الم (1)

سورۃ البقرہ (2)

(91-100)

وَ اِذَا قِيْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا نُؤْمِنُ بِمَاۤ اُنْزِلَ عَلَيْنَا وَ يَكْفُرُوْنَ بِمَا وَرَآءَهٗ١ۗ وَ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَهُمْ١ؕ قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُوْنَ اَنْۢبِيَآءَ اللّٰهِ مِنْ قَبْلُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ (2|91)

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو (قرآن) اللہ نے نازل کیا ہے اس پر ایمان لاؤ۔ تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اس پر تو ایمان رکھتے ہیں جو ہم (بنی اسرائیل) پر نازل کیا گیا ہے مگر اس کے علاوہ جو کچھ (قرآن، انجیل وغیرہ) ہے اس کا انکار کرتے ہیں حالانکہ وہ حق ہے اور جو ان کے پاس موجود ہے (توراۃ) اس کی بھی تصدیق کرتا ہے (اے رسول) آپ ان سے کہیے کہ اگر تم (توراۃ پر) ایمان رکھتے تھے تو اس سے پہلے (اگلے زمانہ) میں اللہ کے نبیوں کو کیوں قتل کرتے رہے ہو؟ ۔

وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ مُّوْسٰى بِالْبَيِّنٰتِ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ (2|92)

اور یقینا موسیٰ تمہارے پاس کھلے ہوئے معجزے لے کر آئے پھر بھی تم ایسے ظالم تھے کہ ان کے (کوہ طور پر جانے کے) بعد گوسالہ کو (معبود) بنا لیا۔

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَكُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ١ؕ خُذُوْا مَاۤ اٰتَيْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اسْمَعُوْا١ؕ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ عَصَيْنَا١ۗ وَ اُشْرِبُوْا فِيْ قُلُوْبِهِمُ الْعِجْلَ بِكُفْرِهِمْ١ؕ قُلْ بِئْسَمَا يَاْمُرُكُمْ بِهٖۤ اِيْمَانُكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ (2|93)

اور (وہ وقت یاد کرو) کہ جب ہم نے تم سے عہد و پیمان لیا اور تمہارے اوپر کوہِ طور کو بلند کیا (اور کہا تھا کہ ) جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے اسے مضبوطی سے پکڑو۔ اور جو کچھ اس میں ہے اسے غور سے) سنو تو (تمہارے اسلاف) نے زبان سے کہا کہ ہم نے سن تو لیا اور دل میں کہا ہم عمل نہیں کریں گے اور ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں میں گوسالہ کی محبت بیٹھ گئی تھی۔ (اے رسول) کہیے! اگر تم مؤمن ہو تو تمہارا ایمان تمہیں بہت ہی برے کاموں کا حکم دیتا ہے (یہ عجیب ایمان ہے)۔

قُلْ اِنْ كَانَتْ لَكُمُ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ اللّٰهِ خَالِصَةً مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ (2|94)

نیز ان سے کہیے کہ اگر خدا کے نزدیک آخرت کا گھر (جنت) دوسرے لوگوں کو چھوڑ کر صرف تمہارے لئے مخصوص ہے تو پھر موت کی آرزو کرو۔ اگر تم اپنے اس دعویٰ میں سچے ہو (تاکہ جلدی بہشت میں داخل ہو جاؤ)۔

وَ لَنْ يَّتَمَنَّوْهُ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِالظّٰلِمِيْنَ (2|95)

اور (سن لو) کہ یہ لوگ ان (اعمالِ بد) کی وجہ سے جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں کبھی بھی موت کی آرزو نہیں کریں گے اور خدائے تعالیٰ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔

وَ لَتَجِدَنَّهُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰى حَيٰوةٍ١ۛۚ وَ مِنَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا١ۛۚ يَوَدُّ اَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ اَلْفَ سَنَةٍ١ۚ وَ مَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ يُّعَمَّرَ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِيْرٌۢ بِمَا يَعْمَلُوْنَ (2|96)

اور (اے نبی!) تم ان کو سب لوگوں سے حتیٰ کہ مشرکوں سے بھی بڑھ کر زندگی کا حریص پاؤ گے ان میں ہر ایک چاہتا ہے کہ کاش اسے ایک ہزار سال کی عمر ملے حالانکہ اس قدر عمر کا مل جانا بھی اسے خدا کے عذاب سے نہیں بچا سکتا اور یہ لوگ جو کچھ کر رہے ہیں اللہ اسے خوب دیکھ رہا ہے۔

قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰى قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِيْنَ (2|97)

اے رسول(ص)) کہہ دیجیئے! کہ جو شخص جبرئیل کا دشمن ہے (ہوا کرے) اس نے تو وہ (قرآن) خدا کے حکم سے آپ کے دل میں اتارا ہے، جو اپنے سے پہلے (نازل شدہ) کتابوں کی تصدیق کرتا ہے اور اہل ایمان کے لئے ہدایت اور کامیابی کی بشارت ہے۔

مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَ مَلٰٓىِٕكَتِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ جِبْرِيْلَ وَ مِيْكٰىلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلْكٰفِرِيْنَ (2|98)

جو کوئی اللہ، اس کے فرشتوں، اس کے رسولوں اور (خاص کر) جبرئیل و میکائیل کا دشمن ہو تو بے شک اللہ بھی کافروں کا دشمن ہے۔

وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكَ اٰيٰتٍۭ بَيِّنٰتٍ١ۚ وَ مَا يَكْفُرُ بِهَاۤ اِلَّا الْفٰسِقُوْنَ (2|99)

اے رسول(ص)) بالیقین ہم نے تمہاری طرف واضح آیتیں نازل کی ہیں اور ان کا انکار نہیں کرتے مگر وہی جو فاسق (نافرمان) ہیں۔

اَوَ كُلَّمَا عٰهَدُوْا عَهْدًا نَّبَذَهٗ فَرِيْقٌ مِّنْهُمْ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ (2|100)

اور کیا (ہمیشہ ایسا نہیں ہوا کہ) جب بھی انہوں (یہود) نے کوئی عہد کیا۔ تو انہی کے ایک گروہ نے اسے پس پشت ڈال دیا (توڑ دیا) بلکہ ان میں سے اکثر بے ایمان ہیں۔