اِلَيْهِ يُرَدُّ (25)

سورۃ الجاثیہ (45)

(11-20)

هٰذَا هُدًى١ۚ وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِيْمٌ 45|11

یہ ہدایت ہے (اور وہ لوگ جنہوں نے اپنے پرودرگار کی آیتوں کا انکار کیا ان کیلئے) سخت قِسم کا دردناک عذاب ہے۔

اَللّٰهُ الَّذِيْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِيَ الْفُلْكُ فِيْهِ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَۚ 45|12

اللہ وہی ہے جس نے تمہارے لئے سمندر کومسخر کر دیا تاکہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلیں اور تاکہ تم اس کا فضل (رزق) تلاش کرو۔ اور تاکہ تم شکر کرو۔

وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا مِّنْهُ١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ 45|13

اوراس نے آسمانوں اور زمین کی سب چیزوں کو تمہارے لئے مسخر کر دیا ہے۔ بےشک اس میں غورو فکر کرنے والوں کیلئے (خدا کی قدرت و حکمت کی) نشانیاں ہیں۔

قُلْ لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يَغْفِرُوْا لِلَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ اَيَّامَ اللّٰهِ لِيَجْزِيَ قَوْمًۢا بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ 45|14

اے رسول(ص)) ایمان والوں سے کہیے! کہ وہ ان لوگوں سے درگزر کریں جو اللہ کے (خاص) دنوں کی امید نہیں رکھتے تاکہ اللہ ایک قوم کو اس کے ان سارے اعمال کا بدلہ دے جو وہ کیا کرتے تھے۔

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَيْهَا ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ 45|15

جو کوئی نیک عمل کرتا ہے وہ اپنے فائدہ کیلئے کرتا ہے اورجو کوئی بر ائی کرتا ہے اس کا وبال بھی اسی پر پڑتا ہے پھر تم سب اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔

وَ لَقَدْ اٰتَيْنَا بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلَى الْعٰلَمِيْنَۚ 45|16

اور یقیناً ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب، حُکم اور نبوت عطا فرمائی اور ان کو پاکیزہ رزق عطا فرمایا اور ان کو دنیا جہان والوں پر فضیلت عطا کی۔

وَ اٰتَيْنٰهُمْ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْاَمْرِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ۙ بَغْيًۢا بَيْنَهُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ يَقْضِيْ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فِيْمَا كَانُوْا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ 45|17

اورہم نے انہیں دین کے معاملہ میں کھلے دلائل عطا کئے پس انہوں نے اس میں اختلاف نہیں کیا مگر علم آجانے کے بعد محض باہمی ضد اور ظلم کی وجہ سے۔ بےشک قیامت کے دن آپ(ص) کا پروردگار ان کے درمیان فیصلہ کرے گا جن چیزوں میں وہ باہم اختلاف کرتے تھے۔

ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰى شَرِيْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ 45|18

اے رسول(ص)) پھر ہم نے آپ(ص) کو ایک واضح شریعت پر قائم کیا ہے پس آپ(ص) اس کی پیروی کیجئے! اور ان لوگوں کی خواہش کی پیروی نہ کیجئے جو علم نہیں رکھتے۔

اِنَّهُمْ لَنْ يُّغْنُوْا عَنْكَ مِنَ اللّٰهِ شَيْـًٔا١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِيْنَ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍ١ۚ وَ اللّٰهُ وَلِيُّ الْمُتَّقِيْنَ 45|19

وہ اللہ کے مقابلہ میں آپ(ص) کو ہرگز کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچائیں گے۔ یقیناً ظالم لوگ ایک دوسرے کے ساتھی ہوتے ہیں اور اللہ تو پرہیزگاروں کا ساتھی (اور پُشت پناہ) ہے۔

هٰذَا بَصَآىِٕرُ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ يُّوْقِنُوْنَ 45|20

یہ(قرآن) لوگوں کے لئے بصیرتوں کا سرمایہ اور یقین رکھنے والوں کیلئے ہدایت و رحمت کا باعث ہے۔