سَيَقُولُ(2)

سورۃ البقرہ (2)

(231-240)

وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ١۪ وَّ لَا تُمْسِكُوْهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْا١ۚ وَ مَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ١ؕ وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰيٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا١ وَّ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَ مَاۤ اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ وَ الْحِكْمَةِ يَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ (2|231)

اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی میعاد (عدت کے خاتمہ) کے قریب پہنچ جائیں تو یا تو انہیں اچھے طریقے سے (اپنے پاس) رکھو۔ یا اچھے طریقے سے انہیں رخصت کر دو اور انہیں ضرر و زیاں پہنچانے اور زیادتی کرنے کیلئے نہ روکو اور جو ایسا کرے گا وہ اپنے نفس پر ظلم کرے گا۔ اور خدا کے آیات و احکام کا ہنسی مذاق نہ بناؤ اور خدا کے اس انعام و احسان کو یاد کرو جو اس نے تم پر کیا ہے اور جو اس نے کتاب و حکمت تم پر نازل کی ہے۔ اس کے ذریعہ سے تمہیں نصیحت کرتا ہے اور اللہ (کی نافرمانی) سے ڈرو اور خوب جان لو کہ خدا ہر شی کا جاننے والا ہے۔

وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ اَنْ يَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ ذٰلِكَ يُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ ذٰلِكُمْ اَزْكٰى لَكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ (2|232)

اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور جب وہ اپنی (عدّت کی) مدت پوری کر لیں تو انہیں اپنے شوہروں سے نکاح کرنے سے نہ روکو۔ جب کہ وہ مناسب طریقے پر (شریعت کے مطابق) ایک دوسرے (نئے یا پرانے) سے نکاح کرنے پر راضی ہو جائیں۔ اس (حکم) کے ذریعہ سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے (اور وہی اسے قبول کرے گا) جو خدا اور جزاء پر ایمان رکھتا ہے۔ یہ (ان احکام پر عمل کرنا)۔ تمہارے لئے زیادہ تزکیہ و طہارت کا باعث ہے اللہ بہتر جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔

وَ الْوَالِدٰتُ يُرْضِعْنَ اَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يُّتِمَّ الرَّضَاعَةَ١ؕ وَ عَلَى الْمَوْلُوْدِ لَهٗ رِزْقُهُنَّ وَ كِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَهَا١ۚ لَا تُضَآرَّ وَالِدَةٌۢ بِوَلَدِهَا وَ لَا مَوْلُوْدٌ لَّهٗ بِوَلَدِهٖ١ۗ وَ عَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِكَ١ۚ فَاِنْ اَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِّنْهُمَا وَ تَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا١ؕ وَ اِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْۤا اَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّاۤ اٰتَيْتُمْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ (2|233)

اور (طلاق کے بعد) جو شخص (اپنی اولاد کو) پوری مدت تک دودھ پلوانا چاہے تو مائیں اپنی اولاد کو کامل دو برس تک دودھ پلائیں گی۔ اور بچہ کے باپ پر (اس دوران) ان (ماؤں) کا کھانا اور کپڑا مناسب و معروف طریقہ پر لازم ہوگا۔ کسی بھی شخص کو اس کی وسعت و آسائش سے زیادہ تکلیف نہیں دی جا سکتی۔ نہ تو ماں کو نقصان پہنچایا جائے اس کے بچہ کی وجہ سے اور نہ ہی باپ کو زیاں پہنچایا جائے اس کے بچہ کے سبب سے اور (اگر باپ نہ ہو تو پھر) وارث پر (دودھ پلانے اور نان و نفقہ کی) یہی ذمہ داری ہے۔ اور اگر دونوں (ماں باپ اس مدت سے پہلے) باہمی مشورہ و رضامندی سے بچہ کا دودھ چھڑانا چاہیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ اور اگر تم اپنی اولاد کو (کسی دایہ سے) دودھ پلوانا چاہو تو اس میں کوئی جرم نہیں ہے بشرطیکہ جو مناسب طریقہ سے دینا ٹھہرایا ہے (ان کے) حوالے کر دو۔ اور خدا (کی نافرمانی سے) ڈرو اور خوب جان لو کہ تم جو کچھ کرتے ہو۔ اللہ اسے خوب دیکھ رہا ہے۔

وَ الَّذِيْنَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ يَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا يَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ عَشْرًا١ۚ فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيْمَا فَعَلْنَ فِيْۤ اَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ (2|234)

اور تم میں سے جو لو گ بیویاں چھوڑ کر مر جائیں تو وہ (بیویاں) چار مہینے دس دن تک اپنے کو (عقد ثانی سے) روکیں۔ اور جب یہ مدت (عدت) پوری کر لیں تو وہ اپنے حق میں جو مناسب کام (فیصلہ) کریں اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ اور تم جو کچھ کرتے ہو خدا اس سے خوب باخبر ہے۔

وَ لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيْمَا عَرَّضْتُمْ بِهٖ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَآءِ اَوْ اَكْنَنْتُمْ فِيْۤ اَنْفُسِكُمْ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ سَتَذْكُرُوْنَهُنَّ وَ لٰكِنْ لَّا تُوَاعِدُوْهُنَّ سِرًّا اِلَّاۤ اَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلًا مَّعْرُوْفًا١ؕ۬ وَ لَا تَعْزِمُوْا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتّٰى يَبْلُغَ الْكِتٰبُ اَجَلَهٗ١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا فِيْۤ اَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوْهُ١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِيْمٌ (2|235)

اگر تم (عدت کے دوران) عورتوں کی اشارہ و کنایہ میں خواستگاری کرو (پیغام نکاح دو) یا اسے اپنے دلوں میں چھپائے رکھو تو اس میں تم پر کچھ گناہ نہیں ہے۔ اللہ کو معلوم ہے کہ تم جلد ان کو یاد کروگے (تو بے شک کرو) مگر ان سے کوئی خفیہ قول و قرار نہ کرو۔ سوا اس کے کہ مناسب طریقہ سے کوئی بات کرو۔ (اشارہ و کنایہ سے) اور جب تک مقررہ مدت پوری نہ ہو جائے۔ اس وقت تک عقد نکاح کا ارادہ بھی نہ کرو۔ اور خوب جان لو کہ خدا تمہارے دلوں کے اندر کی بات کو بھی خوب جانتا ہے۔ لہٰذا اس سے ڈرتے رہو اور خوب جان لو کہ خدا بخشنے والا اور حلیم و بردبار ہے۔

لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ مَا لَمْ تَمَسُّوْهُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَهُنَّ فَرِيْضَةً١ۖۚ وَّ مَتِّعُوْهُنَّ١ۚ عَلَى الْمُوْسِعِ قَدَرُهٗ وَ عَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهٗ١ۚ مَتَاعًۢا بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِيْنَ (2|236)

اگر تم (اپنی) عورتوں کو ہاتھ لگانے (خلوت صحیحہ کرنے) اور حق مہر مقرر کرنے سے پہلے ہی طلاق دے دو تو اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں ہے ہاں البتہ (بطور خرچہ) انہیں کچھ مال و متاع دے دو۔ مالدار اپنی حیثیت کے مطابق اور غریب و نادار اپنے مقدور کے موافق مناسب متاع (خرچہ) دے۔ یہ نیکوکار لوگوں کے ذمہ ایک حق ہے۔

وَ اِنْ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ وَ قَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيْضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ اِلَّاۤ اَنْ يَّعْفُوْنَ اَوْ يَعْفُوَا الَّذِيْ بِيَدِهٖ عُقْدَةُ النِّكَاحِ١ؕ وَ اَنْ تَعْفُوْۤا اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى ١ؕ وَ لَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ (2|237)

اور اگر تم عورتوں کو ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دو۔ لیکن تم ان کا کچھ حق مہر معین کر چکے ہو۔ تو (اس صورت میں) اس مقررہ حق مہر کا آدھا لازم ہوگا۔ مگر یہ کہ وہ (عورتیں) خود معاف کر دیں یا وہ (ولی) معاف کر دے جس کے ہاتھ میں نکاح کا معاملہ ہے۔ اور اگر تم درگزر کرو (معاف کر دو) تو یہ پرہیزگاری کے زیادہ قریب ہے۔ اور باہمی معاملات میں احسان اور بھلائی کو نہ بھولو۔ بے شک تم جو کچھ کر رہے ہو خدا اسے خوب دیکھ رہا ہے۔

حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى ١ۗ وَ قُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِيْنَ (2|238)

اور تم تمام نمازوں کی پابندی کرو۔ خصوصاً نماز وسطی کی اور خدا کے سامنے قنوت پڑھتے ہوئے (ادب و نیاز سے) کھڑے ہو۔

فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُكْبَانًا١ۚ فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَمَا عَلَّمَكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ (2|239)

اور اگر تم خوف (کی حالت) میں ہو تو پھر پیدل ہو یا سوار (جس طرح بھی ممکن ہو نمازپڑھ لو) پھر جب تمہیں امن و اطمینان ہو جائے تو خدا کو اس طرح یاد کرو جس طرح اس نے تمہیں سکھا دیا ہے جو تم نہیں جانتے تھے۔

وَ الَّذِيْنَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ يَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا١ۖۚ وَّصِيَّةً لِّاَزْوَاجِهِمْ مَّتَاعًا اِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ اِخْرَاجٍ١ۚ فَاِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيْ مَا فَعَلْنَ فِيْۤ اَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَّعْرُوْفٍ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ (2|240)

اور جو تم میں سے اپنی بیویاں چھوڑ کر دنیا سے جا رہے ہوں تو ان کو اپنی بیویوں کے حق میں وصیت کرنا چاہیے کہ ان کو سال بھر تک نان و نفقہ (خرچہ) دیا جاتا رہے اور گھر سے بھی نہ نکالا جائے۔ ہاں اگر وہ خود نکل جائیں تو اور بات ہے اور اپنے بارے میں جو مناسب فیصلہ کریں اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں ہے اور خدا زبردست اور حکمت والا ہے۔