وَ قَالَ الَّذِيْنَ (19)

سورۃ النمل (27)

(1-10)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

طٰسٓ١۫ تِلْكَ اٰيٰتُ الْقُرْاٰنِ وَ كِتَابٍ مُّبِيْنٍۙ 27|1

طا۔ سین۔ یہ قرآن واضح کتاب کی آیتیں ہیں۔

هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِيْنَ 27|2

جو ان ایمان والوں کیلئے (سراسر) ہدایت و بشارت ہیں۔

الَّذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ يُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ يُوْقِنُوْنَ 27|3

جو نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔

اِنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ زَيَّنَّا لَهُمْ اَعْمَالَهُمْ فَهُمْ يَعْمَهُوْنَؕ 27|4

جو لوگ ایمان نہیں رکھتے۔ ہم نے ان کے اعمال (ان کی نظر میں) خوشنما بنا دیئے ہیں پس وہ سرگردان پھر رہے ہیں۔

اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْعَذَابِ وَ هُمْ فِي الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ 27|5

یہ وہ لوگ ہیں جن کیلئے (دنیا میں) بڑا عذاب ہے اور وہ آخرت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں۔

وَ اِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ عَلِيْمٍ 27|6

اے رسول(ص)) بےشک آپ کو یہ قرآن ایک بڑے حکمت والے، بڑے علم والے کی طرف سے عطا کیا جا رہا ہے۔

اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِاَهْلِهٖۤ اِنِّيْۤ اٰنَسْتُ نَارًا١ؕ سَاٰتِيْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ اٰتِيْكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ 27|7

وہ وقت یاد کرو) جب موسیٰ نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ میں نے آگ دیکھی ہے تو میں ابھی وہاں سے کوئی خبر لاتا ہوں یا آگ کا کوئی انگارہ لاتا ہوں تاکہ تم تاپو۔

فَلَمَّا جَآءَهَا نُوْدِيَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِي النَّارِ وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ 27|8

پھر جب وہ اس کے پاس آئے تو (انہیں) ندا دی گئی کہ مبارک ہے وہ جس کا جلوہ آگ میں ہے۔ اور جس کا جلوہ اس کے اردگرد ہے اور پاک ہے اللہ جو پروردگارِ عالمیان ہے۔

يٰمُوْسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُۙ 27|9

اے موسیٰ! بلاشبہ یہ میں اللہ ہوں، بڑا غلبہ والا، بڑا حکمت والا۔

وَ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ يُعَقِّبْ١ؕ يٰمُوْسٰى لَا تَخَفْ١۫ اِنِّيْ لَا يَخَافُ لَدَيَّ الْمُرْسَلُوْنَۗۖ 27|10

اور تم اپنا عصا پھینکو۔ پھر جب انہوں نے اسے دیکھا کہ وہ حرکت کر رہا ہے جیسے کہ وہ ایک سانپ ہے تو وہ پیٹھ پھیر کر مڑے اور پیچھے پلٹ کر بھی نہ دیکھا۔ (ہم نے آواز دی) اے موسیٰ خوف نہ کرو میں وہ ہوں کہ میرے حضور پیغمبر خوف نہیں کرتے۔