سَيَقُولُ(2)

سورۃ البقرہ (2)

(241-252)

وَ لِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِيْنَ (2|241)

اور جن عورتوں کو (مہر مقرر کئے اور صحبت کئے بغیر) طلاق دی گئی ہے۔ انہیں مناسب مال و متاع (خرچہ) دینا لازم ہے۔ یہ پرہیزگاروں کے ذمہ ایک حق ہے۔

كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰيٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ (2|242)

اسی طرح خدا تمہارے لئے اپنے آیات و احکام واضح طور پر بیان کرتا ہے تاکہ تم سمجھ بوجھ سے کام لو۔

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ وَ هُمْ اُلُوْفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ١۪ فَقَالَ لَهُمُ اللّٰهُ مُوْتُوْا١۫ ثُمَّ اَحْيَاهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُوْنَ (2|243)

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو موت کے ڈر سے ہزاروں کی تعداد میں اپنے گھروں سے نکل پڑے۔ خدا نے ان سے کہا: مر جاؤ (پس وہ سب کے سب مر گئے) پھر انہیں زندہ کیا۔ بے شک خدا لوگوں پر بڑا لطف و کرم کرنے والا ہے۔ لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔

وَ قَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ (2|244)

اور خدا کی راہ میں جنگ کرو اور خوب جانتے رہو کہ خدا (سب کچھ) سننے اور جاننے والا ہے۔

مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضْعَافًا كَثِيْرَةً١ؕ وَ اللّٰهُ يَقْبِضُ وَ يَبْصُۜطُ١۪ وَ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ (2|245)

ہے کوئی ایسا جو خدا کو قرض حسنہ دے تاکہ خدا اسے کئی گُنا کرکے واپس کرے۔ خدا ہی تنگی کرتا ہے اور وہی کشادگی دیتا ہے۔ اور (تم سب) اسی کی طرف پلٹائے جاؤگے۔

اَلَمْ تَرَ اِلَى الْمَلَاِ مِنْۢ بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى١ۘ اِذْ قَالُوْا لِنَبِيٍّ لَّهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ هَلْ عَسَيْتُمْ اِنْ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ اَلَّا تُقَاتِلُوْا١ؕ قَالُوْا وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نُقَاتِلَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ قَدْ اُخْرِجْنَا مِنْ دِيَارِنَا وَ اَبْنَآىِٕنَا١ؕ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا اِلَّا قَلِيْلًا مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِالظّٰلِمِيْنَ (2|246)

کیا تم نے جناب موسیٰ کے بعد بنی اسرائیل کے سرداروں کو نہیں دیکھا کہ جب انہوں نے نبی(ص) سے کہا کہ ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کر دیجئے تاکہ ہم (اس کی زیر قیادت) راہِ خدا میں جنگ کریں۔ اس نبی نے فرمایا کہیں ایسا نہ ہو کہ جب جنگ تم پر واجب ہو جائے۔ تو پھر تم جنگ نہ کرو۔ انہوں نے کہا کہ ہم کیونکر جنگ نہیں کریں گے؟ جبکہ ہمیں اپنے گھروں اور بال بچوں سے باہر نکال دیا گیا ہے۔ مگر جب جنگ ان پر واجب قرار دی گئی تو ان کے تھوڑے سے آدمیوں کے سوا باقی سب کے سب منحرف ہوگئے (پیٹھ پھیر گئے) اور خدا ظالموں کو خوب جانتا ہے۔

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوْتَ مَلِكًا١ؕ قَالُوْۤا اَنّٰى يَكُوْنُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَيْنَا وَ نَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَ لَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ١ؕ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىهُ عَلَيْكُمْ وَ زَادَهٗ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ وَ الْجِسْمِ١ؕ وَ اللّٰهُ يُؤْتِيْ مُلْكَهٗ مَنْ يَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ (2|247)

اور ان کے پیغمبر نے ان سے کہا کہ بے شک خدا نے تمہارے لئے طالوت کو بادشاہ مقرر کیا ہے۔ ان لوگو ں نے کہا، اس کو ہم پر کس طرح حکومت کرنے کا حق ہو سکتا ہے۔ اس سے تو ہم حکومت کرنے کے زیادہ حقدار ہیں اسے تو مالی وسعت ملی ہی نہیں ہے (کوئی بڑا مالدار آدمی نہیں ہے)۔ نبی نے جواب دیا کہ اللہ نے اسے اس لئے تم پر فضیلت اور ترجیح دی ہے کہ اسے علم اور جسمانی طاقت میں زیادتی عطا کی ہے اور اللہ جسے چاہتا ہے۔ اپنا ملک عطا کرتا ہے۔ (کیونکہ) اللہ بڑی وسعت والا اور بڑا علم والا ہے۔

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ اِنَّ اٰيَةَ مُلْكِهٖۤ اَنْ يَّاْتِيَكُمُ التَّابُوْتُ فِيْهِ سَكِيْنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ بَقِيَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ اٰلُ مُوْسٰى وَ اٰلُ هٰرُوْنَ تَحْمِلُهُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ (2|248)

اور ان کے نبی نے ان سے یہ بھی کہا کہ اس کے بادشاہ ہونے کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق آجائے گا۔ جس میں تمہارے پروردگار کی جانب سے سکون کا سامان ہو گا اور موسیٰ (ع) و ہارون (ع) کے خاندان کے بچے کچھے تبرکات و متروکات بھی اور اسے فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے اس میں بے شک تمہارے لئے (خدا کی قدرت کی) بڑی نشانی ہے۔ اگر تم ایماندار ہو۔

فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بِالْجُنُوْدِ١ۙ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِيْكُمْ بِنَهَرٍ١ۚ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَيْسَ مِنِّيْ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ يَطْعَمْهُ فَاِنَّهٗ مِنِّيْۤ اِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةًۢ بِيَدِهٖ١ۚ فَشَرِبُوْا مِنْهُ اِلَّا قَلِيْلًا مِّنْهُمْ١ؕ فَلَمَّا جَاوَزَهٗ هُوَ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۙ قَالُوْا لَا طَاقَةَ لَنَا الْيَوْمَ بِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِيْنَ يَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوا اللّٰهِ١ۙ كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ (2|249)

اب جو طالوت فوجیں لے کر چلے تو (اپنے ہمراہیوں سے) کہا کہ خدا ایک نہر کے ساتھ تمہاری آزمائش کرنے والا ہے (دیکھو) جو شخص اس سے پانی پی لے گا اس کا مجھ سے کوئی واسطہ نہ ہوگا اور جو اسے چکھے گا بھی نہیں اس کا مجھ سے تعلق ہوگا۔ مگر یہ کہ اپنے ہاتھ سے ایک چُلو بھر لے۔ (انجام کار وقت آنے پر) تھوڑے لوگوں کے سوا باقی سب نے اس (نہر) سے پانی پی لیا۔ پس جب وہ اور ان کے ساتھ ایمان لانے والے آگے بڑھے (نہر پار کی) تو (پانی پینے والے) کہنے لگے کہ آج ہم میں جالوت اور اس کی افواج سے لڑنے کی طاقت نہیں ہے (مگر) جن لوگوں کو خدا کو منہ دکھانے کا یقین تھا کہنے لگے خدا کے حکم سے کئی چھوٹی جماعتیں بڑی جماعتوں پر غالب آجاتی ہیں اور خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

وَ لَمَّا بَرَزُوْا لِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَّ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ (2|250)

غرضیکہ) یہ لوگ جالوت اور اس کی افواج کے مقابلہ کے لئے باہر نکلے۔ تو (یوں) دعا کی: اے پروردگار! ہم پر صبر انڈیل دے (بے پناہ صبر عطا کر) اور (میدانِ جنگ میں) ہمارے قدم جمائے رکھ اور کافروں کے مقابلہ میں ہماری مدد و نصرت فرما۔

فَهَزَمُوْهُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۙ۫ وَ قَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ وَ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَهٗ مِمَّا يَشَآءُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ١ۙ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْعٰلَمِيْنَ (2|251)

پس ان لوگوں نے خدا کے حکم سے ان لوگوں (دشمنوں) کو شکست دے دی۔ اور داؤد (ع) نے جالوت کو قتل کر دیا۔ اور خدا نے انہیں سلطنت و حکمت عطا فرمائی۔ اور جس جس چیز کا چاہا علم عطا فرمایا۔ اور اگر خدا ایک گروہ کا دوسرے گروہ کے ذریعہ سے دفاع نہ کرے تو زمین تباہ و برباد ہو جائے۔ مگر خدا تمام جہانوں پر بڑا لطف و کرم کرنے والا ہے۔

تِلْكَ اٰيٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ (2|252)

یہ آیاتِ الٰہیہ (قدرتِ خدا کی نشانیاں) ہیں جنہیں ہم سچائی کے ساتھ بیان کرتے ہیں اور بے شک و شبہ آپ رسولوں میں سے ہیں۔