سَيَقُولُ(2)

سورۃ البقرہ (2)

(191-200)

وَ اقْتُلُوْهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ وَ اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ حَيْثُ اَخْرَجُوْكُمْ وَ الْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ١ۚ وَ لَا تُقٰتِلُوْهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰى يُقٰتِلُوْكُمْ فِيْهِ١ۚ فَاِنْ قٰتَلُوْكُمْ فَاقْتُلُوْهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِيْنَ (2|191)

اور ان (خواہ مخواہ لڑنے والے کفار و مشرکین) کو جہاں کہیں پاؤ۔ قتل کر دو۔ اور انہیں نکال دو جہاں (مکہ) سے انہوں نے تمہیں نکالا ہے اور فتنہ پروری قتل سے بھی بڑھ کر (بُری) ہے۔ اور مسجد الحرام میں، ان سے اس وقت تک نہ لڑو۔ جب تک وہ اس میں تم سے نہ لڑیں۔ اور اگر وہ (اس میں) تم سے لڑیں تو تم بھی انہیں قتل کرو یہی کافروں کی سزا ہے۔

فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ (2|192)

پھر اگر وہ لوگ باز آجائیں تو یقینا اللہ بڑا بخشنے والا اور بڑا رحم کرنے والا ہے۔

وَ قٰتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ يَكُوْنَ الدِّيْنُ لِلّٰهِ١ؕ فَاِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَى الظّٰلِمِيْنَ (2|193)

اور ان سے اس وقت تک جنگ جاری رکھو جب تک تمام فتنہ و فساد ختم نہ ہو جائے اور دین (و اطاعت) صرف اللہ کے لئے نہ رہ جائے ہاں اگر وہ جنگ سے باز آجائیں تو پھر ظلم و زیادتی کرنے والوں کے سوا کسی پر زیادتی نہیں کی جا سکتی۔

اَلشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَ الْحُرُمٰتُ قِصَاصٌ١ؕ فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ (2|194)

حرمت والے مہینہ کا بدلہ حرمت والا مہینہ ہے اور حرمتوں میں بھی قصاص (ادلا بدلا) ہے لہٰذا جو شخص تم پر زیادتی کرے تو تم بھی اس کے ساتھ اسی طرح زیادتی کرو جس طرح اس نے تم پر زیادتی کی ہے اور خدا (کی نافرمانی) سے ڈرو۔ اور سمجھ لو کہ اللہ یقینا پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔

وَ اَنْفِقُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ لَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ١ۛۖۚ وَ اَحْسِنُوْا١ۛۚ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ (2|195)

اور خدا کی راہ میں (مال و جان) خرچ کرو اور (اپنے آپ) کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالو اور اچھا کام کرو۔ یقینا اللہ اچھے کام کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

وَ اَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَةَ لِلّٰهِ١ؕ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ١ۚ وَ لَا تَحْلِقُوْا رُءُوْسَكُمْ حَتّٰى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهٗ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيْضًا اَوْ بِهٖۤ اَذًى مِّنْ رَّاْسِهٖ فَفِدْيَةٌ مِّنْ صِيَامٍ اَوْ صَدَقَةٍ اَوْ نُسُكٍ١ۚ فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ١ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ اِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ١ۚ فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلٰثَةِ اَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَ سَبْعَةٍ اِذَا رَجَعْتُمْ١ؕ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ لَّمْ يَكُنْ اَهْلُهٗ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ (2|196)

اور خدا کی (خوشنودی) کے واسطے حج و عمرہ کو تمام کرو۔ اور اگر کسی مجبوری میں گھر جاؤ تو پھر جو قربانی میسر ہو وہی کرو مگر اپنے سر اس وقت تک نہ منڈواؤ جب تک قربانی اپنے ٹھکانہ تک نہ پہنچ جائے (جہاں اسے ذبح یا نحر کرنا ہے) اور جب تم میں سے کوئی شخص بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو اور سر منڈوالے تو اس کا فدیہ (بدلہ) روزہ، خیرات یا قربانی ہے۔ پھر جب تمہیں امن و اطمینان حاصل ہو جائے تو جو شخص (حج تمتع کا) عمرہ کرکے حج کے موقع تک لذائذ سے فائدہ اٹھائے۔ تو وہ لازمی طور پر ممکنہ قربانی کرے۔ اور جسے قربانی نہ مل سکے تو وہ تین روزے تو حج کے دوران رکھے اور سات اس وقت جب واپس جائے۔ یہ ہو جائیں گے مکمل دس (روزے) یہ (حج تمتع) اس کے لئے ہے جس کے اہل و عیال مسجد الحرام کے باشندہ نہ ہوں۔ (حدود حرم کے اندر نہ رہتے ہوں) اور اللہ (کی نافرمانی) سے ڈرو اور سمجھ لو کہ خدا سخت سزا دینے والا ہے۔

اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ١ۚ فَمَنْ فَرَضَ فِيْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَ١ۙ وَ لَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ يَّعْلَمْهُ اللّٰهُ١ؔؕ وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى وَ اتَّقُوْنِ يٰۤاُولِي الْاَلْبَابِ (2|197)

حج کے چند خاص جانے پہچانے مقررہ مہینے ہیں۔ تو جو شخص ان (مہینوں) میں (اپنے اوپر) حج کی پابندی احرام باندھ کر فرض کر لے تو پھر حج کے دوران نہ (بیوی سے) مباشرت کرے۔ نہ (خدا کی) نافرمانی کرے اور نہ (کسی سے) لڑائی جھگڑا کرے اور تم جو کچھ نیکی کا کام کروگے تو خدا اسے جانتا ہے اور (آخرت کے سفر کے لئے) زادِ راہ مہیا کرو (اور سمجھ لو) کہ بہترین زادِ راہ تقویٰ (پرہیزگاری) ہے۔ اور اے عقل مندو! مجھ سے (میری نافرمانی سے) ڈرو۔

لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ فَاِذَاۤ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ١۪ وَ اذْكُرُوْهُ كَمَا هَدٰىكُمْ١ۚ وَ اِنْ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الضَّآلِّيْنَ (2|198)

اس میں تمہارے لئے کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ تم حج کے دوران اپنے پروردگار سے فضل (رزق) کے طلب گار رہو۔ ہاں تو جب عرفات سے روانہ ہو تو مشعر الحرام (مزدلفہ) کے پاس (اس کی حدود) میں اللہ کو یاد کرو اور یاد بھی اس طرح کرو جس طرح اس نے تمہیں ہدایت کی ہے اگرچہ اس سے پہلے تم گمراہوں میں سے تھے۔

ثُمَّ اَفِيْضُوْا مِنْ حَيْثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ (2|199)

پھر جہاں سے اور لوگ چل کھڑے ہوں تم بھی چل کھڑے ہو اور خدا سے مغفرت و بخشش طلب کرو یقینا خدا بڑا بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

فَاِذَا قَضَيْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَآءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا١ؕ فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا وَ مَا لَهٗ فِي الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ (2|200)

جب تم اپنے مناسک حج (اور اس کے اعمال و ارکان) کو بجا لا چکو۔ تو پھر اس طرح اللہ کو یاد کرو جس طرح اپنے باپ داداؤں کو یاد کرتے تھے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر خدا کو یاد کرو اب لوگوں میں سے کچھ تو ایسے ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے پروردگار! ہمیں (جو کچھ دینا ہے) اسی دنیا ہی میں دے دے ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔