ہیں اور تنگ دستی ہو یا بیماری اور تکلیف ہو یا ہنگام جنگ ہو وہ بہرحال ثابت قدم رہتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جو (سچے) ہیں اور یہی متقی و پرہیزگار ہیں۔

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلٰى ١ؕ اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَ الْاُنْثٰى بِالْاُنْثٰى١ؕ فَمَنْ عُفِيَ لَهٗ مِنْ اَخِيْهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ وَ اَدَآءٌ اِلَيْهِ بِاِحْسَانٍ١ؕ ذٰلِكَ تَخْفِيْفٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ رَحْمَةٌ١ؕ فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِيْمٌ (2|178)

اے ایمان والو! ان کے بارے میں جو (ناحق قتل کر دیئے گئے ہوں) تم پر قصاص (خون کا بدلہ خون) لکھ دیا گیا ہے یعنی آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت۔ ہاں جس (قاتل) کے لیے اس کے (ایمانی) بھائی (مقتول کے ولی) کی جانب سے کچھ (قصاص) معاف کر دیا جائے تو اس (معاف کرنے والے) کو (چاہیے کہ) نیکی کا اتباع کرے (خون بہا کا مطالبہ کرنے میں سختی نہ کرے) اور (جسے معاف کیا گیا ہے اسے بھی چاہیے کہ) خوش اسلوبی کے ساتھ (خون بہا) ادا کرے۔ یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے رعایت و رحمت (اور آسانی و مہربانی) ہے۔ پس اس کے بعد بھی جو زیادتی کرے تو اس کیلئے دردناک عذاب ہے

وَ لَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيٰوةٌ يّٰۤاُولِي الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ (2|179)

اے صاحبانِ عقل! تمہارے لئے قصاص یعنی جان کے بدلے جان والے قانون میں زندگی ہے تاکہ تم (خون ریزی سے) بچتے رہو۔

كُتِبَ عَلَيْكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ اِنْ تَرَكَ خَيْرَا١ۖۚ ا۟لْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَ الْاَقْرَبِيْنَ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِيْنَ (2|180)

تم پر لکھ دیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کے سامنے موت آکھڑی ہو۔ بشرطیکہ وہ کچھ مال چھوڑے جا رہا ہو تو مناسب وصیت کر جائے اپنے ماں، باپ اور زیادہ قریبی رشتہ داروں کیلئے۔ یہ پرہیزگاروں کے ذمہ حق ہے (لازم ہے)۔