فَمَنْۢ بَدَّلَهٗ بَعْدَ مَا سَمِعَهٗ فَاِنَّمَاۤ اِثْمُهٗ عَلَى الَّذِيْنَ يُبَدِّلُوْنَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ (2|181)
جو شخص اس (وصیت) کو سننے کے بعد اس میں رد و بدل کرے تو اس کا گناہ انہی لوگوں پر ہوگا جو رد و بدل کریں گے۔ بے شک خدا خوب سننے والا اور خوب جاننے والا ہے۔
فَمَنْ خَافَ مِنْ مُّوْصٍ جَنَفًا اَوْ اِثْمًا فَاَصْلَحَ بَيْنَهُمْ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَيْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ (2|182)
اب جو شخص کسی وصیت کرنے والے کی طرف سے کسی (وارث) کی حق تلفی یا گناہ کا خوف محسوس کرے اور ان (ورثہ) کے درمیان اصلاح (سمجھوتہ) کرا دے، تو اس پر (اس ردوبدل کرنے کا) کوئی گناہ نہیں ہے۔ بے شک اللہ بڑا بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ (2|183)
اے ایمان والو! روزہ اس طرح تم پر لکھ دیا گیا ہے (فرض کر دیا گیا ہے) جس طرح تم سے پہلے والوں پر لکھ دیا گیا تھا۔ تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔
اَيَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ١ؕ وَ عَلَى الَّذِيْنَ يُطِيْقُوْنَهٗ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِيْنٍ١ؕ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَّهٗ١ؕ وَ اَنْ تَصُوْمُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (2|184)
یہ گنتی کے چند دن ہیں (اس کے باوجود) اگر تم میں سے کوئی شخص بیمار ہو جائے یا سفر میں ہو۔ تو اتنے ہی دن اور دنوں میں پورے کرے۔ اور جو اپنی پوری طاقت صرف کرکے بمشکل روزہ رکھ سکتے ہوں تو وہ فی روزہ ایک مسکین کی خوراک فدیہ ادا کریں۔ اور جو اپنی مرضی سے کچھ (زیادہ) بھلائی کرے تو وہ اس کیلئے بہتر ہے اور اگر تم (فدیہ دینے کی بجائے) روزہ رکھو تو یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے۔ اگر تم علم و واقفیت رکھتے ہو۔
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْۤ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِ١ۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ١ؕ وَ مَنْ كَانَ مَرِيْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ١ؕ يُرِيْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَ لَا يُرِيْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ١ وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ (2|185)
ماہ رمضان وہ (مقدس) مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو تمام انسانوں کے لئے ہدایت ہے اور اس میں راہنمائی اور حق و باطل میں امتیاز کی کھلی ہوئی نشانیاں ہیں جو اس (مہینہ) میں (وطن میں) حاضر ہو (یا جو اسے پائے) تو وہ روزے رکھے اور جو بیمار ہو یا سفر میں ہو تو اتنے ہی روزے کسی اور وقت میں (رکھے)۔ اللہ تمہاری آسانی و آسائش چاہتا ہے تمہاری تنگی و سختی نہیں چاہتا اور یہ بھی (چاہتا ہے) کہ تم (روزوں کی) تعداد مکمل کرو۔ اور اس (احسان) پر کہ اس نے تمہیں سیدھا راستہ دکھایا تم اس کی کبریائی و بڑائی کا اظہار کرو۔ تاکہ تم شکر گزار (بندے) بن جاؤ۔
وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيْ عَنِّيْ فَاِنِّيْ قَرِيْبٌ١ؕ اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ١ۙ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لِيْ وَ لْيُؤْمِنُوْا بِيْ لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُوْنَ (2|186)
اور جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں سوال کریں تو (آپ کہہ دیں) میں یقینا قریب ہوں جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا و پکار کو سنتا ہوں اور جواب دیتا ہوں۔ تو ان پر لازم ہے کہ وہ میری آواز پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں (یقین رکھیں) تاکہ وہ نیک راستہ پر آجائیں۔
اُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآىِٕكُمْ١ؕ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَ عَفَا عَنْكُمْ١ۚ فَالْـٰٔنَ بَاشِرُوْهُنَّ وَ ابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ١۪ وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ١۪ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَى الَّيْلِ١ۚ وَ لَا تُبَاشِرُوْهُنَّ وَ اَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ١ فِي الْمَسٰجِدِ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَقْرَبُوْهَا١ؕ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ اٰيٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُوْنَ (2|187)
اے مسلمانو) روزوں کی رات تمہارے لئے اپنی عورتوں سے مباشرت کرنا حلال کر دیا گیا ہے۔ وہ (عورتیں) تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو خدا جانتا ہے کہ تم اپنی ذات کے ساتھ خیانت کرتے رہے ہو تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی اور تمہیں معاف کر دیا۔ پس اب تم ان سے (روزوں کی راتوں میں) مباشرت کرو۔ اور جو کچھ (اولاد) خدا نے تمہارے مقدر میں لکھ دی ہے اسے طلب کرو۔ اور (رات کو) کھاؤ پیؤ۔ یہاں تک کہ صبح کا سفید ڈورا (رات کی) سیاہ ڈوری سے الگ ہو کر ظاہر ہو جائے پھر رات تک روزہ کو پورا کرو۔ اور جب تم مسجدوں میں اعتکاف (قیام) کئے ہوئے ہو تو (رات کو بھی) بیویوں سے مباشرت نہ کرو۔ یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں ان کے قریب نہ جاؤ اس طرح خدا اپنی آیتوں (احکام) کو لوگوں کے لئے بیان کرتا ہے تاکہ وہ پرہیزگار بن جائیں۔
وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِيْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (2|188)
اور تم آپس میں ایک دوسرے کا مال غلط طریقہ سے نہ کھاؤ۔ اور نہ ہی (رشوت کے طور پر) وہ (مال) اس غرض سے حکام تک پہنچاؤ تاکہ گناہ کے طور پر لوگوں کا کچھ مال تم بھی خوردبرد کر جاؤ۔ درآنحالیکہ تم جانتے ہو۔
يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْاَهِلَّةِ١ؕ قُلْ هِيَ مَوَاقِيْتُ لِلنَّاسِ وَ الْحَجِّ١ؕ وَ لَيْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُيُوْتَ مِنْ ظُهُوْرِهَا وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقٰى١ۚ وَ اْتُوا الْبُيُوْتَ مِنْ اَبْوَابِهَا١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ (2|189)
اے رسول(ص)) لوگ آپ سے نئے چاندوں کے بارے میں پوچھتے ہیں (کہ وہ گھٹے بڑھتے کیوں ہیں؟) کہہ دیجئے کہ یہ لوگوں کے (دنیوی معاملات) کی تاریخیں اور حج کے لئے اوقات مقرر کرنے کا ذریعہ ہیں اور یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے کہ تم گھروں میں پچھواڑے کی طرف سے (پھاند کر) آؤ۔ بلکہ نیکی تو یہ ہے کہ (آدمی غلط کاری سے) پرہیزگاری اختیار کرے۔ اور گھروں میں ان کے دروازوں سے داخل ہوا کرو۔ اور خدا سے ڈرو (اس کے قہر و غضب سے بچو) تاکہ تم فلاح پاؤ۔
وَ قَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ (2|190)
اور تم اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑیں۔ اور زیادتی نہ کرو۔ کیونکہ یقینا اللہ زیادتی کرنے والوں کو ہرگز دوست نہیں رکھتا۔