قَالَ الْمَلَاُ (9)

سورۃ الاعراف (7)

(181-190)

وَ مِمَّنْ خَلَقْنَاۤ اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ يَعْدِلُوْنَ 7|181

ہماری مخلوق میں سے ایک گروہ ایسا بھی ہے جو حق کے مطابق ہدایت کرتا ہے اور اسی کے مطابق (لوگوں کا) فیصلہ کرتا ہے۔

وَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ 7|182

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں (نشانیوں) کو جھٹلایا ہم انہیں بتدریج (آہستہ آہستہ ان کے انجام بد کی طرف) لے جائیں گے کہ انہیں اس کی خبر تک نہ ہوگی۔

وَ اُمْلِيْ لَهُمْ١۫ؕ اِنَّ كَيْدِيْ مَتِيْنٌ 7|183

اور میں انہیں ڈھیل دیتا ہوں بے شک میری تدبیر بڑی مضبوط ہے۔

اَوَ لَمْ يَتَفَكَّرُوْا١ٚ مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ 7|184

کیا ان لوگوں نے اتنا بھی نہیں سوچا کہ ان کے ساتھی (پیغمبر اسلام(ص)) میں ذرا بھی جنون نہیں ہے۔ وہ تو بس کھلم کھلا (خدا کے عذاب سے) ڈرانے والا ہے۔

اَوَ لَمْ يَنْظُرُوْا فِيْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ١ۙ وَّ اَنْ عَسٰۤى اَنْ يَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُهُمْ١ۚ فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۭ بَعْدَهٗ يُؤْمِنُوْنَ 7|185

کیا ان لوگوں نے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی میں اور ان چیزوں میں جو اللہ نے پیدا کی ہیں کبھی غور و فکر نہیں کیا؟ اور کبھی نظر اٹھا کر ان کو نہیں دیکھا؟ اور اس بات پر کہ شاید ان کا (مقررہ) وقت آگیا ہو۔ تو اب وہ اس کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے؟

مَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِيَ لَهٗ١ؕ وَ يَذَرُهُمْ فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ 7|186

جس کو اللہ گمراہی میں چھوڑ دے اس کو کوئی ہدایت نہیں کر سکتا اور وہ (خدا) انہیں چھوڑ دیتا ہے تاکہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں۔

يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرْسٰىهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّيْ١ۚ لَا يُجَلِّيْهَا لِوَقْتِهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؔۘؕ ثَقُلَتْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا تَاْتِيْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً١ؕ يَسْـَٔلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ 7|187

اے رسول) لوگ آپ سے قیامت کی گھڑی کے متعلق سوال کرتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا؟ کہہ دو کہ اس کا علم تو میرے پروردگار کے ہی پاس ہے اسے اس کا وقت آنے پر وہی ظاہر کرے گا۔ وہ گھڑی آسمانوں اور زمین میں بڑی بھاری ہے (وہ بڑا بھاری حادثہ ہے جو ان میں رونما ہوگا) وہ نہیں آئے گی تمہارے پاس مگر اچانک۔ لوگ اس طرح آپ سے پوچھتے ہیں جیسے آپ اس کی تحقیق اور کاوش میں لگے ہوئے ہیں؟ کہہ دو۔ کہ اس کا علم تو بس اللہ ہی کے پاس ہے۔ لیکن اکثر لوگ یہ حقیقت جانتے نہیں ہیں۔

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِيْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَيْبَ لَا سْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ١ۛۖۚ وَ مَا مَسَّنِيَ السُّوْٓءُ١ۛۚ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ وَّ بَشِيْرٌ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ 7|188

اے رسول(ص)) کہہ دو۔ کہ میں اپنے نفع و نقصان پر کوئی قدرت و اختیار نہیں رکھتا۔ مگر جو اللہ چاہے (وہی ہوتا ہے) اور اگر مجھے غیب کا علم ہوتا تو بہت سے فائدے حاصل کر لیتا اور (زندگی میں) مجھے کبھی کوئی نقصان نہ پہنچتا۔ میں تو بس (نافرمانوں کو) ڈرانے والا اور ایمانداروں کو خوشخبری دینے والا ہوں۔

هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا١ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّاۤ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىِٕنْ اٰتَيْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ 7|189

اللہ وہی ہے جس نے تمہیں ایک متنفس (جاندار) سے پیدا کیا۔ اور پھر اس کی جنس سے اس کا جوڑا (شریک حیات) بنایا۔ تاکہ وہ (اس کی رفاقت میں) سکون حاصل کرے۔ پھر جب مرد عورت کو ڈھانک لیتا ہے۔ تو اسے ہلکا سا حمل رہ جاتا ہے جسے لئے وہ چلتی پھرتی رہتی ہے اور جب وہ بوجھل ہو جاتی ہے (وضعِ حمل کا وقت آجاتا ہے) تو دونوں (میاں بیوی) اپنے اللہ سے جو ان کا پروردگار ہے دعا مانگتے ہیں کہ اگر تو نے ہمیں صحیح و سالم اولاد دے دی تو ہم تیرے بڑے شکر گزار ہوں گے۔

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَآءَ فِيْمَاۤ اٰتٰىهُمَا١ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ 7|190

مگر جب وہ ان دونوں کو صحیح و سالم فرزند عطا کر دیتا ہے۔ تو یہ دونوں اس کی عطا کردہ چیز (اولاد) میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرانے لگتے ہیں۔ اللہ اس سے بہت برتر ہے جو مشرک کرتے ہیں۔