قَالَ الْمَلَاُ (9)

سورۃ الاعراف (7)

(161-170)

وَ اِذْ قِيْلَ لَهُمُ اسْكُنُوْا هٰذِهِ الْقَرْيَةَ وَ كُلُوْا مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ وَ قُوْلُوْا حِطَّةٌ وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطِيْٓـٰٔتِكُمْ سَنَزِيْدُ الْمُحْسِنِيْنَ 7|161

وہ وقت یاد کرو) جب ان (بنی اسرائیل) سے کہا گیا کہ اس گاؤں میں جاکر آباد ہو جاؤ اور وہاں جہاں سے تمہارا جی چاہے (غذا حاصل کرکے) کھاؤ اور حطۃ حطۃ کہتے ہوئے سجدہ ریز ہوکر (عاجزی سے جھکے ہوئے) شہر کے دروازہ میں داخل ہو جاؤ۔ تو ہم تمہاری خطائیں معاف کر دیں گے۔ اور جو نیک کردار ہیں ان کو مزید اجر سے نوازیں گے۔

فَبَدَّلَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ قَوْلًا غَيْرَ الَّذِيْ قِيْلَ لَهُمْ فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا يَظْلِمُوْنَ 7|162

مگر ان میں سے جو ظالم تھے انہوں نے وہ کلمہ بدل دیا ایسے کلمہ سے جو مختلف تھا اس کلمہ سے جو ان سے کہا گیا تھا (اور حطۃ کی جگہ حنطہ حنطہ کہنا شروع کیا، ان کی اس روش کا نتیجہ یہ نکلا کہ) ہم نے آسمان سے ان پر عذاب بھیجا۔ اس ظلم کی وجہ سے جو وہ کیا کرتے تھے۔

وَ سْـَٔلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِيْ كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ١ۘ اِذْ يَعْدُوْنَ فِي السَّبْتِ اِذْ تَاْتِيْهِمْ حِيْتَانُهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَّ يَوْمَ لَا يَسْبِتُوْنَ١ۙ لَا تَاْتِيْهِمْ١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبْلُوْهُمْ بِمَا كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ 7|163

اور (اے پیغمبر) ان سے اس بستی کا حال پوچھو جو سمندر کے کنارے واقع تھی۔ جبکہ وہ (بنی اسرائیل) ہفتہ کے دن خدا کی مقرر کردہ حد سے باہر ہو جاتے تھے۔ جبکہ ہفتہ کے دن مچھلیاں ابھر ابھر کر سطح آب پر تیرتی ہوئی آجاتی تھیں اور جس دن ہفتہ نہیں ہوتا ہے (باقی دنوں میں) تو نہیں آتی تھیں۔ ان کی نافرمانی کی وجہ سے جو وہ کیا کرتے تھے اس طرح ہم ان کی آزمائش کرتے تھے۔

وَ اِذْ قَالَتْ اُمَّةٌ مِّنْهُمْ لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمَا١ۙ ا۟للّٰهُ مُهْلِكُهُمْ اَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيْدًا١ؕ قَالُوْا مَعْذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمْ وَ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُوْنَ 7|164

اور (اس وقت کو یاد کرو) جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا (ان لوگوں سے جو ہفتہ کے دن شکار کرنے والوں کو وعظ و نصیحت کرتے تھے) کہ تم ایسے لوگوں کو (بے فائدہ) کیوں نصیحت کرتے ہو۔ جن کو خدا ہلاک کرنے والا ہے یا سخت عذاب میں مبتلا کرنے والا ہے؟ انہوں نے (جواب میں) کہا کہ ہم یہ اس لیے کرتے ہیں کہ تمہارے پروردگار کے سامنے معذرت پیش کر سکیں (کہ ہم نے اپنا فریضۂ امر و نہی ادا کر دیا ہے) اور اس لئے کہ شاید یہ لوگ اس روش سے پرہیز اختیار کریں۔

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖۤ اَنْجَيْنَا الَّذِيْنَ يَنْهَوْنَ عَنِ السُّوْٓءِ وَ اَخَذْنَا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا بِعَذَابٍۭ بَىِٕيْسٍۭ بِمَا كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ 7|165

آخرکار جب ان لوگوں نے وہ تمام نصیحتیں بھلا دیں جو ان کو کی گئی تھیں تو ہم نے ان لوگوں کو تو بچا لیا جو برائی سے روکتے رہتے تھے اور باقی سب ظالموں کو ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے سخت عذاب میں گرفتار کیا۔

فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُهُوْا عَنْهُ قُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِىِٕيْنَ 7|166

جب یہ عذاب بھی ان کو سرکشی سے باز نہ رکھ سکا) اور وہ برابر سرکشی کرتے چلے گئے ان چیزوں کے بارے میں جن سے ان کو روکا گیا تھا تو ہم نے کہا بندر ہو جاؤ ذلیل اور راندے ہوئے۔

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ مَنْ يَّسُوْمُهُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيْعُ الْعِقَابِ١ۖۚ وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 7|167

اور (اے پیغمبر(ص)) یاد کرو جب تمہارے پروردگار نے اعلان کر دیا تھا (کہ اگر یہ لوگ اپنی سیاہ کاریوں سے باز نہ آئے) تو خدا ان پر قیامت تک ایسے لوگ مسلط کرے گا جو انہیں بدترین عذاب میں گرفتار کریں گے یقینا تمہارا پروردگار بہت جلد سزا دینے والا ہے اور بڑا بخشنے والا اور بڑا رحم کرنے والا بھی ہے۔

وَ قَطَّعْنٰهُمْ فِي الْاَرْضِ اُمَمًا١ۚ مِنْهُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنْهُمْ دُوْنَ ذٰلِكَ وَ بَلَوْنٰهُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَ السَّيِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ 7|168

اور ہم نے ان کو زمین میں مختلف فرقوں کی صورت میں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ ان میں سے ناپائیدار ہوگا کچھ لوگ تو نیک ہیں اور کچھ اس کے خلاف اور طرح کے (بدکار) ہیں۔ اور ہم ان کو اچھے اور برے حالات میں مبتلا کرکے آزماتے ہیں تاکہ وہ باز آجائیں۔

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَّرِثُوا الْكِتٰبَ يَاْخُذُوْنَ عَرَضَ هٰذَا الْاَدْنٰى وَ يَقُوْلُوْنَ سَيُغْفَرُ لَنَا١ۚ وَ اِنْ يَّاْتِهِمْ عَرَضٌ مِّثْلُهٗ يَاْخُذُوْهُ١ؕ اَلَمْ يُؤْخَذْ عَلَيْهِمْ مِّيْثَاقُ الْكِتٰبِ اَنْ لَّا يَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ وَ دَرَسُوْا مَا فِيْهِ١ؕ وَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَيْرٌ لِّلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ 7|169

پھر ان کے بعد ایسے ناخلف لوگ ان کے جانشین ہوئے اور کتابِ الٰہی کے وارث بنے جو (دین فروشی کرکے) دنیائے دوں کے مال و متاع اور ساز و سامان جمع کرتے اور سمیٹتے ہیں اور کہتے ہیں کہ امید ہے کہ ہم بخش دیے جائیں گے اور اگر اتنا ہی اور عارضی ساز و سامان ان کے ہاتھ لگ جائے تو اسے بھی بے دریغ لے لیتے ہیں۔ کیا ان سے کتاب (توراۃ) والا یہ عہد و پیمان نہیں لیا گیا تھا کہ وہ اللہ کی نسبت حق کے سوا اور کوئی بات نہیں کہیں گے؟ اور یہ خود کتاب میں پڑھ چکے ہیں جو اس میں لکھا ہے اور آخرت والا گھر پرہیزگاروں کے لیے بہتر ہے کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟

وَ الَّذِيْنَ يُمَسِّكُوْنَ بِالْكِتٰبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّا لَا نُضِيْعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِيْنَ 7|170

اور جو لوگ کتابِ الٰہی سے تمسک رکھتے ہیں اور نماز کو قائم کرتے ہیں۔ بے شک ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر و ثواب ضائع نہیں کریں گے۔