تَبٰرَكَ الَّذِيْ (29)

سورۃ الملک (67)

(1-10)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

تَبٰرَكَ الَّذِيْ بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرُۙ 67|1

بابرکت ہے وہ (خدا) جس کے ہاتھ (قبضۂ قدرت) میں (کائنات کی) بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔

ا۟لَّذِيْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُۙ 67|2

جس نے موت و حیات کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے عمل کے لحاظ سے سب سے زیادہ اچھا کون ہے؟ وہ بڑا زبردست (اور) بڑا بخشنے والا ہے۔

الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا١ؕ مَا تَرٰى فِيْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ١ؕ فَارْجِعِ الْبَصَرَ١ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ 67|3

جس نے اوپر نیچے سات آسمان بنائے تم خدائے رحمٰن کی تخلیق میں کوئی خلل (اور بےنظمی) نہیں پاؤ گے پھر نگاہ اٹھا کر دیکھو تمہیں کوئی رخنہ نظر آتا ہے؟

ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنْقَلِبْ اِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِيْرٌ 67|4

پھر دوبارہ نگاہ دوڑاؤ۔ تمہاری نگاہ تھک کر (ناکام) تمہاری طرف لوٹ آئے گی۔

وَ لَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّيٰطِيْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِيْرِ 67|5

بےشک ہم نے قریبی آسمان کو (تاروں) کے چراغوں سے آراستہ کیا ہے اور انہیں شیطانوں کو سنگسار کرنے (مار بھگانے) کا ذریعہ بنایا ہے اور ہم نے ان (شیطانوں) کیلئے دہکتی ہوئی آگ کا عذاب بھی تیار کر رکھا ہے۔

وَ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِيْرُ 67|6

اور جن لوگوں نے اپنے پروردگار کا کفر (انکار) کیا ان کے لئے جہنم کا عذاب ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔

اِذَاۤ اُلْقُوْا فِيْهَا سَمِعُوْا لَهَا شَهِيْقًا وَّ هِيَ تَفُوْرُۙ 67|7

جب وہ اس میں جھونکے جائیں گے تو وہ اس کی زوردار (اور مہیب) آواز سنیں گے اور وہ جوش مار رہی ہوگی۔

تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الْغَيْظِ١ؕ كُلَّمَاۤ اُلْقِيَ فِيْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ يَاْتِكُمْ نَذِيْرٌ 67|8

گویا) وہ غیظ و غصہ سے پھٹی جاتی ہوگی جب اس میں کوئی گروہ جھونکا جائے گا تو اس کے دارو غے ان سے پو چھیں گے کہ تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا (ہادی) نہیں آیا تھا؟

قَالُوْا بَلٰى قَدْ جَآءَنَا نَذِيْرٌ١ۙ۬ فَكَذَّبْنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ١ۖۚ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ كَبِيْرٍ 67|9

وہ کہیں گے ہاں بےشک ہمارے پاس ڈرانے والا آیا تھا مگر ہم نے (اسے) جھٹلایا اور کہا کہ اللہ نے کوئی بھی چیز نازل نہیں کی تم بڑی گمراہی میں مبتلا ہو۔

وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِيْۤ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ 67|10

اور کہیں گے کاش ہم (اس وقت) سنتے یا سمجھتے تو (آج) دوزخ والوں میں سے نہ ہو تے۔