وَ مَا لِيَ (23)

سورۃ الصّافّات (37)

(101-110)

فَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِيْمٍ 37|101

اس دعا کے بعد) ہم نے ان کو ایک حلیم و بردبار بیٹے کی بشارت دی۔

فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يٰبُنَيَّ اِنِّيْۤ اَرٰى فِي الْمَنَامِ اَنِّيْۤ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَا ذَا تَرٰى ١ؕ قَالَ يٰۤاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ١ سَتَجِدُنِيْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِيْنَ 37|102

پس جب وہ لڑکا آپ کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہوا تو آپ(ع) نے فرمایا (اے بیٹا) میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں تم غور کرکے بتاؤ کہ تمہاری رائے کیا ہے؟ عرض کیا بابا جان! آپ کو جو حکم دیا گیا ہے وہ بجا لائیے اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔

فَلَمَّاۤ اَسْلَمَا وَ تَلَّهٗ لِلْجَبِيْنِ 37|103

پس جب دونوں (باپ بیٹے) نے سرِ تسلیم خم کر دیا اور باپ نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹا دیا۔

وَ نَادَيْنٰهُ اَنْ يّٰۤاِبْرٰهِيْمُ 37|104

تو ہم نے ندا دی اے ابراہیم(ع)!

قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْيَا١ۚ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ 37|105

تم نے (اپنے) خواب کو سچ کر دکھایا بے شک ہم نیکوکاروں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْبَلٰٓؤُا الْمُبِيْنُ 37|106

بے شک یہ ایک کھلی ہوئی آزمائش تھی۔

وَ فَدَيْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِيْمٍ 37|107

اور ہم نے ایک عظیم قربانی کے عوض اس کو چھڑا لیا۔

وَ تَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْاٰخِرِيْنَ 37|108

اور ہم نے اس کا ذکر خیر آنے والوں میں چھوڑا۔

سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبْرٰهِيْمَ 37|109

سلام ہو ابراہیم(ع) پر۔

كَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ 37|110

ہم اسی طرح نیکوکاروں کو جزا دیتے ہیں۔