اُتْلُ مَاۤ اُوْحِيَ (21)

سورۃ لقمان (31)

(31-34)

وَ اِذَا قِيْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ الشَّيْطٰنُ يَدْعُوْهُمْ اِلٰى عَذَابِ السَّعِيْرِ 31|21

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس چیز کی پیروی کرو جو اللہ نے نازل کی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ (نہیں) بلکہ ہم تو اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ کیا (یہ جب بھی انہی کی پیروی کریں گے) اگرچہ شیطان ان (بڑوں) کو بھڑکتی آگ کے عذاب کی طرف بلا رہا ہو؟

وَ مَنْ يُّسْلِمْ وَجْهَهٗۤ اِلَى اللّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ 31|22

اور جو کوئی اپنا رخ اللہ کی طرف جھکا دے (اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کر دے) درآنحالیکہ وہ نیکوکار بھی ہو تو اس نے مضبوط راستہ (سہارا) پکڑ لیا ان (سب) نے ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔

وَ مَنْ كَفَرَ فَلَا يَحْزُنْكَ كُفْرُهٗ١ؕ اِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ فَنُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ 31|23

اور جو کوئی کفر اختیار کرے تو (اے رسول(ص)) اس کا کفر آپ کو غمگین نہ کرے۔ پس (اس وقت) ہم انہیں بتائیں گے کہ جو کچھ وہ کیا کرتے تھے۔ بے شک اللہ سینوں کے اندر کی باتوں کو خوب جاننے والا ہے۔

نُمَتِّعُهُمْ قَلِيْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِيْظٍ 31|24

ہم انہیں چند روزہ عیش کا موقع دیں گے اور پھر انہیں سخت عذاب کی طرف کشاں کشاں لے جائیں گے۔

وَ لَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ 31|25

اے رسول(ص)) اگر آپ ان (مشرکین) سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ تو وہ (جواب میں) ضرور کہیں گے کہ اللہ نے! آپ کہئے! الحمدﷲ مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔

لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ 31|26

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب اللہ ہی کا ہے۔ بے شک اللہ بے نیاز ہے اور لائقِ حمد و ثنا ہے۔

وَ لَوْ اَنَّ مَا فِي الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اَقْلَامٌ وَّ الْبَحْرُ يَمُدُّهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ 31|27

اور جتنے درخت زمین میں ہیں اگر وہ سب قَلمیں بن جائیں اور سمندر (سیاہی بن جائیں) اور اس کے علاوہ سات سمندر اسے سہارا دیں (سیاہی مہیا کریں) تب بھی اللہ کے کلمات ختم نہیں ہوں گے بے شک اللہ بڑا غالب (اور) بڑا حکمت والا ہے۔

مَا خَلْقُكُمْ وَ لَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ 31|28

تم سب کا پیدا کرنا اور دوبارہ زندہ کرکے اٹھانا (اللہ کیلئے) ایک شخص کے پیدا کرنے اور دوبارہ اٹھانے کی مانند ہے بے شک اللہ بڑا سننے والا، بڑا دیکھنے والا ہے۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَ يُوْلِجُ النَّهَارَ فِي الَّيْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ كُلٌّ يَّجْرِيْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ 31|29

کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کر دیتا ہے اور اس نے سورج اور چاند کو مسخر کر رکھا ہے۔ ہر ایک اپنے مقررہ وقت تک (اپنے مدار میں) چل رہا ہے۔ اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے۔

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الْبَاطِلُ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ 31|30

یہ سب اس لئے ہے کہ اللہ ہی حق ہے اور اس کے سوا جن چیزوں کو (مشرک) پکارتے ہیں وہ سب باطل ہیں اور بے شک اللہ بلند (شان والا) ہے اور بزرگ ہے۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِيْ فِي الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ لِيُرِيَكُمْ مِّنْ اٰيٰتِهٖ١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ 31|31

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ محض اللہ کے فضل سے سمندر میں کشتی چلتی ہے۔ تاکہ وہ تمہیں اپنی قدرت کی کچھ نشانیاں دکھائے۔ بے شک اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ہر بہت صبر و شکر کرنے والے کیلئے۔

وَ اِذَا غَشِيَهُمْ مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ فَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ؕ وَ مَا يَجْحَدُ بِاٰيٰتِنَاۤ اِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ كَفُوْرٍ 31|32

اور جب انہیں ایک موج سائبانوں کی طرح ڈھانپ لیتی ہے تو یہ اپنے دین کو اللہ کیلئے خالص کرکے اسے پکارتے ہیں پھر جب وہ ان کو نجات دے کر خشکی تک پہنچا دیتا ہے تو پھر ان میں سے کچھ تو اعتدال پر رہتے ہیں (اور اکثر انکار کر دیتے ہیں) اور ہماری نشانیوں کا انکار نہیں کرتا مگر وہی شخص جو بڑا غدار (بے وفا) اور بڑا ناشکرا ہے۔

يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ وَ اخْشَوْا يَوْمًا لَّا يَجْزِيْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖ وَ لَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِهٖ شَيْـًٔا١ؕ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا١ وَ لَا يَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ 31|33

اے لوگو! اپنے پروردگار (کی نافرمانی) سے ڈرو۔ اور اس دن کا خوف کرو۔ جب نہ کوئی باپ اپنے بیٹے کو فائدہ پہنچا سکے گا اور نہ کوئی بیٹا اپنے باپ کو کوئی فائدہ پہنچا سکے گا۔ بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے تو تمہیں دنیا کی (عارضی) زندگی دھوکہ نہ دے اور نہ ہی کوئی دھوکہ باز (شیطان وغیرہ) تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکہ دے۔

اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ١ۚ وَ يُنَزِّلُ الْغَيْثَ١ۚ وَ يَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ١ؕ وَ مَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًا١ؕ وَ مَا تَدْرِيْ نَفْسٌۢ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ 31|34

بے شک اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے اور وہی بارش برساتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے رحموں میں کیا ہے؟ اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کس سرزمین میں مرے گا۔ بے شک اللہ بڑا جاننے والا (اور) بڑا باخبر ہے۔