وَ اِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ۚ خُذُوْا مَاۤ اٰتَيْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ 7|171
اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے پہاڑ کو ہلا کر (اور جڑ سے اکھاڑ کر)۔ اس طرح ان کے اوپر بلند کیا۔ کہ گویا سائبان ہے اور انہوں نے گمان کیا کہ یہ ان پر گرا ہی چاہتا ہے ( اور ان سے کہا کہ) جو کچھ (کتاب) ہم نے تمہیں عطا کی ہے اسے مضبوطی کے ساتھ لو۔ اور جو کچھ اس میں لکھا ہے اسے یاد رکھو۔ تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔
وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِيْۤ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَ اَشْهَدَهُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى ١ۛۚ شَهِدْنَا١ۛۚ اَنْ تَقُوْلُوْا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِيْنَۙ 7|172
اور (وہ وقت یاد کرو) جب تمہارے پروردگار نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا (جو نسلاً بعد نسل پیدا ہونے والی تھی) اور ان کو خود ان کے اوپر گواہ بناتے ہوئے پوچھا کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا ہاں بے شک ہم گواہی دیتے ہیں کہ تو ہمارا پروردگار ہے (یہ کاروائی اس لئے کی تھی کہ) کہیں تم قیامت کے دن یہ نہ کہہ دو کہ ہم تو اس سے بے خبر تھے۔
اَوْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اَشْرَكَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا ذُرِّيَّةً مِّنْۢ بَعْدِهِمْ١ۚ اَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ 7|173
یا کہو کہ (خدایا) شرک تو ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا نے کیا تھا۔ اور ہم تو ان کے بعد ان کی نسل سے تھے (اس لئے لاچار ان کی روش پر چل پڑے) تو کیا تو ہمیں اس (شرک) کی وجہ سے ہلاک کرے گا جو باطل پرستوں نے کیا تھا۔
وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ وَ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ 7|174
اسی طرح ہم اپنی نشانیاں تفصیل سے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ (حق کی طرف) رجوع کریں۔
وَ اتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ الَّذِيْۤ اٰتَيْنٰهُ اٰيٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّيْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِيْنَ 7|175
اے رسول(ص)) ان لوگوں کے سامنے اس شخص کا واقعہ بیان کرو جس کو ہم نے اپنی بعض نشانیاں عطا کی تھیں مگر وہ ان سے عاری ہوگیا (وہ جامہ اتار دیا) پس شیطان اس کے پیچھے لگ گیا۔ اور آخرکار وہ گمراہوں میں سے ہوگیا۔
وَ لَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا وَ لٰكِنَّهٗۤ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ١ۚ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ١ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ اَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَثْ١ؕ ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا١ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ 7|176
اور اگر ہم چاہتے تو ان نشانیوں کی وجہ سے اس کا مرتبہ بلند کرتے۔ مگر وہ تو زمین (پستی) کی طرف جھک گیا۔ اور اپنی خواہشِ نفس کا پیرو ہوگیا۔ تو اب اس کی مثال کتے کی سی ہوگئی کہ اگر تم اس پر حملہ کرو تب بھی ہانپتا ہے اور یونہی چھوڑ دو تب بھی ایسا کرتا ہے۔ (زبان لٹکائے ہانپتا ہے) یہ مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا (اے رسول) تم یہ قصص و حکایات سناتے رہو شاید وہ غور و فکر کریں۔
سَآءَ مَثَلَا ا۟لْقَوْمُ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَ اَنْفُسَهُمْ كَانُوْا يَظْلِمُوْنَ 7|177
کیا بری مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا۔ اور جو خود اپنے ہی اوپر ظلم کرتے رہے۔
مَنْ يَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِيْ١ۚ وَ مَنْ يُّضْلِلْ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ 7|178
جس کو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت یافتہ ہے اور جسے وہ گمراہی میں چھوڑ دے وہی لوگ گھاٹا اٹھانے والے ہیں۔
وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْس١ۖ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا١ وَ لَهُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِهَا وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ اُولٰٓىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ 7|179
اور کتنے جن و انسان ایسے ہیں جنہیں ہم نے جہنم کے لیے پیدا کیا ہے (یعنی ان کا انجامِ کار جہنم ہے) ان کے دل و دماغ ہیں مگر سوچتے نہیں ہیں۔ ان کی آنکھیں ہیں مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں ہیں۔ یہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں۔ بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ (اور گئے گزرے) ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو بالکل غافل و بے خبر ہیں۔
وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا١۪ وَ ذَرُوا الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِيْۤ اَسْمَآىِٕهٖ١ؕ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 7|180
اور اللہ ہی کے لیے اچھے اچھے نام ہیں اسے انہی کے ذریعہ سے پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں کجروی کرتے ہیں۔ عنقریب انہیں ان کے کئے کا بدلہ مل جائے گا۔