اِلَيْهِ يُرَدُّ (25)

سورۃ الجاثیہ (45)

(21-30)

اَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ اجْتَرَحُوا السَّيِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ سَوَآءً مَّحْيَاهُمْ وَ مَمَاتُهُمْ١ؕ سَآءَ مَا يَحْكُمُوْنَ 45|21

کیا وہ لوگ جنہوں نے برائیوں کا ارتکاب کیا ہے وہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کو ان لوگوں کی مانند قرار دیں گے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے؟ ان کا جینا اور مرنا یکساں ہو جائے گا؟ بہت براہے وہ فیصلہ جو وہ کر رہے ہیں۔

وَ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ 45|22

اور اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق و حکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے اور تاکہ ہر شخص کو اس کے کئے کا بدلہ دیاجائے اور ان پر (ہرگز) ظلم نہیں کیا جائے گا۔

اَفَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ وَ اَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلْمٍ وَّ خَتَمَ عَلٰى سَمْعِهٖ وَ قَلْبِهٖ وَ جَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةً١ؕ فَمَنْ يَّهْدِيْهِ مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ 45|23

کیا آپ(ص) نے اس شخص کو دیکھا ہے جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا خدا بنا رکھاہے اوراللہ نے باوجود علم کے اسے گمراہی میں چھوڑ دیا ہے اور اس کے کان اور دل پر مہر لگا دی ہے اور اس کی آنکھ پر پر دہ ڈال دیا ہے اللہ کے بعد کون ایسے شخص کو ہدایت کر سکتا ہے؟ کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے۔

وَ قَالُوْا مَا هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوْتُ وَ نَحْيَا وَ مَا يُهْلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهْرُ١ۚ وَ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۚ اِنْ هُمْ اِلَّا يَظُنُّوْنَ 45|24

اور وہ کہتے ہیں کہ ہماری زندگی تو بس یہی دنیٰوی زندگی ہے۔ یہیں ہم مرتے ہیں اور یہیں جیتے ہیں اور ہمیں صرف گردشِ زمانہ ہلاک کرتی ہے حالانکہ انہیں اس (حقیقت) کا کوئی علم نہیں ہے وہ محض گمان کی بناء پر ایسا کہتے ہیں۔

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتُوْا بِاٰبَآىِٕنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ 45|25

اور جب ان کے سامنے ہماری کھلی ہوئی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو ان کے پاس کوئی حجت اور دلیل نہیں ہوتی سوائے اس کے کہ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو (زندہ کر کے) لاؤ۔

قُلِ اللّٰهُ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يَجْمَعُكُمْ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَا رَيْبَ فِيْهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ 45|26

آپ(ص) کہہ دیجئے! اللہ ہی تمہیں زندہ رکھتا ہے وہی تمہیں موت دیتا ہے پھر وہی تمہیں قیامت کے دن اکٹھا کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ہے لیکن اکثر لوگ (اس حقیقت کو) جانتے نہیں ہیں۔

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ يَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ يَوْمَىِٕذٍ يَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ 45|27

آسمانوں اور زمین میں اللہ ہی کی بادشاہی ہے اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن باطل پرست لوگ خسارہ اٹھائیں گے۔

وَ تَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِيَةً١۫ كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا١ؕ اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 45|28

اور آپ دیکھیں گے کہ اس وقت ہر گروہ گھٹنوں کے بل گرا ہوا اپنے (فیصلے کامنتظر) ہوگا اور ہر گروہ کو اس کی کتاب (صحیفۂ عمل) کی طرف بلایا جائے گا (اور ان سے کہا جائے گا کہ) آج تمہیں اس کا بدلہ دیا جائے گا جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔

هٰذَا كِتٰبُنَا يَنْطِقُ عَلَيْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 45|29

یہ ہماری کتاب (دفترِ عمل) ہے جو تمہارے بارے میں حق و سچ کے ساتھ بولتی ہے ہم لکھتے (لکھواتے) رہتے تھے جو کچھ تم کرتے تھے۔

فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَيُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِيْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِيْنُ 45|30

جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کا پروردگار انہیں اپنی رحمت میں داخل کرے گااوریہی واضح کامیابی ہے۔