قَدْ سَمِعَ اللَّهُ (28)

سورۃ المجادلہ (58)

(1-10)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِيْ تُجَادِلُكَ فِيْ زَوْجِهَا وَ تَشْتَكِيْۤ اِلَى اللّٰهِ١ۖۗ وَ اللّٰهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ 58|1

بےشک اللہ نے اس عورت کی بات سن لی ہے جو اپنے شوہر کے بارے میں آپ(ص) سے بحث و تکرار کررہی ہے اور اللہ سے شکوہ و شکایت کر رہی ہے اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا ہے بےشک اللہ بڑا سننے والا، بڑا دیکھنے والا ہے۔

اَلَّذِيْنَ يُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَآىِٕهِمْ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْ١ؕ اِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا الّٰٓـِٔيْ وَلَدْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَيَقُوْلُوْنَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَ زُوْرًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ 58|2

تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں وہ ان کی مائیں نہیں ہیں (کیونکہ) ان کی مائیں تو بس وہی ہیں جنہوں نے انہیں جَنا ہے البتہ یہ لوگ ایک بہت بری بات اور جھوٹ کہتے ہیں اور بلاشبہ اللہ بڑا درگزر کرنے والا، بڑا بخشنے والا ہے۔

وَ الَّذِيْنَ يُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَآىِٕهِمْ ثُمَّ يَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِيْرُ رَقَبَةٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّتَمَآسَّا١ؕ ذٰلِكُمْ تُوْعَظُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ 58|3

اور جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کریں اور پھر اپنی کہی ہوئی بات سے رجوع کرنا چاہیں تو قبل اس کے کہ باہمی ازدواجی تعلق قائم کریں (شوہر کو) ایک غلام آزاد کرنا ہوگا۔ یہ بات ہے جس کی تمہیں نصیحت کی جاتی ہے اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔

فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّتَمَآسَّا١ۚ فَمَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّيْنَ مِسْكِيْنًا١ؕ ذٰلِكَ لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابٌ اَلِيْمٌ 58|4

اور جوشخص (غلام) نہ پائے تو جنسی تعلق قائم کرنے سے پہلے دو ماہ پے در پے (لگاتار) روزے رکھنا ہوں گے اور جو اس پر بھی قدرت نہ رکھتا ہو تو پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے یہ اس لئے کہ تم اللہ اور اس کے رسول(ص) پر ایمان لاؤ (تمہارا ایمان راسخ ہو) یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں اور کافروں کیلئے دردناک عذاب ہے۔

اِنَّ الَّذِيْنَ يُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ كُبِتُوْا كَمَا كُبِتَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ قَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰيٰتٍۭ بَيِّنٰتٍ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابٌ مُّهِيْنٌۚ 58|5

بےشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول(ص) کی مخالفت کرتے ہیں وہ اسی طرح ذلیل و خوار ہوں گے جس طرح وہ (مخالف) لوگ ذلیل و خوار ہوئے جو ان سے پہلے تھے اور ہم نے کھلی ہوئی آیتیں نازل کر دی ہیں اور کافروں کیلئے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔

يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِيْعًا فَيُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اَحْصٰىهُ اللّٰهُ وَ نَسُوْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌ 58|6

جس دن اللہ ان سب کو زندہ کر کے اٹھائے گا تو انہیں بتائے گا جو کچھ انہوں نے کیا تھا اللہ نے تو (ان کے اعمال کو) محفوظ رکھا مگر وہ بھول گئے اور اللہ ہر چیز پر شاہد ہے۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ١ؕ مَا يَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَ لَا خَمْسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَ لَاۤ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمْ اَيْنَ مَا كَانُوْا١ۚ ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ 58|7

کیا تم نے نہیں دیکھا (غور نہیں کیا) کہ اللہ وہ سب کچھ جانتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے کہیں بھی تین آدمیوں کی سرگوشی نہیں ہوتی مگر وہ ان کا چوتھا ہوتاہے اور نہ پانچ کی ہوتی ہے مگر وہ ان کا چھٹا ہوتا ہے اور نہ اس سے کم اور نہ زیادہ مگر یہ کہ وہ جہاں بھی ہوں اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے پھر وہ قیامت کے دن انہیں بتائے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے؟ یقیناً اللہ ہر چیز کا بڑا جاننے والا ہے۔

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ نُهُوْا عَنِ النَّجْوٰى ثُمَّ يَعُوْدُوْنَ لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ يَتَنٰجَوْنَ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِيَتِ الرَّسُوْلِ وَ اِذَا جَآءُوْكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللّٰهُ١ۙ وَ يَقُوْلُوْنَ فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ لَوْ لَا يُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُ١ؕ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ يَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمَصِيْرُ 58|8

کیا تم نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھاجنہیں (اسلام کے خلاف) سرگوشیاں کرنے سے منع کیا گیا تھا وہ پھر وہی کام کرتے ہیں جس سے ان کو منع کیا گیا تھا اور وہ گناہ، ظلم و زیادتی اور رسول(ص) کی نافرمانی کی سرگوشیاں (خفیہ میٹنگیں) کرتے ہیں اور جب آپ(ص) کے پاس آتے ہیں تو آپ(ص) کو کس طرح سلام کرتے ہیں جس طرح اللہ نے آپ(ص) کو سلام نہیں کیا اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ (اگر یہ برحق نبی(ص) ہیں تو) اللہ ہماری ان باتوں پر ہم پر عذاب کیوں نازل نہیں کرتا؟ ان کے لئے جہنم کافی ہے جس میں وہ پڑیں گے (اور اس کی تپش اٹھائیں گے) سو وہ کیا برا ٹھکانہ ہے؟

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِيَتِ الرَّسُوْلِ وَ تَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيْۤ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ 58|9

اے ایمان والو! تم جب کوئی سرگوشی (خفیہ بات) کرو تو گناہ، ظلم و زیادتی اور رسول(ص) کی نافرمانی کے بارے میں سرگوشی نہ کرو بلکہ نیکی کرنے اور تقویٰ اختیار کرنے کی سرگوشی کرو اور اللہ (کی نافرمانی سے) ڈرو جس کے پاس جمع کئے جاؤ گے۔

اِنَّمَا النَّجْوٰى مِنَ الشَّيْطٰنِ لِيَحْزُنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ لَيْسَ بِضَآرِّهِمْ شَيْـًٔا اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ 58|10

کافروں کی یہ) سرگوشی شیطان کی طرف سے ہے تاکہ وہ اہلِ ایمان کو رنج و غم پہنچائے حالانکہ وہ اللہ کے اذن کے بغیر انہیں کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا اور ایمان والوں کو اللہ پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے۔