وَ مَا لِيَ (23)

سورۃ الصّافّات (37)

(61-70)

لِمِثْلِ هٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ 37|61

ایسی ہی کامیابی کیلئے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے۔

اَذٰلِكَ خَيْرٌ نُّزُلًا اَمْ شَجَرَةُ الزَّقُّوْمِ 37|62

کیا یہ ضیافت اچھی ہے یا زقوم کا درخت؟

اِنَّا جَعَلْنٰهَا فِتْنَةً لِّلظّٰلِمِيْنَ 37|63

جسے ہم نے ظالموں کیلئے آزمائش بنایا۔

اِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِيْۤ اَصْلِ الْجَحِيْمِۙ 37|64

وہ ایک درخت ہے جو جہنم کی گہرائی سے نکلتا ہے۔

طَلْعُهَا كَاَنَّهٗ رُءُوْسُ الشَّيٰطِيْنِ 37|65

اس کے شگوفے ایسے ہیں جیسے شیطانوں کے سر۔

فَاِنَّهُمْ لَاٰكِلُوْنَ مِنْهَا فَمَالِـُٔوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَؕ 37|66

جہنمی لوگ اسے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے۔

ثُمَّ اِنَّ لَهُمْ عَلَيْهَا لَشَوْبًا مِّنْ حَمِيْمٍۚ 37|67

پھر زقوم کھانے کے بعد) انہیں (پینے کیلئے) کھولتا ہوا پانی ملا کر دیا جائے گا۔

ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَاۡاِلَى الْجَحِيْمِ 37|68

پھر ان کی بازگشت جہنم ہی کی طرف ہوگی۔

اِنَّهُمْ اَلْفَوْا اٰبَآءَهُمْ ضَآلِّيْنَ 37|69

ان لوگوں نے اپنے باپ دادا کو گمراہ پایا۔

فَهُمْ عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ يُهْرَعُوْنَ 37|70

اور یہ (بے سوچے سمجھے) انہی کے نقش قدم پر دوڑتے رہے۔