قَالَ نَكِّرُوْا لَهَا عَرْشَهَا نَنْظُرْ اَتَهْتَدِيْۤ اَمْ تَكُوْنُ مِنَ الَّذِيْنَ لَا يَهْتَدُوْنَ 27|41
آپ نے کہا اس (ملکہ) کے تخت کی صورت بدل دو تاکہ ہم دیکھیں کہ آیا وہ صحیح بات تک راہ پاتی ہے یا وہ ان لوگوں میں سے ہے جو صحیح بات تک راہ نہیں پاتے۔
فَلَمَّا جَآءَتْ قِيْلَ اَهٰكَذَا عَرْشُكِ١ؕ قَالَتْ كَاَنَّهٗ هُوَ١ۚ وَ اُوْتِيْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَ كُنَّا مُسْلِمِيْنَ 27|42
الغرض جب ملکہ آئی تو اس سے کہا گیا کیا تمہارا تخت ایسا ہی ہے؟ اس نے کہا یہ تو گویا وہی ہے اور ہمیں تو پہلے ہی سے حقیقت معلوم ہوگئی تھی۔ اور ہم تو مسلمان (مطیع و فرمانبردار) ہو چکے ہیں۔
وَ صَدَّهَا مَا كَانَتْ تَّعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهَا كَانَتْ مِنْ قَوْمٍ كٰفِرِيْنَ 27|43
اور سلیمان نے اس (ملکہ) کو غیر اللہ کی عبادت سے روک دیا جو وہ کیا کرتی تھی کیونکہ وہ کافر قوم میں سے تھی۔
قِيْلَ لَهَا ادْخُلِي الصَّرْحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَّ كَشَفَتْ عَنْ سَاقَيْهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِيْرَ١ؕ۬ قَالَتْ رَبِّ اِنِّيْ ظَلَمْتُ نَفْسِيْ وَ اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ 27|44
اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہو۔ تو جب اس نے اس کو دیکھا تو (بلوریں فرش کو گہرا) پانی خیال کیا اور (گزرنے کیلئے اس طرح پائیچے اٹھائے کہ) اپنی دونوں پنڈلیاں کھول دیں۔ آپ نے کہا یہ (پانی نہیں ہے بلکہ) شیشوں سے مرصع محل ہے (اور بلوریں فرش ہے) ملکہ نے کہا اے میرے پروردگار! میں نے اپنے اوپر ظلم کیا تھا اور میں سلیمان کے ساتھ رب العالمین پر ایمان لاتی ہوں۔
وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ فَاِذَا هُمْ فَرِيْقٰنِ يَخْتَصِمُوْنَ 27|45
اور بےشک ہم نے قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو رسول بنا کر (اس پیغام کے ساتھ) بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو۔ تو وہ دو فریق (مؤمن و کافر) ہوگئے جو آپس میں جھگڑنے لگے۔
قَالَ يٰقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ۠ بِالسَّيِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ١ۚ لَوْ لَا تَسْتَغْفِرُوْنَ۠ اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ 27|46
آپ نے کہا اے میری قوم! تم بھلائی سے پہلے برائی کیلئے کیوں جلدی کرتے ہو؟ تم اللہ سے کیوں بخشش طلب نہیں کرتے؟ تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
قَالُوا اطَّيَّرْنَا بِكَ وَ بِمَنْ مَّعَكَ١ؕ قَالَ طٰٓىِٕرُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ 27|47
انہوں نے کہا کہ ہم تو تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو برا شگون سمجھتے ہیں آپ (ع) نے کہا تمہاری بدشگونی تو اللہ کے پاس ہے بلکہ تم وہ لوگ ہو جو آزمائے جا رہے ہو۔
وَ كَانَ فِي الْمَدِيْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُّفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ وَ لَا يُصْلِحُوْنَ 27|48
اور (اس) شہر میں نو گروہ تھے جو زمین میں فساد برپا کرتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے۔
قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰهِ لَنُبَيِّتَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗ ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِيِّهٖ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ اَهْلِهٖ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ 27|49
انہوں نے کہا کہ آپس میں خدا کی قسم کھا کر عہد کرو کہ ہم رات کے وقت صالح اور اس کے گھر والوں کو ہلاک کر دیں گے اور پھر ان کے وارث سے کہیں گے کہ ہم ان کے گھر والوں کی ہلاکت کے موقع پر موجود ہی نہیں تھے اور ہم بالکل سچے ہیں۔
وَ مَكَرُوْا مَكْرًا وَّ مَكَرْنَا مَكْرًا وَّ هُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ 27|50
اور (اس طرح) انہوں نے ایک چال چلی اور ہم نے بھی ایک چال چلی جس کی انہیں خبر نہ تھی۔