اُتْلُ مَاۤ اُوْحِيَ اِلَيْكَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ 29|45
اے رسول(ص)) آپ اس (کتاب) کی تلاوت کریں جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اور نماز قائم کریں۔ بے شک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے اور اللہ کا ذکر سب سے بڑی چیز ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے جانتا ہے.
وَ لَا تُجَادِلُوْۤا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ١ۖۗ اِلَّا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ وَ قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِالَّذِيْۤ اُنْزِلَ اِلَيْنَا وَ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ وَ اِلٰهُنَا وَ اِلٰهُكُمْ وَاحِدٌ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ 29|46
اور (اے مسلمانو!) تم اہلِ کتاب سے بحث و مباحثہ نہ کرو مگر بہترین انداز سے سوائے ان کے جو ان میں سے ظالم ہیں اور (ان سے) کہو کہ ہم تو اس (کتاب) پر بھی ایمان لائے ہیں جو ہماری طرف نازل کی گئی ہے اور اس (کتاب پر بھی) جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور ہمارا اور تمہارا الٰہ (اللہ) ایک ہے اور ہم سب اسی کے فرمانبردار ہیں۔
وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ١ؕ فَالَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ۚ وَ مِنْ هٰۤؤُلَآءِ مَنْ يُّؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ مَا يَجْحَدُ بِاٰيٰتِنَاۤ اِلَّا الْكٰفِرُوْنَ 29|47
اور (اے رسول(ص)) ہم نے اسی طرح آپ پر کتاب نازل کی ہے (جس طرح پہلے رسولوں پر کتابیں نازل کی تھیں) تو جن کو ہم نے (پہلے) کتاب دی تھی وہ اس (قرآن) پر ایمان لاتے ہیں اور ان (اہلِ مکہ و عرب) میں سے بھی بعض اس پر ایمان لا رہے ہیں اور ہماری آیتوں کا کافروں کے سوا اور کوئی انکار نہیں کرتا۔
وَ مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّهٗ بِيَمِيْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ 29|48
اور (اے رسول(ص)) آپ اس (نزولِ قرآن) سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھتے تھے اور نہ ہی اپنے دائیں ہاتھ سے کچھ لکھتے تھے اگر ایسا ہوتا تو یہ اہلِ باطل ضرور (آپ کی نبوت میں) شک کرتے۔
بَلْ هُوَ اٰيٰتٌۢ بَيِّنٰتٌ فِيْ صُدُوْرِ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ١ؕ وَ مَا يَجْحَدُ بِاٰيٰتِنَاۤ اِلَّا الظّٰلِمُوْنَ 29|49
بلکہ وہ (قرآن) کھلی ہوئی آیتیں ہیں جو ان لوگوں کے سینہ میں ہیں جنہیں علم دیا گیا ہے اور ہماری آیتوں کا ظالموں کے سوا اور کوئی انکار نہیں کرتا۔
وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَيْهِ اٰيٰتٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰيٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ 29|50
اور وہ کہتے ہیں کہ اس شخص (پیغمبرِ اسلام(ص)) پر ان کے پروردگار کی طرف سے معجزات کیوں نہیں اتارے گئے؟ آپ کہہ دیجئے! کہ معجزات تو بس اللہ کے پاس ہیں میں تو صرف (عذابِ الٰہی) سے واضح طور پر ڈرانے والا ہوں۔
اَوَ لَمْ يَكْفِهِمْ اَنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ يُتْلٰى عَلَيْهِمْ١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَرَحْمَةً وَّ ذِكْرٰى لِقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ 29|51
کیا ان کیلئے یہ (معجزہ) کافی نہیں ہے کہ ہم نے آپ پر (یہ) کتاب نازل کی ہے۔ جو انہیں پڑھ کر سنائی جاتی ہے؟ بے شک اس میں ایمان والوں کیلئے رحمت اور نصیحت موجود ہے۔
قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ بَيْنِيْ وَ بَيْنَكُمْ شَهِيْدًا١ۚ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِالْبَاطِلِ وَ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ١ۙ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ 29|52
اے رسول(ص)) آپ کہہ دیجئے! کہ میرے اور تمہارے درمیان گواہی کیلئے اللہ کافی ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب کچھ جانتا ہے اور جو لوگ باطل پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کا ذکر کرتے ہیں وہی نقصان اٹھانے والے ہیں۔
وَ يَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ لَوْ لَاۤ اَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَآءَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَيَاْتِيَنَّهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ 29|53
اور یہ لوگ آپ سے جلدی عذاب لانے کا مطالبہ کرتے ہیں حالانکہ اگر (اس کیلئے) ایک وقتِ مقرر نہ ہوتا تو ان پر (کبھی کا) عذاب آچکا ہوتا۔ اور وہ اس طرح ان پر اچانک آپڑے گا کہ انہیں خبر بھی نہ ہوگی۔
يَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِيْنَۙ 29|54
وہ آپ سے جلدی عذاب لانے کا مطالبہ کرتے ہیں حالانکہ جہنم کافروں کو گھیرے ہوئے ہے۔
يَوْمَ يَغْشٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ وَ يَقُوْلُ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 29|55
جس دن عذاب ان کو اوپر سے اور پاؤں کے نیچے سے ڈھانک لے گا اور خدا کہے گا کہ (اب) مزہ چکھو اس کا جو کچھ تم (دنیا میں) کرتے رہے ہو (تب ان کو پتہ چلے گا)۔
يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ اَرْضِيْ وَاسِعَةٌ فَاِيَّايَ فَاعْبُدُوْنِ 29|56
اے میرے وہ بندو جو ایمان لائے ہو! میری زمین (بہت) وسیع ہے۔ پس تم میری ہی عبادت کرو۔
كُلُّ نَفْسٍ ذَآىِٕقَةُ الْمَوْتِ١۫ ثُمَّ اِلَيْنَا تُرْجَعُوْنَ 29|57
ہر نفس موت کا مزہ چکھنے والا ہے پھر تم سب ہماری طرف لوٹائے جاؤگے۔
وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا١ؕ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِيْنَ 29|58
اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے ہم ان کو جنت کے بالا خانوں میں جگہ دیں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی (اور) وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے کیا اچھا اجر ہے (نیک) عمل کرنے والوں کا۔
الَّذِيْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ 29|59
جنہوں نے صبر کیا اور اپنے پروردگار پر بھروسہ کرتے ہیں۔
وَ كَاَيِّنْ مِّنْ دَآبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا١ۗۖ اَللّٰهُ يَرْزُقُهَا وَ اِيَّاكُمْۖ وَ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ 29|60
اور کتنے زمین پر چلنے والے (جانور) ایسے ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے اللہ ہی انہیں رزق دیتا ہے اور تمہیں بھی۔ اور وہ بڑا سننے والا (اور) بڑا جاننے والا ہے۔