وَ مِنْهُمْ مَّنْ يَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّ فِي الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ (2|201)
اور کچھ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہمارے پروردگار ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کر اور ہمیں دوزخ کی سزا سے بچا۔
اُولٰٓىِٕكَ لَهُمْ نَصِيْبٌ مِّمَّا كَسَبُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِيْعُ الْحِسَابِ (2|202)
یہ وہ لوگ ہیں جو کچھ انہوں نے کمایا ہے اس سے (دنیا و آخرت میں) ان کو حصہ ملے گا اور اللہ بہت جلد حساب بے باق کرنے والا ہے۔
وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ فِيْۤ اَيَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ١ؕ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِيْ يَوْمَيْنِ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَيْهِ١ۚ وَ مَنْ تَاَخَّرَ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَيْهِ١ۙ لِمَنِ اتَّقٰى١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ (2|203)
اور گنتی کے چند دنوں میں خدا کو یاد کرو پس جو جلدی کرے گا اور (منٰی سے) دو ہی دن میں چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ اور جو دیر کرے (تیسرے دن تک ٹھہرا رہے) اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ہے مگر یہ (رعایت) اس کے لئے ہے جو (شکار سے) بچتا رہا ہو اور اللہ (کی نافرمانی سے) ڈرو اور یقین رکھو کہ تم اسی کے حضور اکھٹے کئے جاؤگے (پلٹ کر جاؤ گے)۔
وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يُّعْجِبُكَ قَوْلُهٗ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ يُشْهِدُ اللّٰهَ عَلٰى مَا فِيْ قَلْبِهٖ١ۙ وَ هُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ (2|204)
اور بعض لوگ (منافقین) ایسے بھی ہیں کہ جن کی (چکنی چپڑی) باتیں تمہیں زندگانی دنیا میں بہت اچھی لگتی ہیں اور وہ اپنی دلی حالت پر خدا کو گواہ بناتے ہیں حالانکہ وہ (تمہارے) بدترین دشمن ہیں۔
وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِي الْاَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيْهَا وَ يُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ (2|205)
اور جب آپ کے پاس سے منہ پھیرتے ہیں (یا برسر اقتدار آتے ہیں) تو زمین میں فساد برپا کرنے کے لیے دوڑتے پھرتے ہیں اور کھیتی اور نسل کو برباد کرتے ہیں جبکہ خدا فساد کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔
وَ اِذَا قِيْلَ لَهُ اتَّقِ اللّٰهَ اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْاِثْمِ فَحَسْبُهٗ جَهَنَّمُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمِهَادُ (2|206)
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ خدا (کی حکم عدولی) سے ڈرو تو ان کی (ظاہری) عزت اور غرورِ نفس ان کو گناہ پر ابھارتا اور اصرار کراتا ہے ایسے (بدبخت) لوگوں کے لیے دوزخ کافی ہے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔
وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْرِيْ نَفْسَهُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ (2|207)
اور انسانوں میں سے کچھ ایسے (انسان) بھی ہیں جو خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر اپنی جان بیچ ڈالتے ہیں (خطرے میں ڈال دیتے ہیں) اور اللہ (ایسے جاں نثار) بندوں پر بڑا شفیق و مہربان ہے۔
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِي السِّلْمِ كَآفَّةً١۪ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ (2|208)
اے ایمان والو! تم سب کے سب امن و سلامتی (والے دین) میں مکمل طور پر داخل ہو جاؤ اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو کیونکہ وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔
فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْكُمُ الْبَيِّنٰتُ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ (2|209)
اور اگر روشن دلیلوں (واضح احکام) کے آجانے کے بعد بھی تم ڈگمگا گئے تو خوب جان لو کہ اللہ زبردست (سب پر غالب) اور بڑی حکمت والا ہے۔
هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ يَّاْتِيَهُمُ اللّٰهُ فِيْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ قُضِيَ الْاَمْرُ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ (2|210)
کیا یہ لوگ اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ خود اللہ اور فرشتے سفید بادلوں کے سایہ میں ان کے پاس آئیں اور ہر بات کا فیصلہ ہو جائے آخر سب امور کی بازگشت تو خدا ہی کی طرف ہے۔