اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ (17)

سورۃ الحج (22)

(1-10)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ 22|1

اے لوگو! اپنے پروردگار (کی ناراضی) سے ڈرو۔ بیشک قیامت کا زلزلہ بہت بڑی شے ہے۔

يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِيْدٌ 22|2

جس دن تم اسے دیکھوگے کہ ہر دودھ پلانے والی (ماں) اس (بچہ) سے غافل ہو جائے گی جسے وہ دودھ پلاتی ہے اور ہر حاملہ عورت اپنا حمل گرا دے گی۔ اور تم لوگوں کو نشہ میں مدہوش دیکھوگے۔ حالانکہ وہ نشہ میں مدہوش نہیں ہوں گے۔ مگر اللہ کا عذاب بڑا سخت ہوگا۔

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يُّجَادِلُ فِي اللّٰهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَّ يَتَّبِعُ كُلَّ شَيْطٰنٍ مَّرِيْدٍ 22|3

اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں کہ جو اللہ کے بارے میں علم کے بغیر کج بحثی کرتے ہیں اور سرکش شیطان کی پیروی کرتے ہیں۔

كُتِبَ عَلَيْهِ اَنَّهٗ مَنْ تَوَلَّاهُ فَاَنَّهٗ يُضِلُّهٗ وَ يَهْدِيْهِ اِلٰى عَذَابِ السَّعِيْرِ 22|4

جس (مردود) کے بارے میں لکھا جا چکا ہے کہ جو کوئی اس کو دوست بنائے گا وہ ضرور اسے گمراہ کرے گا۔ اور اسے بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب کا راستہ دکھائے گا۔

يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِيْ رَيْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَاِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّ غَيْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَيِّنَ لَكُمْ١ؕ وَ نُقِرُّ فِي الْاَرْحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ١ۚ وَ مِنْكُمْ مَّنْ يُّتَوَفّٰى وَ مِنْكُمْ مَّنْ يُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِنْۢ بَعْدِ عِلْمٍ شَيْـًٔا١ؕ وَ تَرَى الْاَرْضَ هَامِدَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ وَ اَنْۢبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِيْجٍ 22|5

اے لوگو! اگر تمہیں (دوبارہ) اٹھائے جانے میں شک ہے تو (اس میں تو کوئی شک نہیں کہ) ہم نے تمہیں مٹي سے پیدا کیا ہے پھر نطفہ سے، پھر جمے ہوئے خون سے، پھر گوشت کے لوتھڑے سے جو متشکل (مکمل تخلیق والا) بھی ہوتا ہے اور غیر متشکل (نامکمل تخلیق والا) بھی۔ اور یہ اس لئے ہے کہ ہم تم پر (اپنی قدرت کی کار فرمائی) واضح کریں اور ہم جس (نطفے) کو چاہتے ہیں ایک مقررہ مدت تک رحموں میں ٹھہرائے رکھتے ہیں پھر تمہیں بچے کی صورت میں باہر نکالتے ہیں پھر (تمہاری پرورش کرتے ہیں) تاکہ اپنی پوری قوت کی منزل (جوانی) تک پہنچو۔ پھر تم میں سے بعض کو تو (بڑھاپے سے پہلے) اٹھا لیا جاتا ہے اور بعض کو پست ترین عمر کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے تاکہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے اور تم دیکھتے ہو کہ زمین خشک پڑی ہے تو جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ لہلہانے اور ابھرنے لگتی ہے اور ہر قسم کی خوشنما نباتات اگاتی ہے۔

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّهٗ يُحْيِ الْمَوْتٰى وَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 22|6

یہ (سب کچھ) اس لئے ہے کہ اللہ ہی کی ذات حق ہے۔ اور بےشک وہی مردوں کو زندہ کرتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

وَّ اَنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ لَّا رَيْبَ فِيْهَا١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُوْرِ 22|7

اور قیامت ضرور آنے والی ہے۔ جس میں کوئی شک نہیں ہے اور یقیناً اللہ انہیں زندہ کرے گا جو قبروں میں ہیں۔

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يُّجَادِلُ فِي اللّٰهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِيْرٍ 22|8

اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے بارے میں بغیر کسی علم کے، بغیر کسی راہنمائی کے اور بغیر کسی روشن کتاب کے کج بحثی کرتے ہیں۔

ثَانِيَ عِطْفِهٖ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ١ؕ لَهٗ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَّ نُذِيْقُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَذَابَ الْحَرِيْقِ 22|9

غرور سے) اپنے شانے کو موڑے ہوئے (اور گردن اکڑائے ہوئے) تاکہ (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے گمراہ کریں ان کیلئے دنیا میں رسوائی ہے اور قیامت کے دن ہم انہیں جلانے والی آگ کے عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ يَدٰكَ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيْدِ 22|10

تب اسے بتایا جائے گا کہ یہ سب کچھ سزا ہے اس کی جو تیرے دونوں ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے اور خدا ہرگز اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔